Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / رجوع الی اللہ، قحط سالی اور آبی بحران سے نجات کا واحد ذریعہ

رجوع الی اللہ، قحط سالی اور آبی بحران سے نجات کا واحد ذریعہ

محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔ 11اپریل۔ آفات سماوی جیسے طوفان ‘ زلزلے ‘ قحط سالی وغیرہ اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جب گناہوں کی کثرت ہوتی ہے تو اللہ تعالی بارش آسمانوں میں روک لیتے ہیں ۔ بارش کا نہ ہونا‘ متواتر زلزلے ‘ طوفان اور ظالم حکمراں کا مسلط ہونا بھی اللہ کے عذاب میں شامل ہے۔ انسانوں کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے بارش نہ ہونے کے اثرات کا شکار معصوم بچے ‘ جانور ‘ چرند ‘ پرند سب ہونے لگتے ہیں۔ اللہ تعالی قرآن مجید میںگناہوں سے استغفار کا حکم دیتے ہوئے  ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے گناہوں سے تائب ہو گے توآسمانوں سے بارش کا نزول ہوگا۔ ملک میں جاری قحط کی صورتحال پر ماہرین موسمیات کے ساتھ کئی شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے اس بحث میں پڑ چکے ہیں کہ بارش نہ ہونے کے سبب پیدا شدہ صورتحال سے کس طرح نمٹا جائے ؟ ماہرین موسمیات‘ سائنسدانوں اور ماہرین ماحولیات سے یہ دریافت کر رہے ہیں کہ بارش نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ جبکہ دین حق نے یہ واضح کردیا ہے کہ قحط سالی در حقیقت اللہ کے عذاب کی ایک شکل ہے اور جب بندہ احکام الہی سے منہ موڑ لیتا ہے تو یہ عذاب نازل ہوتا ہے۔ ناپ تول میں کمی ‘ کذب بیانی ‘ بے حیائی ‘ دین سے دوری جیسے گناہ عظیم کے مرتکب بندوں میں جب تک احساس ندامت پیدا  نہیں  ہوتا اور وہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں رجوع ہوتے ہوئے توبہ نہیں کرتے اس وقت تک رحمت کے دروازے کھلنے کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی۔ بارش نہ ہونے کے عذاب سے نجات کا طریقہ بھی دین حق میں بتا دیا گیا ہے اور صلواۃ الاستسقاء کے ذریعہ گناہوں سے استغفار اور رحمت والی بارش کی دعاء کی تاکید کی گئی ہے۔ ہندستان بھر کی کئی ریاستوں میں قحط سالی کے سبب عوام کئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حیدرآباد میں برسہا برس سے شہریوں کو سیر آب کرنے والے دو بڑے ذخائر آب پوری طرح سے خشک ہوچکے ہیں ‘ جو ذخائرآب شہریوں کی پانی کی ضرورت کو پورا کیا کرتے تھے وہ اب مسطح زمین کی مانند نظر آرہے ہیں۔ حمایت ساگر و عثمان ساگر سے پانی کی سربراہی کا سلسلہ تو بند ہو چکا ہے لیکن اگر آئندہ موسم برسات میں بھی رحمت خداوندی نازل نہیں ہوتی ہے تو ایسی صورت میں حالات انتہائی ابتر ہوجانے کا خدشہ ہے۔ دیہی علاقوں میں زندگی گزار رہے عوام جن پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں شہری علاقوں میں ابھی اتنی تکالیف کا سامنا نہیں ہے چونکہ شہری عوام کا انحصار بورویل پر ہو چکا ہے لیکن محکمہ آبرسانی و مال کیجانب سے تیار کردہ رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے چونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر زمین سطح آب میں بھی مسلسل گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے جو مستقبل میں بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیدار حمایت ساگر و عثمان ساگر کی خشکی کو تالاب کے شکم میں تعمیر کردہ عمارتوں کو ذمہ دار گردانتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بارش کی صورت میں بھی تالاب تک پانی پہنچنے کے راستوں میں بنائی گئی عمارتوں کے باعث یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ گنڈی پیٹ کے نام سے معروف عثمان ساگر کی جملہ سطحذخیرہ1790فیٹ ہے جو کہ 3.90 ٹی یم سی پانی کی گنجائش کا حامل ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح حمایت ساگر کی جملہ سطح ذخیرہ 1763.50فیٹ ہے اور اس ذخیرہء آب میں 2.96ٹی یم سی پانی کی گنجائش موجود تھی۔ دونوں ذخائر آب کی تعمیر کا مقصد شہر حیدرآباد کو پینے کے پانی کی سربراہی تھا لیکن اب یہ ذخائر آب خشک سالی کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ ان  ذخائر آب میں جن علاقوں سے پانی پہنچتا تھا اب وہاں کنکریٹ کے جنگل آباد ہونے لگے ہیں۔ بارش کے نہ ہونے اور ذخائر آب کے خشک ہوجانے کی وجوہات کا جائزہ لینے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اس موضوع پر سیاست کرنے کے بجائے اگر ہم اپنے گناہوں کی توبہ کیلئے اللہ سے رجوع ہو جائیں تو ممکن ہے کہ گجرات ‘ مہاراشٹرا و دیگر ریاستوں کو درپیش آبی مسائل جیسی صورتحال سے ہم محفوظ رہ سکتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT