Tuesday , June 19 2018
Home / اداریہ / رشوت اور حکومت

رشوت اور حکومت

ملک کو کرپشن سے پاک بنانے کا وعدہ اور دعویٰ کرنے والی نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت ان دنوں آدھار ڈیٹا افشا معاملہ میں شتر مرغ کی طرز کا مظاہرہ کررہی ہے ۔ جس صحافی نے پیشہ صحافت کے دیانتدارانہ اصولوں کے ذریعہ چند روپیوں کے عوض ملک کی کثیر آبادی کے بائیو میٹرک ڈیٹا کو حاصل کرنے کا انکشاف کیا تھا اس کے خلاف ایف آئی آر اور اخبار کو مقدمہ کے دائرہ میں گھسیٹا گیا ہے ۔ رشوت کے ذریعہ سرکاری راز حاصل کیا جاسکتا ہے اور کاموں کو انجام دینے کے لئے سرکاری ملازمین کو لالچ دی جاسکتی ہے ۔ رشوت کی لعنت کو ختم کرنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود جب حکومت کی ناک کی سیدھ میں ہی اس کی خرابیاں عیاں کردی جاتی ہیں تو وہ چراغ پا ہوتی ہے ۔ مودی حکومت خود اپنی ناکامیوں کے جال میں پھنستے جارہی ہے ۔صحافت کے روشن چراغوں نے عوام کی آنکھوں کو کھولنے کا کام کیا ہے ۔ ٹریبون اخبار کے رپورٹر نے آدھار ڈیٹا کے حصول کے لئے صرف 500 روپئے خرچ کرکے یہ بتادیا کہ رشوت کے خلاف حکومت کے دعوے کھوکھلے ہیں ۔ ملک کے عوام کے ریکارڈ کو منٹوں میں حاصل کیا جاسکتا ہے تو پھر حکومت کے اس منفرد آدھار ڈیٹا کے حوالے سے سرکاری سطح پر کچھ بھی خرابیاں ہوسکتی ہیں ۔ (UIDAI) کی خرابیوں کو باہر لانے والے صحافی کو سزا نہیں بلکہ انعام دینے کی ضرورت تھی ۔ دہلی پولیس کرائم برانچ نے پیر کے دن خاتون صحافی کے خلاف کیس درج کیا لیکن ان رشوت خور سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی جنہوں نے چند روپیوں کے عوض ملک کے عوام کے اہم ڈیٹا کو افشا کیا ۔ اس حکومت کو اگر واقعی سچائی اور دیانتداری پر یقین ہے تو اسے اپنی کارکردگی کو شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے اب تک اس ملک کی بڑی اکثریتی آبادی کو طرح طرح کی پریشانیوں سے گزرنا پڑرہا ہے ۔ کروڑہا ہندوستانی شہریوں کی رازدارانہ زندگی میں حکومت کسی کو بھی مداخلت کرنے کا موقع دیتی ہے تو یہ ایک افسوسناک عمل ہے ۔ اخبار کے صحافی کا دعوی ہے کہ صرف 500 روپئے اور 10 منٹ کے اندر درمیانی آدمی کے ذریعہ اس ملک کے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کو حاصل کیا گیا ہے ۔ ان شہریوں نے اپنی تفصیلات ، بائیو میٹرک ریکارڈ کو جس میں نام ، ڈاک کوڈ پن نمبر ، تصویر ، فون نمبر اور ای میل شامل ہے درج کرواتے ہیں ۔ اگر یہ ڈیٹا کسی بھی سازشی ذہن فرد کے ہاتھ لگ جائے تو کسی فرد واحد کی ذاتی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ حکومت کی سطح پر جو خرابیاں اور غلطیاں ہورہی ہیں انہیں درست کرنے کے بجائے مزید خرابیوں کے ذریعہ بدنام ہونے کا سامان کیا جارہا ہے ۔ عوام تک یہ پیام پہونچ چکا ہے کہ حکومت اپنی خرابیوں کو عیاں کرنے والوں پر مقدمہ درج کرے گی اور خاطیوں کو آزاد کرے گی ۔ ہندوستانی میڈیا نے اس صحافی اور اخبار کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے ۔ میڈیا آرگنائزیشنوں اور صحافیوں نے اس رپورٹ کو خاص صحافتی جائز عمل کا حصہ قرار دیا ہے ۔ ایک ذمہ دارانہ صحافت کی یہی شناخت ہے کہ وہ اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عوام تک سچائی پہونچاتا ہے ۔ شہریوں کے اندر پائی جانے والی حقیقی تشویش کو بھی نمائندگی کرنا پیشہ وارانہ صحافت کا امتیاز ہوتا ہے اور صحافت ، عوام کے عظیم تر مفادات کے تحفظ کے لئے ہردم آگے رہتی ہے لیکن افسوس ہے کہ مودی حکومت میں سچائی اور دیانتدارای کی سزاء ایف آئی آر اور مقدمہ بازی ہے ۔ اس حکومت نے دیانتدارانہ صحافت کا غلط مطلب اخذ کیا ہے ۔ لہذا ملک کے تمام صحافتی اداروں اور صحافیوں کو اپنی آزادانہ صحافتی زندگی کی مدافعت کرتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت اور اس کے ادارے جب صحافت کی آزادی پر راست حملہ کرتے ہیں تو وہ سچائی کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان کی یہ کارروائیاں غیر منصفانہ ہوتی ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہئیے کہ صحافت کے ذریعہ آشکار کی جانے والی برائی کو دور کرنے فوری قدم اٹھایا جائے ۔ آدھار کارڈ کے ڈیٹا کے تعلق سے رازداری اور سکیوریٹی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اب جبکہ ان خامیوں کا انکشاف ہوچکا ہے تو حکومت اس بارے میں تحقیقات انجام دے کر غیر جانبدارانہ تحقیقاتی صحافتی رپورٹ کی ستائش کرے اور مقدمہ واپس لے ۔ اگر نریندر مودی حکومت دیانتداری اور سچائی کو ترجیح دیتی ہے تو اسے اپنی حکومت میں بڑھتی رشوت کی آلودگی کو دور کرنے کی فکر کرنی چاہئیے ۔ آدھار پراجکٹ کو ناکام و ناقص ہونے سے بچانے کے لئے اس کو کامل طور پر محفوظ اور عام سطح پر ناقابل رسائی بنانے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT