Monday , November 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / رمضان المبارک کی مناسبت سے بعض تذکیری پہلو

رمضان المبارک کی مناسبت سے بعض تذکیری پہلو

رمضان المبارک روحانیت کا موسم بہارہے،یہ ماہ مبارک ہر سال آتاہے ،اسکی آمداپنے جلومیں رحمتوں کی سوغات لئے ہوئے ہوتی ہے۔گردش لیل ونہار جب تک باقی ہے یہ مبارک مہینہ ہر سال آتارہے گا،لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سابقہ رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں سے جواپنے دامن میں رحمتیں سمیٹ سکے ہیں وہ اس ماہ رمضان کی مبارک ساعتوں سے رحمت وبخشش حاصل کر سکیں گے۔اسی لئے اللہ کے نبی ﷺ ماہ رجب میں دعافرمایا کرتے کہ’’اے اللہ رجب وشعبان کے مہینوں کو ہمارے حق میں مبارک بنا دیجئے اوررمضان پاک تک پہنچاکرہمیں رحمتوں سے بہرومندفرمادیجئے‘‘(مسند احمد ۱؍۴۲۸) اس مبارک مہینہ کی ایک ایک گھڑی اور ایک ایک لمحہ بڑاقیمتی ہے ،اسکی قدروقیمت کا اندازہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺکے ان ارشادات پاک سے کیا جا سکتا ہے،اس مبارک مہینہ میں اللہ سبحانہ کی رضا اوراسکا قرب پانے کے مخلصانہ جذبہ کے ساتھ کوئی غیر فرض عبادت یعنی سنن ونوافل وغیرہ اداکرے تو اسکو اورمہینوں میں ایک فرض اداکرنے کے برابراجروثواب دیا جاتاہے،اورایک فرض کا اداکرلینا دوسرے اورمہینوں میں سترفرض اداکرنے کے برابرہے‘‘کہ اسکو اتنا اجردیا جائیگا۔اس مبارک مہینہ کی تین عشرے ہیں ، فرمایا کہ ’’پہلا عشرہ رحمت کا دوسرا عشرہ بخشش و مغفرت کا اورتیسرا عشرہ دوزخ سے آزادی کا ہے‘‘(رواہ البیہقی فی شعب الایمان)اسلئے اس مبارک مہینہ کی جیسی قدروقیمت کرنی چاہئے اس کے لئے کوشاں رہنے اورفکر ودردکے ساتھ ان مبارک اوقات کی حفاظت پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔یہ ماہ مبارک اپنی رحمتوں کا سایہ کئے ہوئے ہر سال آتا رہیگا،زندگی وفا ء نہ کرے توپھراسکی مبارک ساعتوں سے استفادہ کی صورت باقی نہیں رہے گی اسلئے کوشش ہونی چاہئے کہ اس ماہ مبارک کی آمدہمارے حق میں نفس وروح کی راحت کا وسیلہ بنے،دن کے روزے ،راتوں کا قیام نفس وروح پر اثراندازہو۔ویسے رمضان المبارک کی آمدکی برکت سرکی آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہے،مساجدمصلیوں سے معمورہوجاتی ہیں،گویا رمضان پاک کی رونقیں پورے سماج پر چھا جاتی ہیں،اس مناسبت سے چندگزارشات بطور تذکیر حد ادب میں رہتے ہوئے پیش خدمت ہیں ،ان سے استفادہ ان شاء اللہ مفیدہوگا۔ ٭بکثرت اصحاب رمضان کے روزوں کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن ان میں کچھ وہ بھی ہوتے ہیں جوروزہ کی وجہ تربیت پاکر ضبط نفس کے خوگرنہیں ہوتے جسکی وجہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشتعل ہوتے حتی کہ گالی گفتارسے تک بازنہیں آتے،انکو نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺکا یہ ارشادپاک ہر آن یادرکھنا چاہئے ’’جب تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو اسے چاہئے کہ وہ فحش اوربیہودہ باتوں اورکاموں سے سخت اجتناب کرے ،کوئی دوسرا اگراس روش کو اختیارکرے یعنی گالی بکے یا لڑائی جھگڑے پر آمادہ ہو تو یہ کہدے ’’انی امرء صائم‘‘ (مسلم :۱۱۵۱)کہ میں روزہ سے ہوںیعنی میں تمہارے برے طرز عمل کا برائی سے جواب نہیں دے سکتا ‘‘کو شش اس بات کی ہونی چاہئے کہ روزہ کا مقصود حاصل ہواوراس پر جواجروثواب موعودہے وہ بھی نصیب ہو۔روزہ داروں کو روزہ رکھتے ہوئے باطل اعمال واشغال سے بچنے کا سخت اہتمام کرنا چاہئے ،ورنہ روزہ کے جو فوائد وثمرات ہیں اس سے محرومی کا سخت خطرہ ہے،حدیث پاک میں ہے ’’جو روزہ رکھتے ہوئے لغووباطل کلام اورایسے ہی باطل کام سے دست بردارنہ ہو تو اللہ کو اسکا کھا نا پینا چھوڑ دینے کی کوئی حاجت نہیں ہے‘‘(بخاری؍۱۹۰۳)یعنی اللہ کو مقصودکھانا پینا چھڑانا نہیں ہے بلکہ نفس انسانی کو تقوی کا خوگر بنا نا ہے۔٭ مسلم سماج میں کچھ وہ اصحاب بھی پائے جاتے ہیں جو ماشاء اللہ تندرست وتوانا اورجوان ہیں ،روزہ چھوڑنے کیلئے کوئی بہانہ تلاش کرلیتے ہیں اورکچھ تو بلاعذر روزہ رکھنے کی طرف راغب ہی نہیں ہوتے ،رمضان کی برکتوں اوررحمتوں سے ایسے بے خبر رہتے ہیں کہ رمضان کی آمدانکی زندگی میں کوئی ہلچل پیدا نہیں کرتی،جیسے پہلے وہ خواب غفلت میں تھے ویسے ہی غفلت کی نیندسوئے رہتے ہیں،انکو ضروریہ حدیث پاک سے روشنی حاصل کرنی چاہئے، ارشادہے’’جو کوئی شرعی رخصت یا بیماری وغیرہ جیسے عذرکے بغیر ماہ رمضان کا روزہ چھوڑدے پھراسکی تلافی میں عمربھر روزہ رکھے تب بھی رمضان پاک کی ایک روزہ کی اس سے تلافی ممکن نہیں ‘‘(المعجم الکبیر للطبرانی؍۹۵۷۴)یعنی جو خاص رحمتیں وبرکتیں رمضان پاک کے ایک روزہ کی وجہ نصیب ہو سکتی ہیں ساری زندگی روزہ رکھ کر بھی وہ نہیں حاصل کی جاسکتیں اسی لئے رمضان المبارک کے روزے بلاعذرشرعی کے چھوڑدینا دنیااورآخرت کے بڑے نقصان وخسران کا باعث ہے،

اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رمضان پاک کے ماہ مقدس کے روزے بلاعذرشرعی ترک کرناکتنی بڑی محرومی ہے۔٭  رمضان المبارک کی ایک اہم عبادت ’’تراویح ‘‘ہے ،روزوں کااہتمام اورنماز پنجگانہ کی پابندی کرتے ہوئے کچھ اصحاب نمازتراویح میں شرکت سے غفلت برتتے ہیں،جبکہ رمضان المبارک کے روزے فرض اور اسکی راتوں میں قیام سنت ہے ۔ ’’جعل اللہ صیامہ فریضۃ وقیام لیلہ تطوعا‘‘(شعب الایمان۳؍۳۰۵)ظاہر ہے یہ سنت گھر میں بھی اداکی جاسکتی ہے لیکن نماز تراویح کی جماعت میں شرکت کی جو برکت ہے اس سے محرومی ہوتی ہے ۔نماز تراویح جیسے سنت ہے اسی طرح نماز تراویح میں پورے ماہ پاک میں کم ازکم ایک قرآن پاک کا سننا سنا نا بھی سنت اورباعث فضیلت ہے ۔گھروں میں تنہاء یا جماعت سے تراویح کے نماز پڑھنے والے حافظ قرآن نہ ہوں تو اس فضیلت سے محروم رہ جاتے ہیں۔نماز تراویح کی جماعت میں شرکت اوراس میں قرآن پاک کا سننا کس قدر فضیلت کا حامل ہے اسکا اندازہ ہوجائے تو یہ دوسنتیں بھی متروک نہیں ہوسکتیں۔رسول پاک ﷺ کا ارشادہے ’’ایمان واحتساب کے ساتھ جو رمضان پاک کے روزے رکھ لیتے ہیں اللہ سبحانہ انکے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادیتے ہیں۔اسی ایمان واحتساب کی شرط کو پورا کرتے ہوئے جو رمضان کی راتوں میں قیام کرتے ہیں یعنی سنت کے مطابق تراویح اداکرتے ہیں اورراتوں کو تہجدکا اہتمام کرتے ہیں انکے بھی پچھلے سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ‘‘(بخاری:۳۷) ایمان واحتساب سے مراد یہ ہے کہ ہمارے سارے اعمال کی بنیاد توحید ورسالت اوراسکے تقاضوں اوراسکے سارے بنیادی اعتقادات پر ایمان کے ساتھ ان اعمال کی ادائیگی اللہ سبحانہ کی رضا جوئی کیلئے ہو۔اللہ اوراسکے رسول ﷺنے جو بشارتیں دی ہیں اورکتاب وسنت میں جو وعدے اوروعید بیا ن ہوئے ہیں ان پر یقین ہو،ایمان واحتساب کی ان کیفیات کے بغیراعمال کی حیثیت بے روح جسدکے مانندہوجاتی ہے،اس لئے رمضان پاک کی برکتوں کے حصول کیلئے اس کی بڑی اہمیت ہے اسلئے روزوں کی اہمیت وفضیلت جان کر اسکا حق اداکرتے ہوئے تراویح وتہجدکے اہتمام کی طرف خصوصی توجہ ہونی چاہئیے۔ ٭ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے (البقرۃ:۱۸۵)اسلئے رمضان المبارک اورقرآن پاک دونوںمیں بڑاگہراربط وتعلق ہے،اسی مناسبت سے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ حضرت جبریل امین      علیہ السلام کے ساتھ اس ماہ مبارک میں قرآن پاک کا دورفرمایا کرتے تھے ۔آپ ﷺ نے اپنی رحلت سے قبل والے رمضان میں دومرتبہ دورفرمایا ۔قرآن پاک کے حقوق میں اولین بنیادی حق صحت اداکے ساتھ تلاوت قرآن کاہے ،اس بنیادی حق سے بڑاتغافل دیکھا جارہاہے،اسلئے اس بنیادی حق کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے،جن کو قرآن پاک پڑھنا نہیں آتایا جو پڑھنا جانتے ہیں لیکن صحت اداکے ساتھ انکی تلاوت نہیں ہوتی ان سب کواسکی فکرکرنی چاہئے ،اولین فرصت میں کسی مجودیعنی صحت اداکے ساتھ تلاوت کے قواعدسے واقف،خداترس بندہ مومن کی تلاش کرکے قرآن پاک کو صحت سے تلاوت کرنا سیکھ لینا چاہئے ۔رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ کی آمداسکا تقاضہ کررہی ہے اوریاد دہانی کروارہی ہے کہ گھر کے تمام افرادکیا ضعیف کیا نوجوان کیا بچے ،مردووخواتین سب کے سب قرآن پاک کو صحت ادا کے ساتھ تلاوت کرنا سیکھ لیں اورمسلم سماج میں جو اس سے ناواقف ہیں ان کو سکھانے کا نظم کریں ۔سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کا ارشادپاک ہے ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو قرآن پاک کو سیکھیں اوردوسروں سکھائیں‘‘ (بخاری؍۵۰۲۸)۔قرآن پاک سے بے اعتنائی پر وعید واردہے ’’روزحشررسول (ﷺ)بارگاہ ایزدی میں شکوہ کریں گے کہ میری امت نے اس قرآن کو چھوڑرکھا تھا ‘‘(الفرقان:۳۰)کفارومشرکین بھی اس وعید میں شامل ہیں ، قرآن پاک کے پیغام سے انکی نا آشنائی ،قرآن پاک کا ’’ہجر‘‘ یعنی اسکو چھوڑدینا ہے ،ایمان کی نعمت سے بہرومندافراد امت اسکی پاک آیا ت کی تلاوت سے غفلت برتیں ،اسکے معانی ومفاہیم جاننے کی طرف متوجہ نہ ہوں ،اسکے احکام سے روگردانی کریںیہ سب ہجر(یعنی قرآن پاک کو چھوڑدینے) کی تعریف میں آتے ہیں۔اللہ لا تجعلنا منہم’’ اے اللہ ہم کو ان میں سے نہ بنا‘‘(آمین)۔چونکہ قرآن پاک میں تذکیر کی ہدایت دی گئی ہے ،ارشاد باری ہے ’’اورنصیحت کرتے رہو یقینا یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع پہنچائے گی ‘‘ (الذاریات:۵۵) تذکیر امت دعوت(غیرمسلم اصحاب) میںبھی ہونی چاہئے اورامت اجابت (امت مسلمہ ) کے درمیان بھی ۔اس آیت پاک میں خطاب گوکہ سیدعالم سیدالمرسلین خیر الرسل سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن خیرامت جو خیر الامم ہے وہ بھی آپ ﷺ کی نسبت سے اس فریضہ منصبی کی پابندہے۔’’تذکیر‘‘ نصیحت ویاددہانی حکمت وبصیرت کے ساتھ ہونی چاہیئے ،پیارومحبت ،مروت شفقت بھی منصب تذکیر کا اہم تقاضہ ہے اس سے بھی غفلت نہیں برتی جانی چاہئے۔مزاج وطبیعت کی کج روی اگرکسی کو نصیحت حاصل کرنے سے محروم رکھتی ہے تو وہ انکا نصیب ہے ، نظام کائنات ،کلام ہدایت قرآن پاک اورخوداپنے نفس میں غورفکرکرکے خالق کائنات کی معرفت حاصل کرنا اورقرآن پاک نے جو پیغام دیا ہے اس سے روشنی حاصل کرنا ان پر فرض ہے۔مومنانہ مزاج تو ضروراس چشمہء فیض (قرآن )سے سیراب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اس تناظرمیںیہ وہ چند امورہیں کہ رمضان پاک کی آمد کی منا سبت سے جن کی تذکیر اوریاد دہانی ضروری سمجھی گئی ۔وباللہ التوفیق

TOPPOPULARRECENT