Wednesday , May 23 2018
Home / مضامین / رجب طیب اردغان سے دشمنان اسلام پریشان

رجب طیب اردغان سے دشمنان اسلام پریشان

فیض محمد اصغر

ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک منظم سازش کے تحت افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ دشمنان اسلام دین اسلام کی حقانیت سے خائف ہیں۔ دنیا کے طول و عرض میں اگر آج کوئی مذہب تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے تو وہ اسلام ہی ہے۔ اسلام جہاں صنف نازک کو اس کے حقوق عطا کرتا ہے وہیں ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگوں کے دوران بوڑھوں، ضعیف خواتین، بچوں اور پناہ لینے والوں کو کسی قسم کی گزند نہ پہنچانے کا حکم دیا ہے۔ یہاں تک کہ درختوں کو نہ کاٹنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ ایک ایسا مذہب جس میں درختوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کو اہمیت دی جاتی ہے اس مذہب کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تعلیم دیتا ہے سراسر تعصب اور جانب داری ہے۔ مغرب میں حکومتوں اور صنعت کاروں اور دانشوروں کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ دین اسلام برائی سے روکتا ہے، نیکی کی تعلیم دیتا ہے۔ زنا اور ہم جنس پرستی کے دلدل میں پھنسے مغرب کے لئے اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو انہیں تباہی و بربادی اور ایڈز جیسی جان لیوا بیماریوں سے بچا سکتا ہے۔ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے دنیا کو طہارت کا طریقہ سکھایا۔ پاکیزگی کا درس دیا، انسان کو روحانی و باطینی طور پر پاک و صاف رہنے کی تعلیم دی۔ اسلام نے ہی سودی نظام کو حرام قرار دیتے ہوئے انسانیت پر ایک احسان عظیم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی اور دوسری اقوام جو سودی نظام کی وکالت کرتے ہیں وہ اسلام کے بلاسودی اقتصادی نظام سے پریشان ہیں کیونکہ سودی نظام میں انسانیت کا نقصان اور غیر سودی نظام میں انسانیت کی بھلائی کارفرما ہے۔ آج کل ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بعض ممالک میں سرگرم اسلام دشمن تنظیمیں اور ایجنسیاں قرآن پر اعتراض کرتے ہوئے یہ کہنے لگے ہیں کہ قرآن مجید میں ایسی آیات ہیں جن میں غیر مسلموں کے خلاف ہدایات دی گئی ہیں حالانکہ قرآن مجید نے مکاروں کی مکاری، کاذبین کی دروغ گوئی، شراب نوشی، زناکاری، چوری، غیبت، ظلم و جبر، حق تلفی، ناانصافی، بدعنوانی، رشوت ستانی غرض ہر برائی سے بچنے کی انسانوں کو تلقین کی ہے۔ قرآن مجید نے انسانیت کو پاکیزگی، امن و امان، علم و عمل کا پیغام دیا ہے۔ زندگی کے آداب سکھائے ہیں۔ دنیا کو ایک آزمائش کا مقام قرار دے کر باطینی زندگی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اسلام نے ہی انسانوں کو جانوروں پر مظالم سے روکا ہے۔ حشرات العرض کے تحفظ کے بارے میں بتایا ہے۔ غرض زندگی کے ہر لمحے کو اپنے رب العزت کے حکم کے طابع کرنے کی تعلیم دی ہے اور تمام انسانوں کو ایک ہی باپ آدم کی اولاد قرار دیا ہے۔ قرآن مجید ہر علم کا منبع و مرکز ہے اگر دشمنان اسلام کھلے دل سے قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو انشاء اللہ ان کی بند آکھیں کھل جائیں گی، عقل ٹھکانے آجائے گی ان کے اذہان و قلوب پر جو اسلام دشمنی اور گمراہی کا زنگ چڑھ گیا ہے وہ صاف ہو جائے گا، غلط فہمیاں دور جائیں گی، تاریکی چھٹ جائے گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں دشمنوں کی لاکھ کوششوں کے باوجود دشمنان اسلام قرآن مجید کے ایک زیر و زبر میں بھی تبدیلی نہیں لاسکے، یہی قرآن کا اعجاز ہے۔ دشمنان اسلام مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوکر خود کو مسلمان ظاہر کرنے والے قادیانوں کے ذریعہ بھی قرآن میں تحریف کی کوشش کررہے ہیں۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو جہاد کا حکم دیا ہے۔ دنیا کو یہ بتانا ضروری ہے کہ دین اسلام میں سب سے بڑا جہاد نفس کا جہاد ہے، لیکن دشمن جہاد سے متعلق آیات کی غلط تشریح کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو اس طرح کے فرقوں اور دشمنان اسلام سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ حال ہی میں فرانس کی 300 سے زائد مشہور و معروف شخصیتوں نے مسلمانوں پر زور دیا تھا کہ وہ قرآن مجید میں عیسائیوں اور یہودیوں کے خلاف جو آیات ہیں اس سے دستبردار ہو جائیں۔ فرانس کے ان مسلم دشمن دانشوروں کے اس مطالبہ پر عالم اسلام خاموش رہا لیکن مسلمانوں کی معمولی سی تڑپ پر تڑپ جانے والے ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے اس مطالبہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان دانشوروں کا مطالبہ ناقابل قبول اور حقارت کے قابل ہے۔ ترکی کی حکمراں جماعت کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے اردغان نے اس گروپ کو جس میں اداکار گرارڈ ڈیپارڈیو، گلوکار چارلس ازناور اور سابق فرانسیسی صدر نکولاس سرکوزی شامل ہیں قابل حقارت گروپ قرار دیا اور ان پر الزام عائد کیا کہ یہ لوگ مسلمانوں کی مقدس کتاب پر حملہ کررہے ہیں۔ میڈیا میں منظر عام پر آئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان نام نہاد دانشوروں نے ایک منشور پر دستخط کئے جس کی اتوار کو لی پیرسین نامی ایک اخبار میں اشاعت عمل میں آئی۔ بیان میں ان بے غرتوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے تعلق سے قرآن میں موجود بعض آیات سے دستبرداری اختیار کریں تاکہ کوئی مسلمان ان آیات قرآنی کے باعث جرائم کا ارتکاب نہ کرسکے۔ اردغان نے ان عقل کے اندھوں کو قرآن اور اسلام کی حقانیت کی یاددہانی کرواتے ہوئے کہا کہ کئی ایسی دوسری مقدس کتابیں ہیں جن میں متنازعہ حوالہ جات دیئے گئے ہیں۔ اگر دشمنان اسلام اُن کتابوں کا مطالعہ کریں تو یقینا وہ سب سے پہلے بائبل پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کریں گے لیکن انہیں اس کی کوئی فکر ہی نہیں ہے بس مسلمانوں اور قرآن کی پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT