Thursday , December 14 2017
Home / مذہبی صفحہ / رزق کا احترام

رزق کا احترام

کائنات عالم کا سارا نظام اللہ سبحانہ کے دست قدرت میں ہے ، زمین وآسمان کی تخلیق سے پچاس ہزارسال قبل مخلوقات کی تقدیرلکھ دی گئی ہے جس میں مخلوقات کا رزق اورانکی روزی بھی شامل ہے، تمام مخلوقات کاروزی رساں وہی ہے ،مخلوقات میں انسانوں کواللہ نے اشرف بنایا ہے اورانکی روزی بھی اللہ نے انکی پیدائش سے ہزاروں سال پہلے مقدرفرما دی ہے ۔البتہ کس کو روزی کشادہ دی جائے اورکس کی روزی تنگ کی جائے یہ اللہ سبحانہ کی مشیت وقدرت پر موقوف ہے۔(الرعد:۲۶)رزق میں کشادگی یا تنگی اللہ کے ہاں محبوبیت کا معیار نہیں بلکہ یہ امتحان کی غرض سے ہے، الغرض ہر ایک مخلوق کی روزی کا وہی کفیل وکارسازہے،ارشادباری ہے ’’زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے ذی روح ہیں ان سب کی روزی اللہ کے ذمہ ہے‘‘(ہود:۶)زمین پر چلنے والی ہر مخلوق انسان ہوکہ جن،چرندہوکہ پرندیہاں تک کہ خشکی،تری میں رہنے والی ہر مخلوق کووہ اپنی شان کے مطابق روزی بہم پہنچاتاہے۔(قرطبی) مخلوقات کا شمارانسان کے بس کی بات نہیں انگنت مخلوقات اورمخلوقات میں درندو چرندبھی ہیں اورپرندبھی،اورحشرات الارض بھی ،مکھی،مچھرجیسی چھوٹا جرم رکھنے والی مخلوقات کے ساتھ شیر،چیتا اورہاتھی جیسے بڑاجسم رکھنے والی مخلوقات بھی ۔سمندری مخلوقات میں چھوٹی بڑی کئی مخلوقات ہیں یہاں تک کہ مگرمچھ کے علاوہ سمندر کی دنیا میں اوربھی مخلوقات ہیں جوبڑے بڑے جہازوں کو اپنا نوالہ بناسکتی ہیں،اس کارخانہ قدرت میں عجیب عجیب مخلوقات کے مظاہرہیں۔ اللہ سبحانہ نے  ان سب کے روزی کا ذمہ لیا ہے،رات ودن کی ہر ساعت وہر گھڑی اس کاخوان کرم بچھا ہواہے جس سے ہر مخلوق اپنی اپنی روزی پاتی ہے۔پتھروں کے اند ربھی مخلوقات کا پایا جانا ثابت ہے اوران کی روزی کا بھی اللہ سبحانہ نے انتظام کر رکھا ہے۔

کسی کا رزق رک سکتا نہیں خلاق اکبرسے     صفی پتھرکے کیڑے کو غذاملتی ہے پتھرسے
رزق اللہ سبحانہ کا انعام ہے انسانوں کو ان کی شرافت وبزرگی کے معیار کے مطابق عمدہ واعلی رزق  مل رہا ہے ،رزق کا ایک وسیع مفہوم ہے جو اللہ سبحانہ کے سارے نعائم کو شامل ہے۔اوراسکے مخصوص مفہوم  میں رزق کہتے ہیں اس شیٔ کو جو کسی ذی روح کی غذابنے جس سے اسکی روح کو بقاء ملے اوراسکے جسم کی نشوونماء ہو۔رزق کے بارے میں اللہ سبحانہ نے انسانوں کو ہدایت دی ہے’’کہ اے لوگوںزمین میں جتنی بھی حلال وپاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤاورپیواورشیطان کے راستہ پر مت چلو‘‘۔(البقرہ:۱۶۸)اورفرمایااے ایمان والو! جوپاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ،پیواوراللہ تعالی کا شکرکرواگرتم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو(البقرہ :۱۷۲)

اس آیت پاک میں شریعت کی حلال کردہ تمام چیزیں کھانے کی اجازت ہے کیونکہ اللہ نے انکوحلال کیا ہے ،لیکن شرط یہ ہے کہ انکا حصول بھی    حلال وجائزراہ سے ہو،طیب سے مراد نفس شیٔ کا پاکیزہ وحلال ہونا اورپھراسکی تحصیل بھی جائزوحلال راستہ سے ہونی ضروری ہے ، اللہ کے اس انعام پر بندگان خداکو شکربجالانا چاہیے اسکی تاکیدبھی اس آیت پاک میں ملتی ہے ،یہ بات بھی واضح ہے کہ اللہ سبحانہ کی حلال کردہ اشیاء ہی پاک وطیب ہیں ۔جن کو اللہ نے حرام قراردیاہے وہ کسی حال میں پاک وطیب نہیں ہوسکتیں ۔یہاں اعتباراسلامی حکم کا ہے نہ کہ نفس کی چاہت ورغبت کا ،کوئی شیٔ خواہ کتنی ہی نفس کو مرغوب ہواللہ سبحانہ کی چاہت کے آگے اسکا کوئی اعتبارنہیں ،اللہ سبحانہ کی معرفت اوراس پر ایمان لانے اوراسکے احکام کے آگے سرتسلیم خم کرلینے کے بعد ایک مسلمان خواہشات نفسانی کے آگے کبھی ہتھیارنہیں ڈال سکتا۔ایک بندئہ مومن کیلئے اشیاء خوردونوش میں حلت وحرمت کے احکام کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ اسکے آداب کا لحاظ کا رکھنا بھی ضروری ہے،حیوان بھی کھاتے ،پیتے ہیں اورانسان بھی ۔اس لئے ان کے درمیان فرق وامتیازاسلام نے انسانوں کو بخشا ہے انسانوں کے سارے کام انسانیت پر مبنی ہوتے ہیںانسانوں کوچونکہ تمدن بخشا گیا ہے اس لئے تہذیب وسلیقہ ،شائستگی ووقارانکے ہر کام سے جھلکتا ہے ۔،پھر انسانوں میں ایمان والے بھی ہیں اورایمان سے محروم بھی، ایمان والوں کو جوآداب سکھائے گئے ہیں وہ مزیدانکے درمیان خط امتیازکھینچتے ہیں۔ اسلامی تہذیب یہ ہے کہ کھانے سے پہلے اپنے ہاتھوں اورمنہ کو دھولیا جائے ،اللہ کا نام لیکرکھانا شروع کیا جائے،پلیٹ کے کنارے سے کھانا کھایا جائے،حدیث پاک کی روسے برتن کے درمیانی حصہ میں برکت نازل ہوتی ہے چونکہ درمیانی برکت درمیان سے کناروں کی طرف اترتی ہے ۔دسترخوان کا اہتمام بھی سنت ہے آج کل کھڑے کھڑے کھانے کا رواج بھی عام ہوتا جارہا ہے جواسلامی تہذیب کے مغائرہے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ان اہتمامات کے ساتھ کھانے پینے میں اسراف سے اجتناب بھی لازم ہے،اللہ سبحانہ نے اس سے منع فرما یا ہے۔ ارشاد باری ہے ’’اللہ کے رزق سے کھاؤاورپیوااسراف مت کرواورحد سے تجاوز مت کروکہ وہ اسراف کرنے والوںکو پسندنہیں فرماتا‘‘۔(الاعراف:۳۱)اسراف کی کئی توجیہات شارحین نے بیان فرمائی ہے ان میں ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ ایک انسان اپنا مال بلاضرورت اوربے جا طورپر خرچ کرے،اکثرافراد ضرورت سے زیاد ہ مال خرچ کرنے کو اسراف سمجھتے ہیں جبکہ اسراف صرف مال خرچ کرنے میں ہی میںنہیںبلکہ ہر شیٔ میں اسراف کا اعتبارہے یہاں تک کہ کھانے پینے میں بھی اسکی شریعت نے حد مقررکی ہے،ایک انسان بلاضرورت کھانے پینے کی کئی ایک اشیاء جمع کرلے اوراس سے پورا استفادہ نہ کرے نہ کسی غریب کو اس سے فائد ہ پہنچائے بلکہ کوڑے دان کے حوالہ کردے یہ بھی اسراف ہے ۔ایک حدیث پاک میں وارد ہے کہ ’’انسان جوچاہے کھائے پیئے لیکن اسراف اورتکبرسے اپنے آپ کو بچائے‘‘ اسی لئے تکیہ سے ٹیک لگاکرکھانا پسندیدہ نہیں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ٹیک لگاکریا کسی چیزکے سہارے بیٹھ کرکھانا نوش نہیں فرماتے تھے،کھانا کھاتے ہوئے بھی بندگی وعاجزی کا اظہارہو،کھانا کھا تے ہوئے اگرکبھی کوئی لقمہ ہاتھ سے گرجائے تو اسے ویسے ہی چھوڑنہ دیا جائے بلکہ اس لقمہ کو اٹھاکر صاف کرنے کے بعد نوش کرلیا جائے،

(بخاری :روی عن جابررضی اللہ عنہ) گرے ہوئے لقمہ کوچھوڑدینا استغناء اورتکبرکی علامت ہے ،انسان تو محتاج ہے اسکی احتیاج اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ متواضع اورمنکسرالمزاج ہو،احتیاج اورتواضع انسان کو قدردانی سکھاتے ہیں۔نیچے گرے ہوئے لقمہ کو صاف کرکے کھالینا قدردانی ہے،حضرت حذیفہ الیمان رضی اللہ عنہ ملک فارس پہنچے سرداران فارس کے ساتھ ایک دفعہ کھانے کا اتفاق ہوا دوران طعام لقمہ انکے ہاتھ سے گرگیا تو اسے اٹھالیا اورکھانے کیلئے اسکوصاف کرلیا حاضرین میں سے کسی نے انھیں ٹوکا اورکہا کہ سردران فارس اسے دیکھ لیں گے تو کیا کہیں گے؟ اس پرانھوں نے اپنی ناراضگی کا اظہارکیا اورسب کے سامنے اس لقمہ کو صاف کرکے نوش کرلیا اورکہا  ’’ أأترک سنۃ حبیبی لہٰولاء الحمقاء‘‘کیا میں عقل کے ان محرو موں کی وجہ اپنے حبیب ﷺ کی سنت کو چھوڑدوں؟(لباس الرسول ﷺ والصحابۃ والصحابیات رضی اللہ عنہم:۱۶۲) ۔حقیقت یہ ہے کہ نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنے والے اورآپ ﷺ کی سنت سے محبت کی وجہ نسبت وتعلق رکھنے والے دنیا داروں کی ملامت کی کوئی پروا نہیں کرتے،نہ ان سے وہ کوئی خوف کھاتے ہیں ،سنت کی اتباع وپیروی میں کوئی چیزانکے لئے مانع نہیں ہوتی ۔ بادشاہوں کا دربار ہو کہ مالداروں کا دسترخوان ہر جگہ انکونبی رحمت ﷺ کی سنت محبوب ہوتی ہے ،اسلامی تہذیب وتمدن انکو عزیزہوتا ہے، غیراسلامی تہذیب کبھی انکو مرعوب نہیں کرسکتی۔مامون الرشیدکا دسترخوان ہے مشہورمحدث ہدیہ بن خالد رحمہ اللہ  دسترپر موجود ہیں کھانے سے فراغت کے بعد کہ دسترخوان پر گرے ہوئے ریزے چن چن کر کھا رہے ہیں مامون نے جب یہ دیکھا تو حیرت زدہ ہوکرد  دریافت کیا کہ کیا آپ ابھی سیرنہیں ہوئے؟ تو جواب میں آپ نے حدیث پاک سنائی کہ’’ دسترخوان پر گرے ہوئے رزق کے ذرات اٹھاکر کھانے والوں کو کبھی مفلسی اورفاقہ کا خوف نہیں رہیگا‘‘ ۔پھرفرمایا میں نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺکی سنت پر عمل کررہا ہوں ،ہدیہ بن خالد رحمہ اللہ کے عمل اوراس عمل کی توجیہ سے واقف ہوجانے کے بعد مامون الرشید نے متاثرکرہوانعام واکرام سے نوازا۔موجودہ دورمیں دعوتوں کے اہتمام میں دوڑ لگی ہوئی ہے ،ہر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی فکرمیں لگاہواہے ،کئی طرح کے پخت کا انتظام کیا جاتا ہے ،اکثرمدعوحضرات بھی دسترپر سجی ایک سے زائد اشیاء اپنی پلیٹ میں ڈال لیتے ہیں لیکن وہ ساری اشیاء کھانہیں سکتے نتیجہ میںبہت سی اشیاء پلیٹ میں رہ جاتی ہیں،یہ بھی سنا گیا ہے کہ پلیٹ صاف کرکے کھانا تہذیب نو کے خلاف ہے اس وجہ سے بھی کچھ افراداپنی پلیٹوں میں کھانے پینے کی اشیاء بچاکراٹھ جاتے ہیں ،غیراسلامی تہذیب سے مرعوبیت کی یہ غیراسلامی فکربھی قابل اصلاح ہے ۔ الغرض دستراٹھانے والے پلیٹ میں بچی ہوئی اشیاء خوردونوش کو دسترپر اونڈیل دیتے ہیں پھروہ غذائی اشیاء پھینک دی جاتی ہیں ۔حدیث پاک میں ارشاد ہے’’اکرمواالخبز‘‘ روٹی کا اکرام کرو! اس حدیث پاک میں روٹی کے اکرام سے مراد کھانے پینے کی ساری اشیاء کا احترام مقصود ہے ۔موجودہ دورمیں رزق کی بڑی بے احترامی دیکھی جارہی ہے ، خاندان کے ذمہ داروں کا فرض ہے کہ وہ اس پر کڑی نظر رکھیں کہ ان کے گھررزق کی بے احترامی نہ ہو یا تو گھر کے افراد اس رزق کو استعمال کریں بصورت دیگراسکو کسی غریب ومستحق تک پہنچادیں،اگروہ اس قابل بھی نہ ہوتو پھرحیوانات یا پرندوں کی ضرورت اس سے پوری کی جائے، اسی طرح دعوتوں کا اہتمام کرنے والوں کوبھی ان امورکا لحاظ کرنا چاہیے۔

TOPPOPULARRECENT