Saturday , December 15 2018

رحمن کے بندے

مرسلہ

مرسلہ
یوں تو رحمن کے بندے سب ہی ہیں، مگر اس کے محبوب اور پسندیدہ بندے وہ ہیں، جو شعوری طورپر بندگی اختیار کرکے اپنے اندر ایسی صفات پیدا کرتے ہیں، جو رحمن کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔ وہ اپنے آپ کو آقا نہیں بلکہ غلام سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کے جن کی دوستی ہوتی ہے، ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا یقین اُترجاتا ہے، وہ سراپا عجز و تواضع بن جاتے ہیں، خدا کا خوف ان سے بڑائی کا احساس چھین لیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں رحمن کے بندوں کی بہت سی خصوصیات بیان فرمائی ہیں، جیسے وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے، وہ اپنے وعدہ کو پورا کرتے ہیں، وہ زمین پر اَکڑکر نہیں چلتے، اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، وہ بے حیائی کے قریب نہیں جاتے اور جھوٹ سے اپنا دامن بچاتے ہیں۔ زندگی کے سارے معاملات میں خدا کا حکم ایک طرف بلاتا ہے اور نفس کی خواہش دوسری طرف بلاتی ہے، مگر رحمن کے بندے نفس کی خواہشات کے پیچھے نہیں جاتے۔ رحمن کے بندوں کو دنیا کے ساز و سامان اور اس کی رونقیں متاثر نہیں کرتیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وہ لوگ جنھیں غافل نہیں کرتی کوئی تجارت نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد سے‘‘۔ (سورۂ نور۔۳۷)
رحمن کے بندوں نے اپنی جان اور اپنے مال کو اللہ کے ہاتھ فروخت کردیا ہے، وہ اس حیاتِ چند روزہ کے فائدوں کے طلبگار نہیں ہیں، بلکہ ان کی نگاہ آخرت کی ابدی زندگی پر جمی ہوتی ہے۔ ہر معاملے میں راہ حق تلاش کرتے ہیں، اندھے بہروں کی طرح نہیں رہتے۔ رحمن کے بندے دن میں اللہ کے احکام پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی راتیں اللہ کے آگے سجدوں اور اس کے خوف میں گزرتی ہیں۔ وہ حصول جنت کے ساتھ ساتھ اللہ کے مقرب بندے بننا چاہتے ہیں۔
ان کی عبادتیں ان میں غرور نہیں پیدا کرتیں، وہ اپنے تقویٰ اور عمل کے زور پر جنت لینے کا دعویٰ نہیں کرتے، بلکہ ان کا سارا بھروسہ اللہ کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت انھیں اللہ کا داعی بنادیتی ہے، وہ اپنے دشمنوں کے لئے بھی ہدایت کی دعا کرتے ہیں، ان کی نظریں آسمان کے اوپر رہتی ہیں، ان کو عرش والوں سے شرم آتی ہے فرش والوں سے نہیں۔

TOPPOPULARRECENT