Sunday , January 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / رحمتِمصطفیﷺ

رحمتِمصطفیﷺ

مولانا غلام رسول سعیدی

مولانا غلام رسول سعیدی

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہیں۔ عالم موجودات کے ذرہ ذرہ کو حضور کی رحمت شامل ہے۔ نبوت و رسالت ہو یا امامت و ولایت، سب کا سبب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت ہے۔ مؤمنوں کو حضورﷺ کی رحمت سے ایمان ملا اور کفار کو دنیا میں حضورﷺ کے سبب امان ملی۔ یوں تو سب نعمتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت اور آپ کی وساطت سے ہی ملتی ہیں، لیکن جو نعمتیں آپﷺ نے اپنے ہاتھوں سے بانٹیں، جو رحمتیں آپﷺ خود تقسیم فرماتے رہے، ان کی شان ہی کچھ اور ہے۔
کفار مکہ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیسا ظالمانہ سلوک کرتے تھے۔ آپﷺ تبلیغ کرتے تو دلسوز آوازے کستے، راستے میں کانٹے بچھا دیتے، دوران عبادت گندگی ڈال دیتے۔ ابوسفیان آپﷺ پر چڑھائی کرکے لشکر لایا، وحشی نے آپﷺ کے محبوب چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کیا، ہندہ نے ان کا جگر نکال کر دانتوں سے چبایا، یہ سارے ظالم اور ستم ایجاد لوگ جب فتح مکہ کے بعد مقہور اور مغلوب ہوکر آپﷺ کے سامنے پیش ہوئے، جب یہ مجبور اور آپﷺ ان سے ہر طرح کا انتقام لینے پر قادر تھے، اس وقت آپﷺ نے فقط اتنا فرمایا: ’’میں تمھیں کوئی ملامت نہیں کرتا، جاؤ خدا تمھیں معاف کرے، وہ بہت رحم کرنے والا ہے‘‘۔ (سورہ یوسف۔۹۲)
حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی خاطر بڑی قربانیاں پیش کی تھیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بڑا پیار تھا۔ ان کی شہادت پر حضورﷺ بہت آزردہ ہوئے۔ ان کا قاتل وحشی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر کہتا ہے: ’’میں اسلام لانا چاہتا ہوں، مگر ایک شرط ہے‘‘۔ آپﷺ نے پوچھا ’’کیا؟‘‘۔ کہنے لگا: ’’اللہ تعالی فرماتا ہے: ’’جو لوگ شرک نہیں کرتے نہ ناحق کرتے ہیں اور نہ زناکاری اور جو ایسا کریں انھیں سخت عذاب ہوگا اور قیامت کے دن ان کا عذاب دُگنا کردیا جائے گا اور

وہ اس میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے‘‘ (سورۃ الفرقان۔۶۸،۶۹) وحشی نے کہا ’’میں نے یہ سب گناہ کئے ہیں، اگر میں اسلام لے آؤں تو کیا میری بخشش ہو جائے گی؟‘‘۔ اسی وقت قرآن کی آیت نازل ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ عز و جل فرماتا ہے: مگر جو شخص ان گناہوں کے بعد توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور اس کے عمل نیک ہوں تو اللہ تعالی اس کی پچھلی برائیوں کو نیکیوں سے تبدیل کردے گا‘‘۔ (سورۃ الفرقان۔۷۰)
وحشی کہنے لگے ’’یہ تو اسلام لانے سے پہلے گناہوں کی معافی ہے، اگر اسلام لانے کے بعد مجھ سے کوئی گناہ ہوا تو اس کی بخشش کیسے ہوگی؟‘‘۔ فرمایا: اللہ تعالی فرماتا ہے: ’’اللہ جس کے لئے چاہے گا شرک کے علاوہ تمام گناہ بخش دے گا‘‘۔ (سورۃ النساء۔۱۱۶)
وحشی کہنے لگے: ’’اور اگر خدا میرے لئے بخشش نہ چاہے تو پھر اس کی کیا گارنٹی ہے کہ خدا مجھے بخش دے گا؟‘‘۔ فرمایا: اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’آپ کہہ دیجئے! اے میرے گنہگار بندو! خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اللہ تعالی تمہارے تمام گناہ بخش دے گا‘‘۔ (سورۃ الزمر۔۵۳)
وحشی نے کہا: ’’اب مجھے اطمینان ہو گیا ہے اور میں اسلام قبول کرتا ہوں‘‘۔ غورتو کیجئے! کتنی بحث و تکرار کرکے اور کس قدر ناز اٹھاکر اس شخص کو کلمہ پڑھایا ہے، جو آپﷺ کو سخت ترین اذیت پہنچانے والا اور آپ کے محبوب ترین چچا کا قاتل تھا۔

TOPPOPULARRECENT