Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / رماکانت ریڈی کا تلنگانہ ہائی کورٹ ایڈوکیٹس اسوسی ایشن صدر کیلئے مقابلہ

رماکانت ریڈی کا تلنگانہ ہائی کورٹ ایڈوکیٹس اسوسی ایشن صدر کیلئے مقابلہ

مسلم وکلاء کے ساتھ انصاف رسانی کا عزم ، اسٹانڈنگ کونسل میں مسلم وکلاء کے اضافہ پر زور
حیدرآباد ۔ 25 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : مسلم وکلاء سے انصاف اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم سینئیر ایڈوکیٹ مسٹر رما کانت ریڈی نے کہا کہ دیگر وکلاء کی طرح مسلم وکلاء کو بھی برابر کے مواقع اور ترقی کرنے کا حق حاصل ہے اور مسلم وکلا کے اس حق کے لیے وہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے ۔ ریاست تلنگانہ میں ہندو مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار شخصیت سینئیر ایڈوکیٹ مسٹر رما کانت ریڈی تلنگانہ ہائی کورٹ ایڈوکیٹ اسوسی ایشن کے انتخابات میں صدر کے لیے مقابلہ کررہے ہیں ، نے کہا کہ مسلم وکلاء برادری بہت زیادہ مسائل کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کے یہاں مسلم وکلاء برادری کی ترقی کے لیے کافی مواقع ہیں ۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ چیف منسٹر کو ان مسائل اور مواقع سے واقف کروانا چاہئے ۔ سینئیر ایڈوکیٹ مسٹر رما کانت ریڈی مسلم وکلاء برادری میں کافی مقبولیت رکھتے ہیں اور تلنگانہ مسلم ایڈوکیٹ کی اکثریت کی انہیں تائید حاصل ہے ۔ انہوں نے مسلم وکلاء کو ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا پر زور مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ مسلمان وکلاء کی ترقی و بہبود کی راہموار کرنے تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے اسٹانڈنگ کونسل کا تذکرہ کیا اور کہا کہ جی ایچ ایم سی میں 5 اسٹانڈنگ کونسل ہیں اور کوئی 4 سرکل تو کوئی تین سرکل سنبھال رہا ہے ۔ تاہم ایسے موقع پر 5 اسٹانڈنگ کونسل ہیں اور ایسے میں مزید دو اسٹانڈنگ کونسل کا اضافہ کرتے ہوئے دو مسلم وکلاء کو موقع فراہم کیا جانا چاہئے ۔ اس طرح ریاست بھر کی میونسپلٹیز کے لیے ایک ہی وکیل مقرر ہے ۔ جب کہ اس میں بھی مسلم وکلاء کو موقع دیا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی ضلع پریشد اور منڈل پریشد میں بھی مواقع دئیے جاسکتے ہیں اور مسلم وکلاء کو اسٹانڈنگ کونسل میں مواقع فراہم کرنے کے لیے نہ قانون تشکیل دینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ایوانوں میں قرار داد منظوری کی شرائط ضروری ہیں بلکہ یہ تو صرف حکومت کا فیصلہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم وکلاء کو سرکاری مقدمات کی یکسوئی کے لیے مقرر کیا جاتا ہے تو وہ عدالتوں میں اپنی صلاحیتوں کو منوا سکتے ہیں ۔ ججس کے سامنے بحث کا انہیں موقع ملے گا اور اس سے ان کی صلاحیت کے ججس قائل ہوں گے اور مسلم وکلاء کی ترقی کے لیے یہ ایک بہت بڑا اقدام ہوگا ۔ آئندہ مستقبل میں ججس کے تقررات میں ہونہار با صلاحیت مسلم ایڈوکیٹ کو جج بننے کا موقع بھی حاصل ہوگا ۔ انہوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک وکیل جو سی بی آئی کے لیے ہے وہی وکیل بلدیہ سے بھی جڑا ہوا ہے تاہم اس کے بجائے دیگر وکلا بالخصوص مسلم ایڈوکیٹس کو موقع فراہم کیا جانا چاہئے ۔ سینئیر ایڈوکیٹ مسٹر رما کانت ریڈی نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں ایڈوکیٹ جنرل کے علاوہ ایک ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ہے ۔ تاہم ان کی تعداد میں پانچ تک اضافہ کرتے ہوئے سینئیر مسلم ایڈوکیٹ کو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے عہدے پر تقرر کیا جاسکتا ہے ۔ سینئیر ایڈوکیٹ مسٹر رما کانت ریڈی نے مسلم وکلاء برادری کو تیقن دیا کہ وہ مسلم وکلاء کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم رول ادا کریں گے اور اس بات کا بھی تیقن دیا کہ چیف منسٹر سنجیدگی سے اس مسئلہ پر اپنی رضا مندی ظاہر کریں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT