Tuesday , December 11 2018

رشتوں کے انتخاب کے دوران اچھے اخلاق و کردار کو ملحوظ رکھنے کا مشورہ

سیاست اور ملت فنڈ سے رشتوں کا دو بہ دو پروگرام، محترمہ شائستہ علی کا خطاب ، مدھو گوڑ یشکی ، ناظر حسین ایم پی کی شرکت

حیدرآباد 25 نومبر (سیاست نیوز) سماجی کارکن محترمہ شائستہ علی فاؤنڈر سی ای او نے دوٹوک انداز میں والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی اچھے گھرانوں میں کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاق و کردار کو ملحوظ رکھیں اور لڑکی کا انتخاب دینداری، اخلاق و کردار پر کریں تو ایک مثالی گھر بن سکتا ہے۔ آج سیاست اور ملت فنڈ کے زیراہتمام منعقدہ 91 ویں دو بہ دو ملاقات پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ پروگرام ایس اے ایمپرئیل گارڈن ٹولی چوکی میں منعقد ہوا۔ جس میں والدین اور سرپرستوں کی بڑی تعداد نے شریک ہوکر ایک دوسرے سے مشاورت و تبادلہ خیال کیا۔ آج کے پروگرام میں والدین اس تاثرات کا اظہار کیاکہ معاشرہ میں کئی لڑکیاں صرف اس لئے اپنے گھروں میں بن بیاہی بیٹھی ہوئی ہیں کہ اُن کے والدین جہیز اور بے جا رسومات اور دوسرے مطالبات کو پورا کرنہیں پاتے۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست اور جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست کی شبانہ روز کاوشوں کے نتیجہ میں آج شادیوں کو آسان بنانے اور رسومات کو بالائے طاق رکھنے کی جو کوشش کی جارہی ہے وہ ثمرآور ثابت ہورہی ہے۔ محترمہ شائستہ علی جو پروگرام سے کافی متاثر نظر آرہی تھیں، سیاست اور ملت فنڈ کی اس کوشش کی سراہنا کی۔ انھوں نے کہاکہ ہم اپنی روایات کو واپس لاسکتے ہیں اور شادیوں میں اسراف سے بچنے کے لئے واحد راہ یہی ہے کہ چائے و بسکٹ، کھجور پر شادی کریں تو ضرور ایک وقت انقلاب کا آئے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ جس لڑکی کو بیاہ کرکے لائیں اُسے بیٹی کی طرح پیار دیں تو معاشرہ میں بدلاؤ آئے گا۔ جناب محمد معین الدین صدر فیڈیشن آف ٹولی چوکی کالونیز نے کہاکہ والدین کے لئے اُن کے اپنے عین خواہشات و آرزو کے مطابق رشتہ ملنا ناگزیر ہے اس لئے کامیاب ازدواجی زندگی کا راز اسی میں مضمر ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھیں۔ اُنھوں نے کہاکہ جب اخلاق و کردار کو ترجیح دی گئی تو کئی خاندانوں نے اس کے ذریعہ اپنے آپ میں سکون پیدا کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی اخلاق کردار کا ایسا نمونہ چھوڑا جس سے یہ دین اقطاع عالم کے کونے کونے تک پہنچا۔ اُنھوں نے معمولی معمولی سے جھگڑوں کے بناء طلاق و خلع کے واقعات پر روشنی ڈالی اور کہاکہ صرف جھگڑوں کے باعث طلاق کی فیصد میں ہی اضافہ ہورہا ہے اس کے تدارک کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان اسلام کے دامن کو اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ شہ نشین پر جناب ناظم الدین، سید ناظم علی، میر انورالدین، ڈاکٹر سیادت علی، محمد احمد، الیاس باشاہ، صالح عبداللہ بن باحازق، ڈاکٹر ایوب حیدری اور دوسرے موجود تھے۔ اس پروگرام میں تعلیمی اعتبار سے کاؤنٹرس لگائے گئے تھے جہاں والدین اور سرپرستوں نے پہنچ کر اپنے اپنے بائیو ڈاٹاس اور والینٹرس کی مدد سے مشاورت اور تبادلہ خیال۔ والینٹرس جنھوں نے مختلف کاؤنٹرس پر والدین کی رہبری و رہنمائی کی جس میں میر انورالدین، شاہد حسین، ماجد انصاری، ڈاکٹر سیادت علی، سید ناظم الدین، الیاس باشاہ، صالح بن عبداللہ باحازق، ثانیہ، شہناز، خدیجہ سلطانہ، سیدہ محمدی، محمد احمد، کوثر جہاں، محمد احمد کے علاوہ رجسٹریشن کاؤنٹر پر امتیاز ترنم خان، ممتاز، آمنہ، فرحانہ بیگم، اسماء بیگم، سیما بیگم اور دوسرے موجود تھے۔ سابق رکن پارلیمان مدھو یاشکی گوڑ آل انڈیا کانگریس کمیٹی سکریٹری نے پروگرام میں مختلف کاؤنٹرس کا مشاہدہ کرنے کے بعد اپنے تاثرات میں بتایا کہ جو لوگ خدمت خلق کے جذبہ کے تحت قوم کی خدمت کیا کرتے ہیں اللہ و ایشور اُنھیں مخالفتوں کے طوفان کے باوجود اُن کے پائے استقامت میں کمی پیدا نہیں کرتا بلکہ اُس میں اور مضبوطی عطا کرتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست اور جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر سیاست جو اِن دنوں بلا لحاظ مذہب و ملت تعلیم، طب اور شادیوں کے لئے رشتوں کو جوڑنے کے سلسلے میں منہمک ہیں اُنھیں مستقبل میں ضرور کامیابی حاصل ہوتے رہے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ آج شہر ہی نہیں بلکہ دیہاتوں میں لوگ رشتوں کے ضمن میں بڑے پریشان ہیں جس کے لئے ضروری ہے کہ سیاست اور ملت فنڈ کا یہ پروگرام ریاستی سطح پر ہو۔ اس موقع پر اُن کے ہمراہ جناب ناظر حسین رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا (ہریانہ)، سورج کھیکڑے، تلجیت کھیکڑے، نظام فوجدار کانگریس ترجمان اور دوسرے موجود تھے۔ جناب ناظر حسین اور جناب مدھو یاشکی گوڑ کو پروگرام میں مختلف کاؤنٹرس کا مشاہدہ کروایا گیا اور جناب ظہیرالدین علی خان نے ان مہمانوں کو لڑکوں کے بائیو ڈاٹاس سے واقف بھی کروایا کہ ایس ایس سی، گریجویٹس، پوسٹ گریجویٹس اور یہاں تک کہ معذور لڑکوں اور لڑکیوں کے والدین شادیوں کے لئے اپنے بچوں اور بچیوں کے بائیو ڈاٹاس اور فوٹوز کو رجسٹریشن کرواتے ہیں۔ آج تک کے پروگرام تک کئی ہزار لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں طے ہوچکی ہیں۔ جناب الیاس باشاہ کی قرأت اور ڈاکٹر ایوب حیدری کی نعت شریف سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ پروگرام میں کمپیوٹر سیکشن بھی رکھا گیا جس میں والدین کو فوٹوز اور بائیو ڈاٹاس کی مدد سے رشتوں کے انتخاب میں سہولت اور اس کے ساتھ آن لائن رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ لڑکوں کے 100 اور لڑکیوں 150 رجسٹریشن کروائے گئے اور یہ سلسلہ 5 بجے تک جاری رہا۔ یو ٹیوب، فیس بُک اور سیاست ٹی وی کے ذریعہ راست دو بہ دو پروگرام کے مشاہدہ کی سہولت ملک اور بیرون ممالک کے ناظرین کے لئے رکھی گئی تھی جنھوں نے بھی اس پروگرام کو دیکھا نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ جناب خالد محی الدین اسد کوآرڈی نیٹر پروگرام نے اُن تمام سے اظہار تشکر کیا جنھوں نے اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے شادیوں کے لئے وقت مقررہ پر شادی خانہ پہنچے اور اس پروگرام سے استفادہ کیا ہے اور مختلف کاؤنٹرس پر والدین نے گفت و شنید کرتے ہوئے رشتوں کو طے کرنے کے لئے راہ ہموار کرلی۔ 5 بجے شام پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔

TOPPOPULARRECENT