Wednesday , September 26 2018
Home / مذہبی صفحہ / رزق حلال تمام عبادات اور معاملات کی روح

رزق حلال تمام عبادات اور معاملات کی روح

اللہ رب العزت نے اپنے کلام میں بڑی وضاحت کے ساتھ رزق حلال کے بارے میں احکام نازل فرمائے ہیں اور احادیث مبارکہ میں حضور اکرم ﷺ نے بڑی وضاحت کے ساتھ رزق کے بارے میں ارشاد فرمایا ہیکہ رزق حلال تمام عبادات اور معاملات کی روح ہے ۔ ’’اے پیغمبر پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اعمال صالحہ کرو ‘‘ (سورۂ المومنون ) جب تک رزقِ حلال نہ کمایا جائیگا اور کھانا پینا اور پہننا حلال مال سے نہ ہوگا کسی عبادت اور تسبیح کا کوئی روحانی فائدہ ہرگز ہرگز حاصل نہیں ہوگا۔ پاکیزگی کے تعلق سے ارشاد ہے : ’’اے ایمان والو ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھاؤ‘‘ ، ’’اور کھاؤ جو اﷲ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمایا ہے بشرطیکہ وہ حلال اور پاکیزہ ہو ‘‘ ۔ ( القرآن )
حدیث شریف میں بہت سی تاکیدیں ہیں ۔ حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے : ’’حلال کی تلاش ایک فرض کے بعد دوسرا فرض ہے‘‘ ۔ طلبِ حلال کو مسلمان پر واجب قرار دیاگیا ہے جو شخص حلال روزی کماتا ہے اُس کادل نور سے معمور ہوتا ہے ۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا : ’’جو گوشت حرام سے پلا وہ جنت میں نہیں جائیگا ‘‘۔ آپؐ نے فرمایا کہ حرام تو حرام شک والی چیز کو بھی ہاتھ نہیں لگانا چاہئے ۔ پھر فرمایا : ’’انسان اُس وقت تک تقویٰ کے مقام کو نہیں پہنچتا جب تک اُس کام کو جس میں بُرائی ہو چھوڑ نہ دے‘‘ ۔ ارشاد فرمایا : ’’اﷲ تبارک و تعالیٰ طیب مال ہی قبول فرماتا ہے ، جو شخص حرام مال کماتا ہے پھر اُس حرام مال سے صدقہ کرتا ہے تو وہ قبول نہیں ہوتا اور اگر وہ خرچ کرتا ہے تو اُس میں برکت نہیں ہوتی اور اگر وہ مرنے کے بعد حرام مال چھوڑتا ہے تو یہ آخرت کیلئے اُس کا مال جہنم کی آگ ہے ۔ حرام خور کی دعا قبول نہیں ہوگی ۔ تقویٰ کی پہلی سیڑھی حلال روزی ہے ۔صوفیاء کرام فرماتے ہیں دُعا کے دو پر ہیں ایک ’اکل حلال ‘ دوسرا ’صدق مقال‘۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT