Saturday , November 18 2017
Home / عرب دنیا / رمضان میں دن کے وقت کھانا سرکشی اور غیراسلامی فتوے پر سوشیل میڈیا میں بحث

رمضان میں دن کے وقت کھانا سرکشی اور غیراسلامی فتوے پر سوشیل میڈیا میں بحث

قاہرہ ۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) رمضان کے مہینے میں جو لوگ روزہ رکھتے ہیں ان کے ذہنوں میں کھانے سے متعلق نظم و ضبط بہت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصر میں اس سے متعلق جب ایک بڑے عالم نے فیس بک پر اپنا فتویٰ جاری کیا تو لوگوں نے بڑے جذباتی انداز میں اس پر اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ حکومت کی جانب سے فتویٰ جاری کرنے والے ادارے درالافتا نے پانچ جون کو روزے کے دوران سبھی مذاہب کے لوگوں کو سختی سے عوامی جگہوں پر کھانے سے منع کرنے کے لیے لکھا تھا۔ ادارے نے اس فتوے کو اپنے فیس بک صفحے پر بھی پوسٹ کیا تھا۔اس پوسٹ میں کچھ یوں لکھا تھا: ’رمضان میں دن کے وقت کھانے پینے کا نظم ایک شخص کی اپنی آزادی کے دائرے سے باہر ہے۔ یہ ایک طرح کی سرکشی اور اسلام کے تقدس پر حملہ ہے۔ رمضان میں دن کے وقت عوامی سطح پر کھانا کھانا گناہ کے مترادف ہے۔ یہ جہاں ممنوع ہے وہیں اسلامی ممالک میں اس سے عوامی مزاج اور اسلامی شعار کی توہین ہوتی ہے۔ اس سے معاشرے کی حرمت اور اس کے قابل احترام عقائد کے حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہوتی ہے۔‘
اس پوسٹ کو پانچ ہزار سے زیادہ لوگوں نے جہاں شیئر کیا وہیں دس ہزار سے زیادہ لوگوں نے پسند بھی کیا۔ تاہم بہت سے لوگوں نے اس پر ناراضی کا بھی اظہار کیا ہے۔بعض لوگوں نے لکھا کہ اس فتوے کا مواد ’فاشسٹ‘ نوعیت کا ہے اور یہ خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے سخت گیر موقف کی ترجمانی ہے۔ایک مصری شخص نے اس پر اپنے رد عمل میں لکھا: ’کیا یہ وہی عقیدہ ہے جس کی آپ تبلیغ کرنا چاہیں گے؟ کیا آپ خدا کے الفاظ پر عمل کے لیے تشدد پھیلانا چاہتے ہیں؟۔ اگر خدا نے لوگوں کو آزادی دے رکھی تو پھر آپ ان پر مذہب کے لیے زبردستی کرنے والے کون ہوتے ہیں۔‘

Top Stories

TOPPOPULARRECENT