Thursday , June 21 2018
Home / ادبی ڈائری / راہی فدائی … جدید اردو غزل کا معتبر نام

راہی فدائی … جدید اردو غزل کا معتبر نام

علیم صبا نویدی

علیم صبا نویدی
اردو شاعری میں غزل کی صنف ہمیں ایرانی شاعری سے نصیب ہوئی ہے ۔ اس صنف کی داخلی کیفیات اور خارجی اسلوب اسی کی دین ہے ۔ ہر عہد میں اس صنف کی کشادگی اور پھیلاؤ ہی اس کی سرخروئی اور کامیابی کی روشن دلیل ہے ۔ اردو شاعری میں ’’عشق‘‘ نے بہت اہم رول ادا کیا ہے ۔ اسی عشق کے توسط سے شاعر کو حیات و کائنات کے اہم رموز و حقائق کو سمجھنے کا شعور عطا ہوا ہے ۔ دراصل ’’عشق‘‘ شاعر کے خیالات کا منبع اور اس کے تصورات کا سرچشمہ ہے ۔ عشق ہی کی بدولت شاعر کی تخلیقی قوتیں اجاگر ہوئی ہیں اور عشق ہی کی وجہ سے حسن کی دنیا بھی نورانی ہوئی ہے ۔

عشق ، جس کا مفہوم کمال قرب اور انتہائی چاہت ہے ، حقیقتاً دو خانوں میں بٹا ہوا ہے ۔ ایک شرعی یعنی پاک و مطہر اور دوسری غیر شرعی یعنی ناپاک و غیر مطہر ۔ صوفیائے کرام کے پاس عشق مطہر مظہر خداوندی ہے اور یہ بسا اوقات جلوہ الہی پر منتج ہوتا ہے ۔ راہی فدائی کے یہاں جو مظاہر عشق ہیں وہ نہایت پاکیزہ اور انتہائی شستہ ہیں وہ اس لئے کہ ان کا عشق ، عشق نبوی کا عکس جمیل ہے ۔ یہ سچ ہے کہ راہی نے عشق کے وسیلے سے صنف نعت گوئی کو بلندیاں عطا کیں اور انہوں نے اسی کو اپنی زندگی کا حاصل بنایا اور اپنے افکار و کردار کے لئے معدن و مخزن قرار دیا ۔ چنانچہ درج ذیل اشعار بطور دلیل ملاحظہ ہوں ۔
زباں پر جس کی شہ دیںؐ کا نام ہو جاری
قسم خدا کی یقیناً وہ خوش دہاں ہوگا
بیان سیرت شاہ ہدی جہاں ہوگا
پڑھے گا نعت فلک جشن عرشیاں ہوگا
قرار قلب مکین و مکاں وہی تو ہیں
سکون روح زمین و زماں وہی تو ہیں

راہی نعتیہ شاعری کی فنی نزاکتوں سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ روایات کی قید و بند میں رہ کر جدید رنگ میں نعت کہنے کے ہنر سے بھی آگاہ ہیں ۔ اسی لئے ان کا فکر و جذبہ حب رسول کی خوشبوؤں سے معمور اور دل و نگاہ جلوہ نور محمدیؐ سے آراستہ ہے ۔
دست قدرت ہی بتائے گا ہمیں کون ہے وہ
پیکر نور سے لپٹا ہے ، ردا سے پہلے
سیاہ کملی کا احساس دل میں رہنے دے
یہی سفینۂ عقبی کا بادباں ہوگا
راہی کی غزل گوئی
ارد شاعری غزل کے وجود کے بغیر بے معنی ہو کررہ جاتی ہے ، سچائی یہ ہے کہ غزل جہاں ذہن و دل کی گہرائی وگیرائی اور تہہ داری کی آئینہ دار ہے وہیں اپنے ماحول کی تہذیبی ، تمدنی اور تاریخی اقدار کی صداقتوں کا سرچشمہ بھی ۔
اے مرے دل ، کس لئے شرماگیا
حق زباں پر اتفاقاً آگیا
مکاں اک بس ہے ، صد کی کیا ضرورت
مکینوں کو ابد کی کیا ضرورت
وقت کے صیقل گرو ، اتنی نہ تم سختی کرو
ٹوٹ نہ جائے کہیں یہ ، زنگ آلود آئینہ
راہیا مور و مگس ہیں مؤدب کس قدر
آپ کیوں ہیں بے ادب ، استفادہ کیجئے
راہی کی غزلوں کے موضوعات خود اپنے روز و شب کے معاملاتی نشیب و فراز سے دور نہیں ہیں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان غزلوں کی نئی نئی زمینیں اور ان میں جنم لینے والی فکری جولانیاں انہی کے ماحول کی دین ہیں ۔

اے مزاج مشتہر ، خاکساری خوب ہے
ہے مزین تن کا گھر ، خاکساری خوب ہے
ذرا راہی کا انداز تجاہل عارفانہ اور اسلوب تغافل عالمانہ بھی دیکھئے۔

خدا ہی جانے آج وہ ہیں دور دور کس لئے
ہمارے ساتھ ہی گذشتہ کل رہے ہیں خواب میں
کہاں گم ہوگیا راہی کہ ہم نے
کھنگالیں منزلیں ، شہ راہ سب کچھ
جہاد کے لغوی معنی جد وجہد کے ہیں ۔ ہمارا جہاد اکبر یعنی سب سے بڑا جہاد وہ ہے جو ہر شخص اپنی ہی برائیوں کے خلاف جنگ کرے اور نتائج کی پروا کئے بغیر خود کی اصلاح کرلے ۔ذرا راہی کو سنیں

ڈرا رکھا تھا تم نے ہر کسی کو
اب اپنے عکس ہی سے ڈر رہے ہو
کبھی جھانکا ہے تم نے گھر کے اندر
زمانۂ عیش کے در پر رہے ہو
یقیناً ہیں سپاہی اپنے روبوٹ
انہیں راہی رسد کی کیا ضرورت
سمجھے گا کیسے آج کا سچ دعوت رسن
صدیوں پرانی ہوگئی ہے دار کی زباں

راہی کے یہاں فکر و احساس کی تازگی ، تفکر آمیزی اور موضوعات میں حقیقت آفرینی کے ساتھ ساتھ تخلیق انگیز احساساتی کیفیات بھی نمایاں ہیں ۔ ایک اچھی اور بہترین غزل کہنے کے لئے جو پاک و صاف زبان ، مضمون کی ندرت و جدت ، جذبات و احساسات کی تازگی ، تخلیقات کی سربلندی کی ضرورت ہوتی ہے وہ راہی کے کلام میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ مزید برآں ان کی غزلوں میں عربی اور فارسی زبان کی جمالیات بڑی شستہ اور دل نشیں انداز میں سانس لیتی ہوئی نظر آتی ہے ۔
تیسری آنکھ وہم کی جو کھلی
ہوئی ادراک کی تباہی خوب
وہ کیوں تھا مرے ردعمل کا متمنی
حالانکہ مجھے اس کا عمل یاد نہیں تھا
وہ پھیلے گا مثال نور عالم
مکانِ دل کو حد کی کیا ضرورت

راہی کی غزل گویا ان کی شخصیت کا ہی عکس ہے ۔ یہ عکس جب دھندلا سا ہوتا ہے تو تجسس کے ذریعہ اسے واضح کرنے کی سعی کی جاتی ہے ۔ اسی بات کو شمس الرحمان فاروقی نے یوں کہا ہے ۔’’راہی کی غزل کا جو رنگ ہے وہ ایک ایسی شخصیت کا آئینہ دار ہے جس کا جوہر تجسس ہے‘‘ ۔ راہی نے اپنی غزل کے لئے جہاں الفاظ کی شان و شوکت کو قائم بلند رکھا ہے وہاں انھوں نے معمولی سے معمولی لفظ کو ایک مقام عطا کیا ہے ۔ ان معمولی الفاظ کو برتنے سے سطحیت نہیں پیدا ہوئی ہے بلکہ شعر میں ایک طرح کا نیاپن آگیا ہے جن میں طنز تعریض کے پہلو ابھرتے ہیں۔
دل کے نہاں خانے میں اس کو چھپادیجئے
دیکھ نہ لے نکتہ بیں ، زنگ آلود آئینہ
صبح نو آپ کے کشکول سے ہوگی نہ طلوع
شب کے دریوزہ گرو خود کو سمجھتے کیا ہو

راہی کی شاعری کا ایک اور اہم ترین کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی طنز نگاری میں کہیں حشرات الارض کا اور کہیں جانوروں کا ذکر استعاراتی طور پر کیاہے ، جو اردو ادب کی تاریخ میں نہ صرف اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس طرح کے اشعار کہنے کی اولیت کا سہرا بھی انہیں کے سر جاتا ہے ۔ جس کا اعتراف برصغیر کے عظیم نقاد و شاعر شمس الرحمن فاروقی نے بھی کیا ہے چنانچہ راہی کی کلیات غزل ’’فبھا‘‘ میں بچھو ، اژدھا ، الوّ اور چیل وغیرہ ردیفوں والی غزلیں راہیں کی ایک خاص پہچان بن کر منصہ شہود پر آئی ہیں ۔ خصوصاً بچھو والی ردیف کی غزل میں شاعرانہ تخیل ایک نئے ڈھنگ سے اپنا کرشمہ دکھارہا ہے ۔ بچھو کے نام کے ساتھ نشتر زہر کا تعلق لازمی ہے ، کبھی کبھی انسان بچھو سے زیادہ مضر ثابت ہوتا ہے بلکہ اپنے ہی کرتوت سے وہ بچھو سے بھی گیا گذرا بن جاتا ہے ۔

انسان نہ ڈر بچھو
چھت پر سے اتر بچھو
تکمیل ہوس ناگن
ترغیب نظر بچھو
کہتی ہے یہ تنہائی
ہیں شمس و قمر بچھو
اپنوں سے ہوا خالی
لگتا ہے یہ گھر بچھو

راہی نے اپنی غزلوں کے بعض اشعار کو جدید تر اشعار کے خانے میں رکھا ہے ۔ ’’جدت اور جدیدیت‘‘ سے متعلق پروفیسر وحید اختر اور پروفیسر وارث علوی نے سوغات (مدیر محمود ایاز) میں جس قدر تفصیلی روشنی ڈالی تھی ان تحریروں کی روشنی میں راہی کے بہت سارے اشعار عکس ریز بھی ہیں اور بظاہر بعید از فہم بھی معلوم ہوتے ہیں۔

سورج لکھ دے اپنی کہانی
پھیلا ہے برفیلا کاغذ
جس کی خاموش مزاجی کے فسانے تھے بہت
اس کی شریانوں میں جھانکا تووہ گونگا نکلا
میرے بیان سے امکان کی توقع رکھ
برائے لطف رسولوں سے معجزات نہ مانگ
تیرا تو گریباں بھی نہیں چاک قلندر
جچتی ہے کہاں تجھ پہ یہ پوشاک قلندر
فقیر ہو کے بھی بندہ نواز ایسا تھا
کسی پہ کھل نہ سکا اس کا راز ایسا تھا
مجموعی طور پر راہی فدائی کے آسمان شاعری کے آفتاب سے نکلتی ہوئی توانا ، جدید تر شعاعیں بھرپور تمازت کے ساتھ جب دور دور تک پھیلتی ہیں تو فکر و احساس ، جذبہ اور تخیل کی کونپلیں تازہ دم ہو کر سانسیں لینے لگتی ہیں اور ان سانسوں سے نکلتی ہوئی خوشبو غزل کی کائنات کو نہ صرف معطر بنادیتی ہے بلکہ ذہن و دل کے نہاں خانے میں بصیرت کے نت نئے چراغ بھی جلادیتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT