Saturday , September 22 2018
Home / ہندوستان / رقومات کی منتقلی کا سلسلہ سوئس پرچم تلے منظم جرم سے مربوط

رقومات کی منتقلی کا سلسلہ سوئس پرچم تلے منظم جرم سے مربوط

نئی دہلی۔ 30 جون (سیاست ڈاٹ کام) حکومت ِ ہند سوئٹزرلینڈ پر مبینہ کالے دھن کے بہاؤ کے بارے میں معلومات میں شراکت داری کے لئے سوئٹزرلینڈ پر دباؤ ڈال رہی ہے جبکہ حکومت سوئٹزرلینڈ کے ایک محکمہ نے انکشاف کیا کہ مشتبہ رقومات کی منتقلی کی سرگرمی ہندوستان میں ’’منظم جرم‘‘ کے معاملات سے متعلق ہے۔ سوئس محکمہ کا یہ انکشاف رقومات کی غیرقانونی

نئی دہلی۔ 30 جون (سیاست ڈاٹ کام) حکومت ِ ہند سوئٹزرلینڈ پر مبینہ کالے دھن کے بہاؤ کے بارے میں معلومات میں شراکت داری کے لئے سوئٹزرلینڈ پر دباؤ ڈال رہی ہے جبکہ حکومت سوئٹزرلینڈ کے ایک محکمہ نے انکشاف کیا کہ مشتبہ رقومات کی منتقلی کی سرگرمی ہندوستان میں ’’منظم جرم‘‘ کے معاملات سے متعلق ہے۔ سوئس محکمہ کا یہ انکشاف رقومات کی غیرقانونی منتقلی کی اطلاع دینے والے سوئٹزرلینڈ کے دفتر کی جانب سے جو سوئٹزرلینڈ کی پولیس کے وفاقی دفتر کے تحت ہے اور مالیتی ثالث اور نفاذ قانون محکمہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والا ادارہ ہے۔ رقومات کی غیرقانونی منتقلی کے خلاف جدوجہد میں تبدیلیوں کے بارے میں تازہ ترین معلومات کے مطابق منظم جرم اور دہشت گردوں کو سوئٹزرلینڈ میں مالیہ کی فراہمی جاری ہے۔ 1,411 SARS ان معاملات سے متعلق سوئٹزرلینڈ میں پہنچ چکے ہیں۔ 2013ء کے دوران منظم جرائم کی تعداد گزشتہ سال کے 97 سے بڑھ کر 104 ہوگئی ہے۔ ان معاملات میں ملوث اثاثہ جات کے اعتبار سے اٹلی کے مجرمانہ گروہ سرفہرست ہیں۔ علاوہ ازیں چین، برازیل اور ہندوستان میں منظم جرائم کے مزید واقعات پیش آرہے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کا مرکزی رقومات کی غیرقانونی منتقلی کے انسداد کا محکمہ تاہم ہندوستان میں منظم جرم کے معاملات کی رقم کے بارے میں قطعی انکشاف کرنے سے قاصر رہا۔ اس سلسلے میں محکمہ کی تحقیقات کامیاب نہیں ہوسکیں۔ محکمہ کی محصلہ معلومات سے مزید پتہ چلتا ہے کہ دہشت گردوں کو مالیہ کی فراہمی 2012ء کی بہ نسبت 2013ء میں دوگنی ہوگئی۔ 2013ء غیرملکی مالیاتی سراغ رسانی شعبوں میں 3,061 غیرملکی شہریوں کی نشاندہی کی جو رقومات کی غیرقانونی منتقلی میں ملوث تھے۔ 512 واقعات کے ساتھ ارجنٹینا اور 321 واقعات کے ساتھ امریکہ فہرست میں پہلے اور دوسرے مقام پر تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس فہرست میں ہندوستان کا نام شامل نہیں ہے جبکہ جن کے نام شامل ہیں، ان میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، اسپین اور لکسمبرگ شامل ہیں۔ 2001ء اور 2002 ء میں ہندوستان اُن ممالک میں شامل تھا، جنہوں نے محدود تعداد میں افراد یا کمپنیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ قبل ازیں سوئٹزرلینڈ کے مرکزی سراغ رسانی محکمہ نے 2000ء میں مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع حاصل کی تھی جس میں استفادہ کنندگان مالکوں کی حیثیت سے ہندوستانی بھی شامل تھے۔ 1999ء میں ایسے واقعات میں 3 ہندوستانی ملوث تھے جبکہ 1998ء میں رقومات کی غیرقانونی منتقلی میں ملوث ہندوستانیوں کی تعداد صفر تھی۔

TOPPOPULARRECENT