Wednesday , December 13 2017
Home / عرب دنیا / رقہ سے دولت اسلامیہ کے غیر ملکی جنگجوؤں کا تخلیہ

رقہ سے دولت اسلامیہ کے غیر ملکی جنگجوؤں کا تخلیہ

دولت اسلامیہ کے آخری مستحکم گڑھ رقہ پر بھی امریکی تائید یافتہ سرکاری افواج کا قبضہ بحال
عین عیسی ( شام ) ۔15اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دولت اسلامیہ کے بعض غیر ملکی جنگجوجہادیوں کے سابق مستحکم گڑھ رقہ ( شام ) سے ایک معاہدہ کے تحت تخلیہ کرچکے ہیں ‘ جب کہ اس شہر پر قبضہ بحال ہونا قریب آچکا ہے ۔ ایک مقامی شہری عہدیدار نے کہا کہ غیر ملکی افراد کا ایک حصہ اس شہر سے تخلیہ کرچکا ہے ۔ سینئر رکن برائے رقہ سیول کونسل عمر التوش نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ معاہدہ کے مطابق ہفتہ تک دولت اسلامیہ کے جہادیوں کو رقہ کا تخلیہ کردینا چاہیئے ۔ تاہم اس نے اس بات کی توثیق نہیں کی کہ کتنے جنگجو کل شہر سے روانہ ہوئے یا پھر وہ کہاں گئے ہے ۔ یہ لوگ شہری ڈھالوں کے ساتھ شہری ہی نظر آتے تھے ‘ وہ رقہ سے روانہ ہوگئے ۔ ہفتہ کے دن انہوں نے کہا کہ ایک معاہدہ طئے پایا تھا جس کے مطابق غیر ملکی اور شامی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو ہفتہ تک رقہ کا تخلیہ کردینا چاہیئے ۔ قبل ازیں امریکہ زیر قیادت اتحادی افواج نے اس علاقہ کے خلاف جارحانہ کارروائی کی تھی ۔ ایک قافلہ جو رقہ سے روانہ ہونے والا تھا لیکن واضح طور پر اس نے غیر ملکی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے تخلیہ سے انکار کردیا ۔ امریکہ کی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک افواج نے کردوں اور عرب جنگجوؤں کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ رقہ پر قبضہ کرنے کیلئے جنگ کی ہے ۔باغی تقریباً شہر کے 90فیصد حصہ پر قابض تھے لیکن اتحادی افواج نے اس پر اپنا قبضہ بحال کرنے کیلئے زبردست جنگ کی اور وسیع رہائشی علاقوں پر اپنا قبضہ بحال کرلیا گیا حالانکہ باغی اپنے تحفظ کیلئے انسانی ڈھال استعمال کررہے تھے ۔ رقہ کبھی شام میں دولت اسلامیہ کا دارالحکومت رہ چکا ہے ۔ خودساختہ اسلامی خلافت کا اعلان شام اور عراق میں قائم کرنے کیلئے اسی شہر سے کیا گیا تھا ۔ رقہ پر سرکاری افواج کا قبضہ دولت اسلامیہ کی حالیہ شکستوں کے سلسلہ کا آخری نقصان ہوگا ۔ شام کے وسیع علاقہ بشمول عراق کے دوسرے شہر موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضہ سے آزاد کروایا جاچکا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT