Tuesday , January 16 2018
Home / Top Stories / رقومات کی منہائی کیلئے کھاتہ داروں کا بینکوں میں ہجوم

رقومات کی منہائی کیلئے کھاتہ داروں کا بینکوں میں ہجوم

مجوزہ بل و قانون سازی کی تفصیلات سے آگہی پر عوام کا اقدام ‘ بینکر عہدیدار پریشان
حیدرآباد۔11ڈسمبر(سیاست نیوز) بینکو ںمیں جمع کئے جانے والے سیونگ بینک اکاؤنٹ کی رقوما ت کی منہائی کیلئے امڈ پڑے۔ روزنامہ سیاست میں سیونگ بینک کھاتوں میں جمع رقومات کے متعلق مجوزہ بل و قانون سازی کی تفصیلات کی اشاعت کے فوری بعد کھاتہ دار اپنے بینک کھاتوں سے رقومات نکالنے کے لئے بینک پہنچ گئے جس کے سبب بینک عہدیداروں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑا اور یہ کہا جا رہاتھا کہ بینک میں جمع رقومات کے متعلق مجوزہ قانون بینکوں میں جمع کی جانے والی عوامی دولت کے تحفظ کیلئے ہے لیکن کھاتہ داروں نے بینک عہدیداروں کی بات نہ مانی اور اپنے کھاتوں میں جمع رقومات کی منہائی کیلئے اصرار کرنے لگے جس پر بینک عہدیدار کوئی جواب دینے سے قاصر رہے۔ شہر کے بیشتر قومیائے گئے بینکوں کی شاخوں میں کھاتہ داروں نے اپنے کھاتوں سے پیسے نکالنے شروع کردیئے ۔ بینک عہدیداروں کی جانب سے بینک میں بزنس ٹوڈے میں مرکزی وزیر فینانس مسٹر ارون جیٹلی کی اپوزیشن جماعتوں پر کی جانے والی تنقید کی خبر آویزاں کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ایسی کوئی حکمت عملی یا منصوبہ تیار نہیں کیا جا رہاہے جو عوامی دولت کو جو بینکوں میں جمع ہے اسے نقصان پہنچے بلکہ حکومت نے FRDI-2017 بل کے ذریعہ عوامی دولت کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ بینک کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ملک میں روشناس کروائے جانے والے اس قانون کی رو سے بینکوں میں موجود دولت کے استعمال کے لئے بینک پہلے کھاتہ دار کی اجازت حاصل کریں گے بغیر کھاتہ دار کی اجازت کے بینک ان کی رقومات کا استعمال نہیں کر پائیں گے۔ بل کے متعلق حکومت کا کہنا ہے کہ اس بل کے سبب عوامی بینکوں میں جمع دولت کا تحفظ ہوگا لیکن ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس بل کے متعلق یہ کہہ رہی ہیں کہ بل ملک کے عوام کیلئے نقصان کا سبب ثابت ہوگا اور بینک کی جانب سے سیونگ بینک کھاتہ میں جمع رقومات فکسڈ ڈپازٹ کرلی جائیں تو کھاتہ دار کو یہ اختیار حاصل نہیں رہے گا کہ وہ ملک کی کسی بھی عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرسکے۔ اپوزیشن جماعتوں نے FDRI کے متعلق اس انکشاف کے ذریعہ کہرام مچا دیا ہے اور حکومت کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ اس بل کے ذریعہ بینکوںاور مالیاتی اداروں کو دیوالیہ ہونے سے سے بچانے کیلئے قانون بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT