Tuesday , December 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / رسول اللہﷺ کی دعائیں

رسول اللہﷺ کی دعائیں

بلاؤں کی سختی، بدبختی، بری تقدیر، دشمنوں کی ہنسی اور طعنہ زنی، فکر و غم، قرض، مخالفین کا غلبہ، کم ہمتی، کاہلی، بخالت، بزدلی، کھوسٹ عمر، فتنہ جہنم، فتنہ قبر، فتنہ دولت، فتنہ دجال، مفلسی، محتاجی، غیر مفید علم، بے خشوع دل، خواہشات نفس، ہوا و ہوس، حرص و آز، زوال نعمت، اختتام عافیت سے، ناگہانی عذاب سے، ناگہانی موت سے، اللہ کی ہر ناخوشی اور ناراضی سے، شقاق سے، نفاق سے، برے اخلاق سے، بری بیماریوں سے، برص سے، جذام سے، بھوک سے، فاقہ سے، جنون سے، بددیانتی سے وغیرہ وغیرہ اور اسی طرح کی بے شمار چیزوں سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی پناہ مانگی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثبت اور منفی دعاؤں سے احادیث کے دفتر بھرے ہیں۔ آپﷺ نے اللہ تعالی سے دنیا و آخرت کا ہر خیر مانگا ہے اور دنیا و آخرت کے ہر شر سے آپﷺ نے پناہ مانگی ہے۔ ان ہی دعاؤں کو دیکھ کر اور سن کر ایک صحابی نے عرض کیا تھا: ’’یارسول اللہ! آپ بکثرت دعائیں فرماتے ہیں، ان دعاؤں کو یاد کرنا اور یاد رکھنا ہمارے بس میں نہیں۔ یارسول اللہ! آپ کوئی ایسی دعا بتا دیجئے جو مختصر اور جامع ہو‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تم یوں دعا کیا کرو: ترجمہ: یااللہ! میں تجھ سے ہر وہ خیر مانگتا ہو جو تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ سے مانگا تھا اور میں ہر اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جس سے تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری پناہ مانگی تھی۔ ایک توہی تو ہے جس سے مدد چاہی جائے، مرادوں اور مقاصد تک پہنچنا صرف تیرے ہی کرم پر موقوف ہے (برائی سے) پلٹنے کی طاقت اور (نیکی) کرنے کی قوت بس اللہ ہی (کی توفیق اور مدد) سے مل سکتی ہے‘‘۔
شیطان نے اللہ تعالی سے حشرت تک زندہ رہنے کی مہلت مانگی تو اللہ تعالی نے اس کو حشر تک کی مہلت نہیں دی، صرف ایک ’’وقت معلوم‘‘ تک کی مہلت دی۔ مفسرین کا یہ خیال بالکل درست ہے کہ یہ مہلت پہلی صور تک ہے، جس کے بعد سب مر جائیں گے، شیطان بھی مر جائے گا، لیکن یہ مہلت بھی بہت طویل ہے۔ جب اس کو اتنی لمبی مہلت مل گئی تو بدبخت حضور حق میں گستاخ ہو گیا اور اپنی گمراہی کا الزام باری تعالی پر رکھ کر کہا اور قسم کھاکر کہا کہ ’’اب میں دنیا میں اولاد آدم کے لئے دلچسپی اور دلکشی پیدا کردوں گا اور سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا، مگر تیرے وہ بندے میرے قابو میں نہیں آئیں گے جنھیں تونے اپنے لئے خالص کرلیا ہے‘‘ (سورۃ الحجر۔۳۹،۴۰) اس کا مطلب یہ ہے کہ ابلیس نے اولاد آدم کو دو گروہوں میں بانٹ دیا، ایک وہ جنھیں وہ گمراہ کردے گا اور دوسرا وہ جن کو اللہ نے اپنا بنالیا ہوگا۔ پھر اللہ تعالی نے بھی ابلیس کی اس تقسیم سے اتفاق کیا اور فرمایا: ’’میرے بندوں پر تیرا زور نہیں چلے گا، تیرا زور تو صرف تیرے پیروکار گمراہوں پر چل سکے گا‘‘ (سورۃ الحجر۔۴۲) یہ وہ کون خدا کے بندے ہیں، جن پر ابلیس کا زور نہیں چلے گا؟۔ یہ ہوں گے صراط مستقیم پر چلنے والے، ایاک نعبد وایاک نستعینکہہ کر اسی کے ہو رہنے والے، اسی سے مدد چاہنے والے، اسی کی پناہ میں آجانے والے۔ اسی لئے تو جب بندہ اللہ تعالی کی پناہ مانگ لیتا ہے تو ابلیس کہتا ہے کہ اس بندے نے میری کمر توڑدی۔
جب کوئی برا خیال آئے یا کسی گناہ کا داعیہ پیدا ہو یا کوئی وسوسہ دل میں گزرے تو ’’اعوذ باللّٰہ من الشطین الرجیم‘‘ یا ’’یااللّٰہ اعصمنی من الشیطان‘‘ (اے اللہ! مجھے شیطان سے محفوظ رکھ) کہہ کر اللہ کی پناہ میں آجانا چاہئے اور ہر روز اللہ تعالی سے یہ دعا بھی کریں:
’’یا اللہ! مجھے اور میرے متعلقین کو، دوست احباب کو آج کے شب و روز کے شرور سے ہر طرح کے آفات و سانحات سے، بیماریوں سے، سنگین حالات سے، لوگوں کی ایذا رسانیوں سے، ہر طرح کی پریشانیوں سے، نفس و شیطان کی شرارتوں سے، حاسدوں کے حسد سے، ظاہری اور باطنی فتنوں سے، میری اور میرے اہل و عیال کی، میرے عزیز و اقارب کی حفاظت فرما۔ آمین‘‘۔
جب کوئی خطرہ محسوس کریں تو ’’یاحی یاقیوم برحمتک استغیث‘‘ پڑھ کر اللہ تعالی کی پناہ میں آجائیں۔ جب کوئی فکر اور پریشانی لاحق ہو تو ’’ایاک نعبد وایاک نستعین‘‘ پڑھتے رہیں، یہ بھی استعاذہ ہے، ان شاء اللہ تعالی پریشانی سے نجات مل جائے گی اور اطمینان قلب حاصل ہوگا۔
’’استعاذہ‘‘ بھی ’’استغفار‘‘ کی طرح نہایت آسان مجاہدہ ہے، لیکن اس کے فوائد بے شمار ہیں، صرف توجہ کی ضرورت ہے۔ اس سے تعلق باللہ مستحکم ہوتا ہے، راحتیں حاصل ہوتی ہیں، پریشانیاں دور ہوتی ہیں، زندگی پاکیزہ اور آسودہ ہو جاتی ہے۔ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ استعاذہ و استغفار کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ (آمین) (اقتباس)

علم کا نفع
انسانوں کا فرشتوں سے امتیاز صرف علم کی وجہ سے ہے۔ علم صفت الہٰی ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان اور کائنات کی تخلیق کا جب ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا کہ ’’میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں‘‘۔ اس پر فرشتوں نے عرض کیا: ’’اے اللہ! تو انسان کو کیوں پیدا کرنا چاہتا ہے، حالانکہ ہم تیری عبادت میں مصروف رہتے ہیں‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے انسان اور فرشتوں کے درمیان ’’امتیازِ علم‘‘ کا اظہار فرمایا، جس کا فرشتوں کو اعتراف کرنا پڑا۔
عبادت مخلوق کی صفت ہے اور علم خالق کی صفت ہے۔ علم کے ساتھ عمل ہو تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ علم وہ خاص صفت ہے، جس کی بنا پر انسان کو خلیفہ کا تمغہ دیا گیا۔ انسان کا علم جتنا بڑھتا جائے گا، اس کا ایمان اتنا ہی قوی ہوتا جائے گا۔ لہذا علم والوں کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے علم کے ذریعہ لوگوں کے دِلوں کو منور کریں، تاکہ دنیا میں ذکر و عمل کی کیفیت پھیلے اور لوگ اپنے رب سے رجوع ہوں۔ (مرسلہ)

TOPPOPULARRECENT