Thursday , July 19 2018
Home / شہر کی خبریں / رعیتو بندھو اسکیم میں کسانوں کے ساتھ ناانصافی

رعیتو بندھو اسکیم میں کسانوں کے ساتھ ناانصافی

حکومت کو اسکیم میں تبدیلی کا مشورہ، چاڈا وینکٹ ریڈی کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔12مئی(سیاست نیوز) سی پی آئی تلنگانہ اسٹیٹ سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے حکومت تلنگانہ کی رعیتو بندھو اسکیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کسانوں کے ساتھ ناانصافیوں کے سدباب کے بجائے اسکیم کے تحت کئی کسان پریشانیو ں کاشکار ہورہے ہیں۔ انہو ںنے اپنے الزامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ اسکیم کے تحت قولدار کسان کو اس اسکیم سے مستثنیٰ قراردیا گیا ہے جبکہ قول پر اراضی حاصل کرنے کے بعد زراعت کے ذریعہ اپنی گزربسر کرنے والے کسانوں کی تلنگانہ میں اکثریت ہے۔ قولد ار کسان کو اسکیم میںشامل کرنے سے ہی تلنگانہ کے کسانوںکے مسائل کی یکسوئی ممکن ہوسکے گی۔ انہو ںنے مالی مدد کے طور پر ادا کی جانے والی رقم کو بھی ناکافی قراردیا ۔ انہو ںنے کہاکہ ربیع کے موسم میں کسانوں کو حسب ضرورت رقم کی فراہمی ریاست کے زراعی شعبہ کو مستحکم کرنے میں مدد گارثابت ہوگی۔ چاڈا وینکٹ ریڈی نے کہاکہ اشتہار بازی اور اعلانا ت سے تلنگانہ کے کسانوں کا پیٹ بھرنے والا نہیں ہے ۔ وہ آج یہاں سی پی آئی ہیڈکوراٹر مخدوم بھون میںمیڈیا سے مخاطب تھا ۔ انہوں نے کہاکہ پٹہ کاغذ دکھانے کے بعد ہی کسانوں کو رقم چیک دئے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ قول پر اراضی حاصل کرنے کے بعد جوزراعت کرنے والے کسان رعیتو بندھو اسکیم سے محروم ہیں۔ حکومت کو اسکیم میںتبدیلی لاتے ہوئے تمام کسانوں کو اس سے استفادہ کا موقع فراہم کرے۔ انہوں نے اے پی تنظیم جدید بل 2014کو نظر انداز کرنے کا بھی حکومت تلنگانہ پر الزام عائد کیا۔ چار سال کا وقفہ گذ ر جانے کے بعد بھی تلنگانہ کے سرکاری ملازمین آندھر ا میں برسرخدمات ہیںجبکہ تلنگانہ میںان کی واپسی ضرور ی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جن بنیادوں پر تلنگانہ تحریک کی شروعات عمل میں آئی تھی اور جس مقصد سے تلنگانہ کی تشکیل کے لئے قربانیاں دی گئیں تھیں انہیںکے چندرشیکھر رائو نے پوری طرح فراموش کردیا ہے۔ تلنگانہ کے سرکاری ملازمین کی ریاست کو واپسی کے لئے ریاست کی تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے ساتھ ملک کر مرکز پر دباؤ بنانے کے لئے تیار ہیں۔ اگر چیف منسٹر چاہیں تو سب ساتھ ملکر مرکزی حکومت پر اس ضمن میں دباؤ بنائیں گے۔ کل جماعتی وفد کے ذریعہ مرکز سے اس ضمن میںنمائندگی کی جائے گی۔ انہو ںنے کھمم میں ورا ورا راؤ او ردیگر سماجی قائدین کی گرفتاری کو بھی قابل مذمت قراردیا۔ انہوںنے کہاکہ مائوسٹوں کے نام پر فرضی انکاونٹر کے ذریعہ بے قصور قبائیلوں کے قتل عام کے خلاف جلسہ منعقد کرنے والوں کے خلاف مجرمو ں جیسا سلوک کرنا افسوس ناک ہے۔

TOPPOPULARRECENT