Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / رشتوں کے انتخاب میں لڑکی کی خوبصورتی سے زیادہ باطنی خوبصورتی پر توجہ ضروری

رشتوں کے انتخاب میں لڑکی کی خوبصورتی سے زیادہ باطنی خوبصورتی پر توجہ ضروری

۔82 ویں دوبہ دو پروگرام سے جناب ظہیرالدین علی خان ‘ عظمی ناہید ‘ پروفیسر معین انصاری ‘ شاہدہ انصاری و دیگر کی مخاطبت

حیدرآباد ۔ 18 فبروری ( سیاست نیوز) رشتوں کے انتخاب کا یہ معاملہ اللہ نے اپنے ہاتھ لیا ہے اور جو خاندان لڑکی کی پیدائش اور اس کی تعلیم و تربیت اور اس کی شادی کسی اچھے گھرانے میں کر دیتا ہے تو وہ رب کے حضور اجر و ثواب کا مستحق ہوگا ۔ اس لئے اسلام نے نکاح کو بڑی اہمیت دی ہے ۔ جب شوہر اور بیوی ایک معاہدہ کے تحت اپنی زندگی کا آغاز کرتے ہیں تو اس کے ٹوٹنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ ان خیالات کا اظہار محترمہ عظمیٰ ناہید (ممبئی) نے ادارہ سیاست اور سیاست ملت فنڈ کے زیر اہتمام 82 ویں دو بہ دو ملاقات پروگرام سے کیا ۔ جو رائیل ریجنسی گارڈنس ‘ آصف نگر روبرو پٹرول پمپ منعقد ہوا ۔ کمسن قاری حافظ محمد فیضان کی قرات اور حافظ سید طارق کی نعت شریف سے پرگرام کاآغاز ہوا ۔ سماجی کارکن محترمہ عظمی ناہید نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے ادارہ سیاست اور سیاست ملت فنڈ کو مبارکباد پیش کی اور کہاکہ انہوں نے دوبہ دو پروگرام کے ذریعہ لڑکیوں و لڑکوں کی شادیوں کے لئے رشتوں کے لئے والدین کے لئے آسانیاں پیدا کر دی ۔ انہوں نے اس طرح کے پروگرام ملک بھر میں کروانے کا مشورہ دیتے ہوئے جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست اور جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر کو مبارکباد پیش کی جنکی انتھک جدوجہد اور محنت کے نتیجہ میں آج یہ پروگرام عالمی حیثیت اختیار کرچکا ہے ۔ انہوں نے اسلام میں نکاح کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہاکہ جو شخص اپنے نفس کے خاطر نکاح کرے اور اس کے تمام معاملات کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی خودشنودی کے لئے کرے تو اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے درمیان محبت و الفت پیدا کرتے ہوئے ان کی کامیاب اور پاکیزہ زندگی گذارنے کا وعدہ اور بشارتیں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نکاح ایک عہد ہے اور جب کوئی زوجین اس عہد میں بندھ جاتے ہیں تو اس بندھن سے انہیں علحدہ نہیں کیا جاسکتا اور کہا کہ حدیث کی رو مرد اور عورت ایک دوسرے کا لباس ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح لباس جسم کی ہرچیز کو ڈھانکتا ہے اس طرح مرد کا اور عورت یعنی شوہر اور بیوی کا کام ہے کہ وہ اپنے عیوب پر پردہ پوشی کرے اور پاکیزہ زندگی گذارے تاکہ اس کے اثرات بچوں کی زندگی پر پڑسکے ۔ پروفیسر معین انصاری چیرمین بورڈ آف نیوٹریشن پالمریونیورسٹی (امریکہ) نے سیاست اور ملت فنڈ کو ان کے 82 ویں دوبہ دو ملاقات پروگرام کے شہر اور اضلاع میں منعقد کرنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ بیرون ممالک امریکہ اور کینڈا میں یہ پروگرام مقبولیت حاصل کرتے جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لڑکی کے انتخاب میں خوبصورتی کو معیار بناجاتا ہے جب لڑکی کی ظاہری خوبصورتی سے زیادہ باطنی خوبصورتی پر دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔ اس لئے کہ کسی بھی انسان کا باطن پاک و صاف ہو تو وہ اپنے اور اپنے گھر کو جنت بنا سکتا ہے ۔ انہوں نے اپنے دل اور ذہن کو پاکیزہ و صاف رکھنے کی طرف نئی نسل کو متوجہ کیا اور یہ دونوں صحیح سلامت رہیں گے تو سرزد ہونے والے اعمال میں خوبصورتی پیدا ہوگی ۔ ڈاکٹر یاسمین عسکر (کنیڈا) نے سیاست اور ملت فنڈ کی جانب سے دوبہ دو پروگرام پر اپنی نیک تمناؤں کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ رشتوں کے جوڑے کے ضمن میں جو لوگ اپنی اپنی چالیں چلے ہیں اس سے زد پہنچی ہے ۔

انہوں نے والدین پر زور دیا کہ لڑکی کے انتخاب میں تقوی کو مدنظر رکھیں اس کے لئے اگر لڑکی باخلاق نہ ہو مگر وہ تعلیمیافتہ ہو تو یہ رشتہ مناسب نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی والدین اپنے لڑکے یا لڑکی کا رشتہ طئے کر رہے ہوں وہ یہاں اپنے لڑکے یالڑکی کے خیالات سے واقفیت حاصل کریں اس لئے کہ انہیں ہی زندگی گذار نا ہے ۔ اور جب لڑکی یا لڑکے کے عین مطابق رشتہ طئے پاتا ہے وہ زندگی کامیاب زندگی ہوسکے گی ۔ محترمہ شاہدہ انصاری (امریکہ) نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے ارشادات میں رشتوں کے طئے کرنے کا فیصلہ کریں گے تو زندگی میں سکون اور معاشرہ کی خرابیاں دور ہوسکے گی ۔ انہوں نے کہاکہ آج جہیز و لین دین کی بہتات ہے اس لئے والدین جو مطالبات کو پورا کرنے سے قاصر ہے یہاں تک کہ انہیں اپنی جائیدادوں کو فروخت کرنا پڑ رہا ہے ۔ اب تو حالت یہ ہے کہ ماڈل اور کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلم گھرانوں میں ٹی وی اور فلمی اداکاروں کی نقل کرتے ہوئے ان کی جیسی زندگی گذارنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے جو دراصل اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ اگر اسلامی طور طریق کے مطابق رشتے انجام پائیں گے تو گھر آنے والی نئی لڑکی اس گھر کو جنت بنا کر چھوڑ ے گی اس لئے ضروری ہے اخلاق و کردار ‘ صوم و صلوٰۃ اور قرآن و حدیث کا علم رکھنے والی لڑکی کا انتخاب کریں ۔ جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے ادارہ سیاست و ملت فنڈ کی جانب سے ہونے والے اس دو بہ دو ملاقات پروگرام کی تفصیلات سے واقف کراوتے ہوئے کہاکہ اب 82 ویں دو بہ دو پروگرام ہوچکے ہیں اور اس کے ذریعہ سالانہ 5 تا 6 ہزار لڑکیاں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوتی ہیں ۔ انہوں نے اب اس پروگرام کو حیدرآباد ‘ ملک کی تمام ریاستوں کے اضلاع کے بیرونی ممالک امریکہ ‘ کینیڈا ‘ آسٹریلیا ‘ سعودی عرب دوحہ قطر ‘ دوبئی اور دیگر ممالک میں پروگرام سے آغاز سے لیکر اختتام تک سیاست کے فیس بک ‘ اسکیپ اور یو ٹیوپ پر راست مشاہدہ کرسکتے ہیں ۔

جس کی کافی پذیرائی کی جا رہی ہے ۔ اور ایک وقت آئیگا کہ اس پروگرام کے ذریعہ دنیا بھر سے ہندوستان کے شہروں کو جوڑا جائیگا۔ ایس ایم بلال اسٹرینگ کمیٹی ممبر اور پلاننگ کمیشن (دہلی) نے اس دو بہ دو ملاقات پروگرام کی کامیابی پر جناب ظہیرالدین علی خان کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ پروگرام ایک شناخت بنا چکا ہے ۔ انہوں نے شادیوں میں اسراف اور زیادہ سے خرچ پر اول فہرست میں نام حیدرآباد کے آنے پر کہا کہ ایسے پروگرام اس کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ شادیوں میں فضول خرچی کے بناء مسائل پیدا ہوں گے اس لئے اس میں کمی پیدا کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ جناب زاہد فاروقی نے پروگرام کی کارروائی چلائی۔جناب سید خالد محی الدین اسد کو ارڈینیٹر پروگرام نے بتایاکہ اس پروگرام کا آغاز 10 بجے سے 4-30 بجے شام تک جاری رہا۔ والدین اور سرپرستوں کی بے پناہ ہجوم کے باعث رائیل ریجنسی گارڈنس اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کر رہاتھا ۔ انہوں نے بتایاکہ آج اس دو بہ دو پروگرام میں لڑکیوں کے 400 اور لڑکوں کے 125 سے زائد رجسٹریشن کئے گئے ۔ جس میں تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیوں کے علاوہ دیگر لڑکے و لڑکیاں شامل ہیں ۔ اس دو بہ دو پروگرام میں یہ بھی دیکھا گیا کہ والدین اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے انتخاب میں ایک دوسرے سے بائیو ڈاٹاس اور فوٹوز کا مشاہدہ کرتے ہوئے تبادلہ خیال کیا ۔ اس کے علاوہ جو والدین بیرونی ممالک برسرروزگار ہیں انہوں نے بھی اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے فوٹوز اور بائیو ڈاٹاس کو اس پروگرام میں رجسٹریشن کروایا اور ساتھ آندھرا و تلنگانہ کے علاوہ دیگر ریاستوں کے اضلاع سے بھی والدین نے اس پروگرام میں خصوصی طورپر شرکت کی ۔ اس موقع پر اعزازی مہمان کی حیثیت سے جناب فیصل بن علی القیعطی پروپرائٹر رائیل ریجنسی گارڈنس ‘ جناب محمد تاج الدین ڈپٹی ڈائرکٹر انویسٹگیشن ‘ جناب میر سعادت علی خان‘ (شکاگو) ‘ جناب پیرزادہ ساجد نے شرکت کی اور تمام مہمانان نے دو بہ دو ملاقات پروگرام میں موجود مختلف کاؤنٹرس کا مشاہدہ کیا ۔ اس دوبہ دو ملاقات پروگرام میں کاؤنٹرس پر انور الدین‘ ڈاکٹر ایوب حیدری ‘ ڈاکٹر ناظم علی ‘ میر ناظم الدین ‘ ڈاکٹر سیادت علی ‘ ڈاکٹر ایس اے مجید ‘ لطیف النساء ‘ تسکین‘ ریحانہ نواز ‘ ثناء ‘ رئیس النساء ‘ کوثر جہاں ‘ آمنہ فاطمہ ‘ محمد بیگم کے علاوہ رجسٹریشن کاؤنٹر کی محترمہ امتیاز ترنم نے نگرانی کی ۔ محترمہ فریدہ حیدری نے خواتین کی رہنمائی کی ۔ اس موقع پر والدین ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے رشتے طئے کرنے میں اپنی اپنی رضامندی کا بھی اظہار کیا ۔ جناب زاہد فاروقی نے شکریہ ادا کیا ۔

جھلکیاں
* پروگرام کا آغاز کمسن قاری محمد فیضان کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا
* دوبہ دو پروگرام کا آغاز 10 بجے ہوا اور 4.30 تک جاری رہا
* پروگرام میں اضلاع اور دیگر ریاستوں کے سرپرستوں نے شرکت کی
* پروگرام کے آغاز سے لے کر اختتام تک سیاست کے فیس بک ‘ اسکیپ اور یوٹیوپ پر راست مشاہدہ کی سہولت فراہم کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT