Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / رشوت دینے والوں کو قانونی گرفت سے استثنیٰ

رشوت دینے والوں کو قانونی گرفت سے استثنیٰ

اندرون ایک ہفتہ پولیس کو اطلاع دینے کی شرط
نئی دہلی ۔/23اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت نے آج یہ ہدایت دی ہے کہ ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے جنہوں نے سرکاری عہدیداروں کو رشوت دینے کے بعد اندرون ایک ہفتہ پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کی اطلاع دے دیہو۔ انسداد رشوت ستانی کے نئے قانون میں یہ گنجائش فراہم کی گئی ہے کہ رشوت دینے والے بھی مستوجب سزا ہوں گے ۔ قانون انسداد رشوت ستانی 1988 میں ترمیم کیلئے ایک بل عنقریب پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا جس میں یہ واضح کیا گیا کہ رشوت دینے والوں کو اسی صورت میں بخشا جائیگا بشرطیکہ وہ کسی عہدیدار کو رشوت دینے کی پولیس کو اطلاع دیں اور رشوت لینے والے کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے میں تعاون کریں۔ اس قانونی استثنیٰ پر اعتراض کے باوجود مودی حکومت مذکورہ بل پارلیمانی کمیٹی سے رجوع کردیا تھا جس نے بل کا جائزہ لینے کے بعد یہ رپورٹ پیش کی ہے کہ رشوت دینے والے کیلئے کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا جو کہ رشوت دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ تاہم حکومت کا یہ استدلال ہے کہ یہ عدلیہ کا کام ہے کہ ثبوتوں کی جانچ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کرے کہ کسی شخص نے رشوت اپنی مرضی سے یا زبردستی سے دی ہے جبکہ یہ اندیشہ کہ رشوت دینے والے قانونی سزا سے بچنے کیلئے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ انہوں نے حالت مجبوری میں یہ قدم اٹھایا تھا۔ چونکہ حکومت نے رشوت ستانی کے خلاف سخت کارروائی کا بیڑہ اٹھایا ہے لہذا رشوت دینے والوں کے ساتھ نرمی برتنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ تاہم سیول سوسائٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ رشوت دینے اور لینے والے کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں کیا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT