Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / رشتوں کا دوبہ دو پروگرام مسلم معاشرہ کی اصلاح کیلئے وقت کی اہم ضرورت

رشتوں کا دوبہ دو پروگرام مسلم معاشرہ کی اصلاح کیلئے وقت کی اہم ضرورت

جہیز، پرتکلف دعوتیں غیر اسلامی، سیاست کے دو بہ دو پروگرام قابل ستائش۔ ڈاکٹر شبستان غفار (کشمیر) و دیگر خواتین کا خطاب

حیدرآباد 15 نومبر (دکن نیوز) ڈاکٹر شبستان غفار ڈائرکٹر و صدرنشین آل انڈیا کانفیڈریشن برائے خواتین (نئی دہلی) نے کہاکہ معاشرہ کی اصلاح میں خواتین سب سے زیادہ مؤثر رول ادا کرسکتی ہیں۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں جہیز، لین دین اور دیگر بُرائیاں دراصل ہمارے تہذیبی میل جول کا نتیجہ ہے جبکہ اسلام نے ان تمام بُرائیوں کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ وہ آج یہاں ایس اے ایمپرئیل گارڈن ٹولی چوکی میں ادارہ سیاست اور میناریٹی ڈیولپمنٹ فورم کے زیراہتمام منعقدہ 50 ویں دوبدو ملاقات پروگرام کو بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب تھیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتے طے کرتے وقت انھیں حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ اور حضرت فاطمہؓ کی مثالوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے جنھوں نے اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر شبستان نے کہاکہ ادارہ سیاست نے رشتے طے کرنے کی جو تحریک شروع کی ہے وہ قابل ستائش ہے اور اس تحریک کو ہندوستان بھر میں رائج کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ کیرالا میں اپنی بچی کا جہیز جوڑنے کی خاطر ایک باپ کو خلیجی ملکوں میں کام کرتے کرتے اپنی صحت کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اسی طرح بہار میں بھی جہیز کی لعنت نے سینکڑوں مسلمانوں کی معیشت کو برباد کردیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے عورت کو جائیداد میں اُس کا حق دلوایا ہے اور نکاح پر شوہر کے لئے لازم کیا گیا کہ وہ اپنی بیوی کو مہر ادا کرے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری خواتین عہد کریں کہ وہ جہیز، اسراف اور اس طرح کی لعنتوں کو بالکلیہ طور پر ترک کردیں اور ایک صحت مند اسلامی معاشرہ قائم کرنے میں حصہ لیں۔ محترمہ ظہیر فاطمہ ناظمہ شعبہ خواتین جماعت اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ شریعت اسلامی نے والدین پر ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ اپنے لڑکے و لڑکی کے نکاح کے لئے موزوں رشتوں کا انتخاب کریں اور اس سلسلہ میں پیارے نبی ﷺ کی رہنمائی و ہدایات و رہبری کو مشعل راہ بنائیں۔ انھوں نے کہاکہ رشتے قائم کرنے کے لئے ایک دوسرے کے حالات اور احساسات کا بھی خیال رکھا جانا چاہئے۔ ایسی شرائط عائد نہ کی جائے جس سے والدین کے لئے تکلیف دہ صورتحال پیدا ہوجائے۔ انھوں نے کہاکہ آج کل حرص و ہوس اور دولت کی لالچ میں لوگ رشتے طے کررہے ہیں اور کچھ ہی عرصہ میں رشتے ٹوٹ رہے ہیں۔ ایسی صورتحال ملت اسلامیہ کے لئے انتہائی شرمناک ہے۔ محترمہ ظہیر فاطمہ نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ لڑکی کے انتخاب میں دینداری کو اولین ترجیح دیں اور ظاہر داری، صورت شکل کو نظرانداز کریں بلکہ انتخاب کے لئے یہ مقصد کارفرما ہو کہ ہر نیک سلیقہ کار اور سعادت مند بہو گھر آئے اگر یہ معیارات قائم کرلئے جائیں تو پھر ازدواجی زندگی خوشحال اور پُرسکون ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ دنیا کا سب سے پہلا رشتہ ازدواجی رشتہ تھا۔ اس طرح دنیا میں رشتہ داری کا آغاز ہوا۔ اسلام نے مرد و زن کے رشتہ کو نہایت مقدس و اہم قرار دیا ہے اس لئے اس رشتہ کو برقرار رکھنے اور آئندہ نسلوں تک اخلاق و کردار شرافت کو قائم رکھنے کے لئے والدین ذمہ داری سے کام لیں۔ اُنھوں نے جہیز کے مطالبہ اور پرتکلف دعوتوں کو غیر اسلامی و غیر اخلاقی قرار دیا۔ صدر جلسہ نے کہاکہ اب تک ہم غفلت کا شکار رہے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو فراموش کرتے رہے جس کا انجام نہ صرف چند خاندان بلکہ پورا مسلم معاشرہ بھگت رہا ہے۔ انھوں نے دوبدو ملاقات پروگرام کو مسلم معاشرہ کی اصلاح کے لئے نہایت اہم اور وقت کی ضرورت قرار دیا۔ محترمہ ظہیر فاطمہ نے آخر میں نہایت رقت انگیز دعا کی۔ محترمہ شریفہ آمنہ نے نہایت عمدگی سے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ محترمہ یاسمین بیگم کی قرأت کلام پاک و ترجمانی سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ محترمہ خدیجہ سلطانہ نے شکریہ ادا کیا۔ جناب ایم اے قدیر نائب صدر، میر انورالدین، سید الیاس پاشاہ، عابدہ بیگم، کوثر جہاں، لطیف النساء، رئیس النساء، سیدہ محمدی اور کئی کونسلرس اور والینٹرس نے نہایت عمدگی سے کونسلنگ اور انتظامات کی ذمہ داری کو انجام دیا۔ دوبدو پروگرام میں پروفیسر معین انصاری، ڈاکٹر شاہدہ انصاری اور کئی معززین نے شرکت کی۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے جناب محمد معین الدین صدر فیڈریشن آف ٹولی چوکی کالونیز اور ان کے اسٹاف کے تعاون و اشتراک کا شکریہ ادا کیا۔ جناب ایم اے قدیر نائب صدر ایم ڈی ایف نے رجسٹریشن کاؤنٹر کی نگرانی کی اور تمام انتظامات کا جائزہ لیا۔

جھلکیاں
٭ سیاست اور ایم ڈی ایف کا 50 واں دوبدو ملاقات پروگرام نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔
٭ اس پروگرام میں تقریباً 5000 خواتین نے شرکت کی جن میں مضافات اور اضلاع سے آئی ہوئی خواتین بھی شامل ہیں۔
٭ صرف خواتین کے لئے مختص کردہ اس پروگرام میں مرد حضرات کا داخلہ ممنوع تھا تاہم مرد حضرات باب الداخلہ کے باہر بڑی تعداد میں انتظار کرتے ہوئے نظر آئے۔
٭ جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست صبح سے ہی مسلسل انتظامات کا جائزہ لے رہے تھے۔
٭ انجینئرنگ لڑکوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ اس کے علاوہ پوسٹ گریجویٹ اور گریجویٹس کے خواہشمند لڑکیوں کے سرپرست کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔
٭ دوبدو ملاقات پروگرام میں ڈاکٹر شبستان غفار ڈائرکٹر آل انڈیا کانفیڈریشن برائے خواتین نے شرکت کی۔ وہ کشمیر سے جناب ظہیرالدین علی خان کی دعوت پر حیدرآباد آئی ہیں۔ اُنھوں نے اس دوبدو پروگرام کے طریقہ کار پر اظہار مسرت بھی کیا۔
٭ ٹولی چوکی مین روڈ پر دوبدو پروگرام کی وجہ سے کچھ دیر تک ٹریفک میں خلل دیکھا گیا۔
٭ دوبدو پروگرام تقریباً 5 بجے شام اختتام پذیر ہوا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT