Friday , January 19 2018
Home / اضلاع کی خبریں / رسول اکرمؐ کی تعلیمات کو ترک کرنے پر اُمت مسلمہ کو زوال

رسول اکرمؐ کی تعلیمات کو ترک کرنے پر اُمت مسلمہ کو زوال

بیدر۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی وزیر برائے حج و اطلاعات و انفراسٹرکچر الحاج آر روشن بیگ نے انہیں ایک اور مرتبہ غسل کعبہ میں شرکت کی سعادت سے سرفراز فرمانے پر اللہ کی بارگاہ میں شکر بجالاتے ہوئے کہا کہ خلوص و للٰہیت کے ساتھ رضا الٰہی کے مقصد سے عازمین حج کی خدمت کا صلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تیسری مرتبہ غسل کعبہ میں حاضری

بیدر۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی وزیر برائے حج و اطلاعات و انفراسٹرکچر الحاج آر روشن بیگ نے انہیں ایک اور مرتبہ غسل کعبہ میں شرکت کی سعادت سے سرفراز فرمانے پر اللہ کی بارگاہ میں شکر بجالاتے ہوئے کہا کہ خلوص و للٰہیت کے ساتھ رضا الٰہی کے مقصد سے عازمین حج کی خدمت کا صلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تیسری مرتبہ غسل کعبہ میں حاضری دینے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے جامع مسجد و مسلم چیاریٹیبل فنڈ ٹرسٹ کی جانب سے سٹی جامع مسجد میں بعد نماز جمعہ منعقدہ اجتماعی شادیوں کی تقریب اور تہنیتی جلسہ میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ اس خوش نصیبی پر وہ اللہ کے لئے بے انتہا ممنون و مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کعبتہ اللہ کے اندر داخل ہوتے ہی عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور بغیر آنسو کے کوئی بھی خوش نصیب بندہ اس مقدس گھر سے باہر نہیں نکل پاتا۔ انہوں نے بتایا کہ 1998ء میں پہلی غسل کعبہ میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ اس کے بعد 2004ء میں دوسری مرتبہ امسال تیسری مرتبہ غسل کعبہ میں حاضری دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے جامع مسجد و مسلم چیاریٹیبل ٹرسٹ کے تمام عہدیداران کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے ان کی عزت اور حوصلہ افزائی کی۔ جامع مسجد بنگلور سٹی کے خطیب و امام و مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے وزیر موصوف آر روشن بیگ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ قبل ازیں ٹرسٹ کے صدر جناب مقبول احمد اور سکریٹری عتیق احمد نے عبا پہنا کر خادم الحجاج آر روشن بیگ کو تہنیت پیش کی۔ اس سے قبل بنگلور سٹی کے خطیب و امام مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے دولہا دلہنوں کو اپنی نصیحت بھری تقریر میں کہا کہ مسلمان وہ قوم ہے جس کی حیات عصمت سرخ روئی و شادابی صرف اور صرف نبی آخرالزماںؐکے لائے ہوئے دین میں ہے جب تک یہ دین اس امت میں کامل طور پر رہا یہ قوم زندہ رہی۔ حاکم بنی رہی۔ اس کا رعب و دبدبہ ساری دنیا میں پھیلا ہوا تھا جس دن سے امت نے اپنے نبیؐ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا، اسی دن سے اس کا زوال شروع ہوگیا۔ اب دوبارہ اس کو واپس لانے کیلئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ اس پر محنت ہوکہ یہ امت اپنے نبی کی تعلیمات کو ہرکام سے مقدم رکھ کر چلے اور کہا کہ خواتین معاشرے کے بنانے میں جو کردار اور رول ادا کرسکتی ہیں کوئی دوسرا اس کی برابری نہیں کرسکتا۔ اسی سے ان کی تعلیم و تربیت کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، نیز آپ نے بتایا کہ شادی بیاہ کرنا اور گھر گرہستی کی زندگی گذارنا اگرچیکہ بظاہر ایک دنیوی فعل معلوم ہوتا ہے مگر اسلام کی نظر میں درحقیقت وہ ایک عبادت ہے لیکن غیرقوموں سے میل جول اور مختلف سماجوں کے تصادم اور ٹکراؤ کی بناء پر اس کا اصل حلیہ ہی بدل کر رہ گیا ہے۔ اسلامی شریعت کی رو سے نکاح ایک آسان ضابطہ ہے مگر ہم نے ایک تو اپنی ناواقفیت اور لاپرواہی کی بناء پر اور پھر غیرقوموں کی تقلید میں اسے ایک مشکل ترین مسئلہ بناکر رکھا ہے۔ واضح ہوکہ جامع مسجد سٹی بیت المال کے زیراہتمام و نکاح منعقد ہوئے۔ اجلاس کے مہمان خصوصی الحاج آر روشن بیگ نے ان اجتماعی شادیوں میں شرکت کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھا اور دولہا و دلہنوں کیلئے تنیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اجلاس کی صدارت جناب مقبول احمد صدر جامع مسجد نے کی۔ مولانا محمد مقصود عمران کی دعاؤں کے ساتھ اجلاس و بحسن و خوبی اختتام کو پہنچا۔ شرکاء مجلس میں ٹرسٹیان جامع مسجد کے علاوہ عاقدین کے رشتہ دار اور مصلیان کرام کثیر تعداد میں شریک رہے۔ جناب محمد عتیق احمد سیکریٹری جامع العلوم جامع مسجد، نائب سیکریٹری جناب سید نورالامین انور، نائب صدر جناب سید مرتضی حسین عرف غفران، انٹرنل، آڈیٹر عبدالغفور، جناب نور احمد ٹرسٹی جامع مسجد، محمد ظفراللہ، جناب محمد اشفاق ٹرسٹی، محمد افسر ٹرسٹی وغیرہ شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT