Friday , November 24 2017
Home / مضامین / راہول گاندھی ۔ سونیا گاندھی کیخلاف کمزور مقدمہ

راہول گاندھی ۔ سونیا گاندھی کیخلاف کمزور مقدمہ

غضنفر علی خان
کانگریس پارٹی پر نہرو ۔ گاندھی خاندان کے احسانات کا اتنابوجھ ہے کہ وہ کبھی بھی خود کو اس خاندان کے افراد کے اثر و رسوخ سے آزاد نہیں کرسکتی، نہ اس کو ایسی کوشش کرنی چاہیئے۔ خاص طور پر ملک کی جنگ آزادی کے پس منظر اور پیش منظر میں تو یہ ناممکن ہے۔ ان تلخ حقائق کے باوجود بی جے پی برسراقتدار آنے کے بعد سے آج تک اس پارٹی اور اس خاندان کو رسوا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔  بی جے پی چاہتی ہے کہ صحیح یا غلط کسی طریقہ سے نہرو۔ گاندھی خاندان کی اجارہ داری کو ختم کرے۔ ایسا کرتے وقت وہ ہر مرتبہ حقائق کا سامنا کرنے سے گریز کرتی رہی اور اندھے کنویں میں چھلانگ لگاتی رہی ہے۔ اس کی تازہ مثال انگریزی  زبان کے روز نامہ ’ نیشنل ہیرالڈ‘ میں خردبرد کے اس مقدمہ سے ہوتا ہے جو ابھی تو زیر سماعت ہے۔ زیر سماعت اس لئے کہ پٹیالہ کورٹ میں جہاں سونیا گاندھی اور ان کے صاحبزادہ راہول گاندھی کو پیش ہونے کی ہدایت دی تھی جس پر دونوں نے عمل بھی کیا۔ لیکن کیا ہوا صرف دس منٹ میں عدالت نے انہیں ضمانت دے دی جس کے لئے عدالت نے دونوں کو فی کس 50ہزار روپئے کی ضمانت فراہم کرنے کا حکم دیا۔ آناً فاناً سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ضمانت فراہم کردی اور دونوں مسرور و شاداں عدالت کے باہر اگئے۔ اگر مقدمہ میں کوئی دم ہوتا اور نغلب و تصرف کے الزامات جو اُن پر لگائے گئے تھے وہ درست ہوتے تو انہیں اتنی آسانی اور پہلی ہی پیشی میں ضمانت نہیں ملتی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل سونیا گاندھی کی طرف سے بحیثیت وکیل اور ابھیشک سنگھوی کانگریس کے رکن راجیہ سبھا اور سینئر وکیل ہیں راہول گاندھی کی وکالت کی۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی آسانی سے دونوں وکلاء نے ضمانت حاصل کرلی۔ نہ صرف ضمانت حاصل کی بکلہ دونوں نے عدالت سے یہ درخواست کی کہ ان کے موکلین کی آئندہ پیشی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ ان کے کہنے کے بغیر بھی عدالت سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو حاضر عدالت ہونے سے ایسا عمل کرے گی ۔ یہ بات بھی ظاہر کرتی ہے کہ مقدمہ کتنا بودا ہے۔ کن الزامات کو بنیاد بناکر دونوں کو بی جے پی نے ہراساں کیا تھا، وہ قانون کی کسوٹی پر کتنے کھوٹے ثابت ہوئے اس بحث سے قارئین خود بھی اندازہ کرسکتے ہیں کہ کیسے جھوٹے، لغو اور بے بنیاد الزامات کے تحت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی کو مقدمہ میں اُلجھانے اور ان کی نیک نامی متاثر کرنے کی بی جے پی نے ناکام کوشش کی تھی ۔ بی جے پی کے لیڈر سبرامنیم سوامی نے یہ مقدمہ دائر کیا تھا۔ سبرامنیم سوامی کسی اور کام کیلئے ملک میں جانے پہچانے جاتے ہوں کہ نہیں سارا ملک اس بات سے واقف ہے کہ وہ فضول کاموں میں اپنی توانائی ہمیشہ ضائع کرتے رہے ہیں، وہ اپنی کسی کوشش میں کامیاب نہیں ہوتے ہمیشہ ناکامی ان کا مقدر ہوتا ہے۔ اس کیس میں بھی سبرامنیم سوامی ہی کا سب کچھ کیا دھرا ہے۔ دوسری بات جس کے لئے مسٹر سوامی بدنام ہیں اس کا تعلق نہرو ۔ گاندھی خاندان سے ان کی … عداوت ہے۔ وہ پنڈت نہرو سے لیکر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی تک اپنی عداوت اور دشمنی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سبرامنیم سوامی پڑھے لکھے ہونے کے باوجود یہ بھی سمجھ نہیں سکے کہ کس طرح بی جے پی اپنے ہر اُس کام کو ان کے ذریعہ انجام دینا چاہتی ہے جو وہ خود کرنا پسند نہیں کرتی تاکہ بدنامی کا ٹھیکرا اس کے سر نہ آئے۔

سوامی ہیں کہ ہر وہ کام بی جے پی کے لئے خود ہی انجام دیتے ہیں خاص طور پر مقدمہ بازی جو ان کے لئے نقصاندہ ثابت ہوتی ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ مقدمہ وہ ہارنے والے ہیں انہیں اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی ’ نیشنل ہیرالڈ ‘ جیسے اخبار سے جس کی اشاعت برسوں پہلے مسدود ہوچکی ہے کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھاسکتے، انہیں اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ یہ الزامات بوگس ہیں اس کے باوجود وہ کیوں کیس لڑرہے ہیں۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ کسی طرح ملک کے اہم اور معروف سیاسی خاندان کو بدنام کیا جاسکے۔ انہیں اندازہ نہیں ہے کہ سونیا گاندھی اور راہول نہیں وہ اور ان کی پارٹی بی جے پی رسوا ہورہے ہیں۔ اس کے باوجود مقدمہ چلے گا۔ عدالت میں  فریقین ایک دوسرے کے خلاف جرح بھی کریں گے کیونکہ کسی معمولی کیس میں بھی اس عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ سبرامنیم سوامی نے مقدمہ کی پہلی پیشی کے دوران سرسری طور پر سونیا ۔ راہول ضمانت کی مخالفت ضرور کی، جس زور و شور سے انہیں یہ مخالفت کرنی چاہیئے تھی وہ انہوں نے آمادہ نہیں کی۔ البتہ اپنی طبیعت کے مطابق انہوں نے عدالت سے یہ ضرور کہا کہ دونوں ملزمین کو ضمانت نہیں دی جانی چاہیئے کیونکہ اس صورت میں ماں بیٹے ملک سے فرار ہوجائیں گے۔ اس مضحکہ خیز بات پر عدالت نے غور تک نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ دونوں ملک کے اہم لیڈرس ہیں اس لئے عدالت اس قسم کے کسی استدلال کو قبول نہیں کرتی۔ چنانچہ یہی ہوا لیکن بی جے پی کی طرف سے وکالت کرنے والے سبرانیم سوامی اور پارٹی کی مخصوص ذہنیت ظاہر ہوگئی۔ خود بی جے پی کے حلقوں نے بھی اس مقدمہ میں وہ جوش و خروش ظاہر نہیں کیا جس کا مظاہرہ بی جے پی کرتی ہے۔ کیونکہ پارٹی کو بھی اندازہ تھا کہ یہ مقدمہ ایک ڈرامہ ہے اور اس کے ڈراپ سین سے سب ہی واقف ہیں۔ اس کے باوجود کیوں بی جے پی نے سبرامنیم کی حوصلہ افزائی درپردہ کی۔ صرف یہ بات کہ اپنی دشمنی اور اختلاف کو اپنے بغض و عنادکو جو پارٹی کانگریس اور بالخصوص اس خاندان سے رکھتی ہے ،

ظاہر کرنے کے لئے یہ سب کچھ کیا گیا۔ سیاسی انتقام کی جو سیاست کررہی ہے وہ پارٹی کیلئے سخت نقصان دہ ثابت ہورہی ہے۔ جتنی بار انتقامی سیاست کا داؤ بی جے پی چلے گی اس کی عوامی مقبولیت کا گراف اتنی ہی بار گررہا ہے۔ پارٹی خود اندرونی خلفشار کی شکار ہوگئی ہے۔ ابھی گروہ بندیاں منظر عام پر پوری طرح سے نہیں آئی ہیں لیکن پارٹی  دروازے پر گروہ بندیوں کی دستک ضرور سنائی دے رہی ہے۔ پارٹی کے کرتا دھرتا اور وزیر اعظم مودی کو ان مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ اپنے محبوب مشغلے ’ بیرونی ممالک کے دوروں ‘ کا لطف اٹھارہے ہیں۔ کیونکہ پارٹی کو کمزور کرنے والے عناصر پر ان کی کوئی پکڑ نہیں ہے، وہ کسی کو کسی متنازعہ بیان یا اقدام کیلئے جوابدہ نہیں کرسکتے۔ پارٹی وہی غلطی کررہی ہے جو 1977ء میں جنتا پارٹی نے کی تھی جس کے وزیر اعظم مرار جی بھائی تھے۔ جنتا پارٹی اور موجودہ بی جے پی میں یہ فرق ہے کہ سابقہ جنتا پارٹی کے پس پشت آنے والے جئے پرکاش نارائن کا دبدبہ تھا۔ اس کے باوجود پارٹی اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ٹوٹتی چلی گئی۔ حد یہ ہوئی کہ ملک میں بننے والی پہلی غیر کانگریس حکومت کا بیڑہ غرق ہوگیا اور دوبارہ انتخابات میں پھر اسی کانگریس پارٹی نے اندرا گاندھی کی قیادت میں کامیابی حاصل کی تھی جس کوجے پرکاش نارائن کی قیادت میں ان ہی کی تشکیل کردہ جنتا پارٹی نے روند کر رکھ دیا تھا۔ہوایہ تھا کہ جنتا پارٹی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد آنجہانی اندرا گاندھی کے دور کی زیادتیوں کے خلاف شاہ کمیشن بنایا تھا جس نے اندرا گاندھی کے خلاف مقدمات کی سماعت کی تھی۔ شاہ کمیشن کی طوالت پذیر کارروائیوں نے عوام کو جنتا پارٹی سے بیزار کردیا تھا کیونکہ اس وقت بھی عوام کانگریس کی عدم کارکردگی اور نااہلی کی وجہ ( خاص طور پر جون1975 میں ایمرجنسی کے نفاذ کے سبب سخت نالاں تھے) انہوں نے جنتا پارٹی کو کثرت سے ووٹ دیا تھا جیسا کہ 2014 ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو دیا ہے ۔ لیکن عوام کبھی بھی سیاسی پارٹیوں کو دائمی طور پر اقتدار نہیں دیتے اور جب بھی وقت آتا ہے اپنا دیا ہوا اقتدار چھین لیتے ہیں۔ یہی کچھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ بھی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ عوام کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ’ نیشنل ہیرالڈ ‘ اخبار کس نے خریدا تھا، کس نے اس کو کن ہاتھوں فروخت کیا تھا، اس معاملت میں کس کی منفعت ہوئی اور کون خسارہ میں رہا ؟ انہیں تو بڑھتی ہوئی مہنگائی پر روک، لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال میں بہتری، ملک سے ختم ہوتی ہوئی رواداری جیسے مسائل نے گھیررکھا ہے۔ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ یہ دیکھیں سمجھیں کہ ماضی میں کیا ہوا تھا، کون کس سے انتقام لے رہا ہے اور کیوں لے رہا ہے؟ اس انتقامی سیاست کے اثرات تو بی جے پی حکومت پر عیاں ہورہے ہیں لیکن پارٹی اس بِلّی کی طرح آنکھیں بند کرکے دودھ پی رہی ہے کہ اس کو کوئی نہیں دیکھ رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT