Sunday , December 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / رزق وروزی کی تحصیل کے مشروع اسباب ووسائل

رزق وروزی کی تحصیل کے مشروع اسباب ووسائل

رزق روزی کی بآسانی فراہمی اس میں برکت اورکشادگی میں صلہ رحمی کا بھی بڑارول ہے، اوراس بارے میں کثیراحادیث واردہیں، عزیزواقارب کے ساتھ احسان وسلوک کرنے،انکی مالی واخلاقی اعتبارسے مددونصرت کرنے اورانکوراحت پہنچانے کوصلہ رحمی کہتے ہیں۔سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کاارشادپاک ہے’’جوچاہتاہوکہ اسکی رزق وروزی میں وسعت وفراخی ہواوراسکی موت مؤخرہوتواسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے‘‘۔(رواہ البخاری/۵۵۲۶ ) اس حدیث پاک کی روسے رشتہ داروں کے ساتھ احسان وسلوک کی وجہ رزق میں وسعت وبرکت ہوتی ہے،لفظی فرق کے ساتھ اسی مفہوم کی اورایک حدیث پاک(۱۹۲۵) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، پہلی روایت میں ’’من سرہ‘‘ اوردوسری روایت میں’’ من احب‘‘ مذکورہے۔ ان دونوں حدیثوں پر امام بخاری نے’’ باب من بسط لہ فی الرزق بصلۃ الرحم ای بسبب صلۃ الرحم‘‘کا عنوان باندھا ہے ۔ان احادیث پاک سے مقصودیہ ہے کہ صلہ رحمی کرنے والوں کو اپنے رزق وروزی میں بڑی برکت محسوس ہوگی،یہ بھی کہ انکی رزق وروزی کا مسئلہ اس قدرکشادہ اورآسان ہوگاکہ وہ پر سکون زندگی کزاریں گے ،رزق میں ایسی وسعت وفراخی نصیب ہوگی کہ اسکی وجہ وہ کبھی پریشان نہیں ہونگے۔ عمرمیں زیادتی سے مرادیہ ہے کہ اللہ سبحانہ تقدیرمیں اسکی ایک متعین عمرلکھ دیں گے پھریہ بھی تقدیر میں لکھا ہوگاکہ یہ بندہ صلہ رحمی کریگا اوراسکی وجہ اللہ سبحانہ مزیداسکی عمرمیں اضافہ کریں گے۔بعض شارحین نے یہ بھی مرادلیا ہے کہ صلہ رحمی کرنے والے کو خوشی ومسرت،اطمینا ن وسکون کی زندگی نصیب ہوگی،زندگی کے اوقات میںایسی برکت ہوگی کہ وہ طاعت وعبادات کے اہتمام ،خلق خداکی دلجوئی وصلہ رحمی کی برکت سے خوب خوب خیر جمع کرلیا ہوگا۔ توفیق الہی نصیب ہوگی جسکی وجہ اعمال صالحہ پرمداومت ہوگی،ظاہرہے اعمال صالحہ اختیارکرنے سے باطنی طہارت وپاکیزگی کانصیب ہوجانا،اوراللہ سبحانہ کی رضا کو پیش نظررکھتے ہوئے بندوں کے ساتھ احسان وسلوک کا برتاؤ کرنایہ وہ امورہیں جس سے انسان کو اسکی زندگی میں بڑی برکت محسوس ہوگی،زندگی کی آخری لمحات میں اسکویہ احساس ہوگاکہ اس نے بھرپورراحت وآرام کی زندگی گزاری ہے ،زندگی سے جاتے ہوئے اسکوکوئی قلق واضطراب نہیں رہے گا۔سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺفرماتے ہیں اپنے نسب کا علم حاصل کروکہ جسکی وجہ تم صلہ رحمی کرسکو،کیونکہ صلہ رحمی رشتہ داروں میں محبت پیداکرتی ہے ،مال میں اس سے برکت اورعمرمیں زیادتی ہوتی ہے ۔ (رواہ احمد/۸۸۶۸)سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں جس کسی کویہ با ت خوش کرتی ہوکہ اسکی عمردرازہو،اسکے رزق میں وسعت ہواوربری موت سے وہ محفوظ رہے تو چاہیے کہ وہ تقوی اختیارکرے اوررشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ (رواہ احمد/۱۰۲۱۳)سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے مروی ہے جوکوئی اپنے رب سے ڈرتاہو،عزیزواقارب کے ساتھ صلہ رحمی کرتاہواسکی عمرمؤخرکی جاتی ہے اوراسکے مال میں برکت دیجاتی ہے اوراسکے رشتہ داراس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔

(مصنف ابن ابی شیبہ /۲۵۳۹۱)ان احادیث پاک میں سیدنا محمدرسول اللہ ﷺنے صلہ رحمی کے بے شمارفوائد بیان فرمائے ہیں ،اسکی وجہ پاکیزہ اوربہترزندگی کے اسباب مہیا ہونے کا ذکرفرمایا ہے،رزق وروزی میں وسعت ،عمرمیں زیادتی وبرکت ،بری موت سے حفاظت کی بشارت دی ہے ، اورصلہ رحمی کو رشتہ داروں سے محبت کا سبب قراردیا ہے ۔’’الارحام ‘‘سے مرادرشتہ دارہیں جن سے نسبی تعلق ہوتاہے ان رشتہ داروں کا وارث ہونا ضروری نہیں ،غیروارث رشتہ داربھی صلہ رحمی کے مستحق ہیں ،اسی طرح انکا محارم ہونا بھی شرط نہیں غیرمحرم رشتہ داروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کی ہدایت ہے۔ الغرض صلہ رحمی کی وجہ رزق روزی میں فراخی ووسعت اورعمرمیں زیادتی وبرکت نصیب ہوتی ہے ظاہرہے ایمان والوں کا شارع علیہ السلام کے ارشادپر ایمان واعتقاد ضرورہے ۔لیکن عملی طورپر اس میں کمی ضرورمحسوس ہوتی ہے کیونکہ امت مسلمہ کے اکثرخاندان بکھرے ہوئے ہیں ،صلہ رحمی تو دورکی بات ہے نفسانی اختلافات نے ملنے جلنے اورسلام وکلام کا راستہ بھی بند رکھا ہے ۔اس پر خصوصی توجہ کرنے وتعلقات اوررشتہ داریوں کوجوڑے رکھنے اوراسکونبھانے کیلئے صلہ رحمی اختیارکرنے کی ضرورت ہے۔صلہ رحمی کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں حسب موقع رشتہ داروں سے ملاقات کی جائے،ہدیہ وتحفہ انکی خدمت میں پیش کیا جائے ،انکے احوال سے باخبررہنے،انکی خبرگیری کرنے کی فکرکی جائے،محتاج ہوں توانکی مالی مددکی جائے،مال داررشتہ داروں سے رأفت ومہربانی کا معاملہ کیاجائے ،رشتہ داروں میں جوبڑے ہوں انکا احترام کیا جائے،اسی طرح گھرآئے ہوئے مہمان کا احترام اوراسکا خوش دلی کے ساتھ استقبال اوراسکی عمدہ ضیافت ومہمان نوازی کا فرض نبھا یا جائے،عزیزواقارب کی خوشیوں میں خوشدلی کے ساتھ شرکت ،رنج وغم کے مواقع ہوں توانکے ساتھ مواساۃ اورہمدردی ، انکے کیلئے دعاؤں کا اہتمام ،اورانکی طرف سے اپنے سینہ کوکدورت ،کینہ و عداوت سے پاک رکھنا،اوراگروہ دعوت دیں تواسکوقبول کرنا،بیماروں کی عیادت کرنا ،کسی کی موت ہوگئی ہوتو لواحقین کیلئے عمدہ تعزیت وتسلی،علاوہ ازیں ہدایت کے راستہ کی طرف انکودعوت دینا،معروف کا حکم کرنا،منکرات سے انکوبچانے کی سعی کرنا،یہ بھی کہ حسب ضرورت انکی مالی مددکرنا،انکی کسی خاص ضرورت پر انکے معاون ومددگاربن جانا،انکے ضررکودفع کرنا،اورجب ملاقات ہوتوخندہ پیشانی وبشاشت قلبی سے ملاقات کرناوغیرہ ان جیسے سارے امورصلہ رحمی کے تعریف میںآتے ہیں۔ انفاق فی سبیل اللہ سے بھی رزق روزی میں برکت آتی ہے اللہ سبحانہ کا ارشادہے’’تم جوبھی اللہ کے راستہ میں خرچ کروگے اللہ سبحانہ اسکا پوراپورا بدلہ عطا فرمائیں گے وہ سب سے بہتر روزی دینے والے ہیں۔(السباء/۳۹)
اس آیت پاک میں اللہ نے ’’فہویخلفہ‘‘ فرما یا ہے۔’’اخلاف ‘‘کے معنی عوض وبدلہ دینے کے ہیں یہ بدلہ دنیا میں بھی دیا جا سکتاہے اورآخرت میں بھی کیونکہ ہرمخلصانہ عمل کا بدلہ اخروی زندگی میںدیا جانا تو یقینی ہے،ابن کثیررحمہ اللہ نے اس آیت پاک کی تفسیرمیں لکھاہے ’’تم جب جب بھی اللہ سبحانہ کی حکم کی تعمیل میں خرچ کروگے یعنی جن چیزوں میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا جن مواقع پر مال خرچ کرنے کی اباحت ہے ان میں مال خرچ کرنے سے اللہ سبحانہ اسکا اچھا بدل دنیا میں عطا فرمائیں گے اورآخرت میں اس پر اجروثواب بھی ملے گا ‘‘۔ سورہ بقرہ آیت/۲۶۷ میں اللہ سبحانہ نے ارشادفرمایا ہے کہ اے ایمان والواپنی پاکیزہ کمائی سے اورزمین سے تمہارے لئے ہماری اگائی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو،اسکی اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے شیطان تمکوفقرومحتاجی کا خوف دلاتا ہے اوربے حیا ئی کا حکم دیتا ہے اوراللہ سبحانہ اپنی بخشش و مغفرت اورفضل ومہربانی کا وعدہ فرماتا ہے ،اللہ سبحانہ وسعت والااورجاننے والاہے ۔اس آیت پاک میں’’فضلا‘‘ سے شارحین نے رزق روزی مرادلی ہے یعنی جائزراستہ میں مال کے خرچ کرنے سے رزق وروزی میں اضافہ ہوتا ہے ،ابن عباس رضی اللہ عنہمافرما تے ہیں دوچیزیں اللہ کی طرف سے اوردوچیزیں شیطان کی طرف سے ہیں،شیطان خرچ کرنے پر محتاجی کا خوف دلاتاہے اوراللہ سبحانہ اپنی مغفرت اوراپنے فضل کا وعدہ فرماتاہے،مغفرت سے گناہوں کی معافی اورفضل سے رزق میں زیادتی مرادہے۔یعنی مغفرت سے گناہوں کی بخشش کے ساتھ بندوں کی کوتاہیوں کی دنیا وآخرت میں ستر پوشی کرنا مرادہے۔اورفضل سے مراددنیاوی رزق میں وسعت وکشادگی عطاکرنا اوراخروی نعائم سے سرفرازکرناہے۔(تفسیرطبری ۵/۵)

حدیث قدسی میں ارشاد پاک ہے ’’قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ اَنْفِقْ اُنفَقْ علیک‘‘(مسنداحمد/۷۲۹۸) تم خرچ کروتم پر خرچ کیا جائیگا ،حضرت بنی پاک ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’اے بلال تم خرچ کروعرش والے سے مال میں کمی کا خوف مت کرو‘‘اسکوامام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ (۱۳۹۳)آپ ﷺ کا ارشا دپاک ہے ’’ بندے جب صبح کرتے ہیں توانکے درمیان دوفرشتے نازل ہوتے ہیں ان میں سے ایک کی دعایہ ہوتی ہے ’ اللہم اعط منفقا خلفا‘ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اسکا بدلہ عطا فرما۔اوردوسرے فرشتہ کی دعایہ ہوتی ہے کہ اے اللہ جومال کوروک لے یعنی جائزراستوں میں حسب ضرورت خرچ نہ کرے اسکے مال کو تلف کردے۔(سنن الکبرللبیہقی/۷۶۰۵)اس حدیث پاک سے جائزراستہ میں خرچ کرنے والوں کیلئے اسکے اچھے عوض وصلہ کی اوراللہ سبحانہ و تعالی کے فضل کی بشارت ہے ،جائزراستہ میں مال خرچ کرنے سے انسانی قلو ب میں خرچ کرنے والے کے مقام کی رفعت اور محبت پیداہوجاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT