Monday , November 20 2017
Home / آپ کے سوال / رمضان میں فرض غسل

رمضان میں فرض غسل

سوال : اگر ہم رمضان کے مہینے میں ہماری بیوی کے ساتھ بستر کرتے ہیں تو ان اوقات میں پانی نہانے کا کیا حکم ہے ؟ (1) اذان سے پہلے (2) نماز کے وقت تک (3) کبھی بھی۔ اس کا ہمیں جواب بتائیں تو مہربانی ہوگی ؟
عبدالعزیز، عنبرپیٹ
جواب : رمضان المبارک میں اگر کسی پر غسل تعلق زن و شو کی بناء فرض ہوجائے تو وہ کسی بھی وقت غسل کرسکتا ہے۔ تاہم فجر کی نماز فرض ہے۔ اس کی ادائی لازم ہے اس لئے فجر سے پہلے وضو کرلینا چاہئے اور کسی وجہ سے تاخیر ہوجائے تو اس کی وجہ سے روزہ پر اثر واقع نہیں ہوتا۔ تاہم بلا وجہ تاخیر ناپسندیدہ ہے۔

زکوٰۃ کا نصاب
سوال : زکوٰۃ کن کن چیزوں پر واجب ہے اور ان کے نصاب کیا کیا ہیں ؟
عمیرخان، وٹے پلی
جواب : زکوٰہ چار قسم کے اموال پر فرض ہے : (1) سائمہ جانوروں پر (2) سونے چاندی پر (3) ہر قسم کے تجارتی مال پر (4) کھیتی درختوں کی پیداوار پر ، ( اگرچہ اصطلاحاً اس قسم کو عشر کہتے ہیں) ۔ ان اقسام کے نصاب علحدہ علحدہ ہیں۔
چاندی سونے اور تمام تجارتی مال میں چالیس واں حصہ زکوٰۃ فرض ہے ۔ چاندی کا نصاب دو سو درہم یعنی 425 گرام 285 ملی گرام ہے۔ اس سے کم چاندی پر زکوٰۃ نہیں۔ زکوٰہ تول کردینا چاہئے، درہم یا روپئے کی گنتی خلاف احتیاط ہے۔ سونے کا نصاب بیس مثقال یعنی 60 گرام 755 ملی گرام ہے۔ اس پر 40 واں حصہ زکوٰۃ فرض ہے۔ سونے چاندی کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے ۔ زکوٰۃ ادا کرتے وقت سونے چاندی کی جو قیمت ہو، اس کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی ۔ زکوٰۃ ادا کرتے وقت نقد رقم کے بجائے سونے یا چاندی کی زکوٰۃ اسی جنس میں بھی ادا کی جاسکتی ہے ۔ تجارتی مال کا نصاب بھی یہی ہوگا ۔ تجارتی مال وہ مال ہے جو فروخت کرنے کی نیت سے لیا ہو۔ اس کا نصاب مال کی قیمت کے اعتبار سے ہوگا ۔ یعنی اگر کل مال کی قیمت 425 گرام 285 ملی گرام چاندی یا 60 گرام 755 ملی گرام سونے کی قیمت کے برابر ہو یا اس سے زائد ہو تو سال گزر جانے پر اس کی زکوٰۃ ، چالیسواں حصہ دینا فرض ہے۔
چاندی سونے میں اگر کسی اور چیز کی ملاوٹ ہے مگر وہ غالب نہیں تو وہ کالعدم ہوگی ۔ اگر غالب ہے تو اس میں زیر نصاب جنس کی مالیت کی زکوٰۃ ہوگی ۔ سائمہ جانوروں کے بارے میں شرط ہے کہ وہ جنگلی نہ ہوں اور یہ کہ تجارت کی نیت سے پا لے جائیں۔ پانچ اونٹوں پر زکوٰۃ فرض ہے ۔ اس کے لئے ایک بکری ( نر یا مادہ) زکوٰۃ ہوگی ۔ پچیس اونٹوں میں ایک اونٹنی جس کا دوسرا برس شروع ہوچکا ہو۔
چھتیس اونٹوں میں ایک اونٹنی جس کا تیسرا برس شروع ہوچکا ہو۔ اسی طرح ایک خاص تعداد کے مطابق زکوٰۃ بڑھتی جائے گی جس کی تفصیل کتب فقہ میں آئی ہے ۔ گائے بھینس کے سلسلے میں تیس گایوں بھینسوں میں ایک گائے یا بھینس کا بچہ جوایک برس کا ہو۔ اسی طرح آگے تعداد بڑھنے پر ایک خاص شرح کے مطابق زکوٰۃ بھی بڑھتی جائے گی ۔ بھیڑ ، بکری میں چالیس کے لئے ایک بھیڑ یا بکری ، ایک سو سے زائد ہوں تو ہر سو میں ایک بکری۔

نابالغ کے مال پرزکوٰۃ کا حکم
سوال : میری لڑکی آٹھ سال کی ہے۔ میں اس کی شادی کے لئے سونا جمع کرتا ہوں، ہر سال دو تین تولہ سونا خریدتا ہوں۔ اب تک میں نے اس کے نام سے گیارہ تولے سونا جمع کیا اور وہی اس کو استعمال کرتی ہے۔ کیا ہر سال اس کی وجہ سے اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ؟ مجھے معلوم نہیں۔ اگر اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اب تک جتنے سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی اس کی زکوٰۃ نکالنا ضروری ہے ؟
حیدر علی،مادنا پیٹ
جواب : نابالغ لڑکا یا لڑکی پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ البتہ ان کی جانب سے صدقہ فطر کی ادائی اور قربانی واجب ہے ۔ ’’ الزکوٰۃ فرض علی المخاطب ‘‘ (قاضی خان مطبوعہ بر عالمگیری ج : 1 ، ص : 225 )
و اما شرائط الوجوب منھا الیسار و ھو ما یتعلق بہ وجوب صدقۃ الفطر دون ما یتعلق بہ وجوب الزکوۃ واما البلوغ والعقل فلیس بشرط حتی کان للصغیر مال یضحی عنہ ابوہ او وصیۃ من مالہ (عالمگیری ج : 4 کتاب الاضحیۃ) ۔
صورت مسئول عنھا میں جو سونا خریدکر بچی کو دیا گیا ہے اگر بچی کو مالک بنایا گیا ہے تو بچی پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی ۔ اگر ملکیت ماں کی ہو صرف استعمال کے لئے بچی کو دیا گیا تو ایسی صورت میں ماں پر زکوٰ ۃ واجب ہوگی اور جس سال نصاب ہوا ، اس سال سے اب تک کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔

تین روز کا اعتکاف
سوال : ہمارے محلہ کی مسجد میں رمضان میں صرف تین روز کا اعتکاف ہوتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کافی ہے جبکہ زید کہتا ہے کہ اعتکاف دس دن کا کرنا ہے ورنہ تمام محلہ کے لوگ گنہگار ہوں گے۔ شرعی حکم کیا ہے بیان کیجئے؟
بلال الدین، کاروان
جواب : رمضان المبارک کے آخری دہے کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایۃ ہے۔ محلہ کی مسجد میں مکمل آخری دہے میں کوئی نہ کوئی اعتکاف رکھنا چاہئے ورنہ سب گنہگار ہوںگے۔ الدرالمختار جلد 2 باب الاعتکاف ص 141 میں ہے (وسنۃ مؤکدۃ فی العشر الاخیر من رمضان) ای سنۃ کفایۃ کما فی البرھان و غیرہ ۔ اور ردالمحتار میں ہے : قولہ (ای سنۃ کفایۃ) نظیرھا اقامۃ التراویح بالجماعۃ ۔ فاذ اقام بھا البعض مسقط الطلب عین الباقین ۔

رمضان اور شاپنگ
سوال : ماہ رمضان میں مرد و خواتین کے شاپنگ کے حیلے سے بازاروں میں چہل قدمی اور بے حیائی عام ہوتے جارہی ہے جس سے مسلمانوں کی تہذیب اور ان کی طرز زندگی کا لوگوں پر غلط اثر ہورہا ہے۔ برائے کرم شریعت اسلامیہ میں حیاء کی جو تاکید آئی ہے وضاحت فرمائیں۔
نام مخفی
جواب : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ سے پہلے سے اہل عرب میں ‘ تمام تر شرافت و نجابت کے باوجود ‘ شرم و حیاء کا بہت کم رواج تھا‘ لوگ ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہونے میں قباحت نہ سمجھتے تھے‘ حتی کہ کعبہ کا طواف بھی بعض قبائل برہنہ ہوکر کرتے تھے مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدائشی طور پر شرم و حیا کا پیکر تھے۔ حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں : ’’ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشد حیاء من العذراء فی خدرھا ‘‘ (مسلم ‘ 4 : 1809 حدیث 2320 ) ‘ یعنی آپؐ پردہ دار دوشیزہ سے بھی زیادہ حیادار تھے ۔ آپؐ نے حیا کو ایمان کا شعبہ قرار دیا ہے (البخاری‘ 14:1 ‘ الایمان ‘ باب 16 ) ۔ آپؐ کے نزدیک حیاء ہی انسان کا اصل سرمایہ ہے‘ اگر وہ نہ رہے تو انسان جو چاہے کرے ’’ اذا لم تستحی فافعل ماشئت ‘‘ (البخاری ‘ کتاب الادب ‘ ابو داؤد 149:5 ‘ حدیث 4797 ‘ ابن ماجہ ‘ حدیث 3418 ‘ احمد بن حنبل : مسند ‘ 273:5 ) ۔ فرط حیاء کا یہ عالم تھا کہ آپؐ عموماً قضائے حاجت کے لئے اتنی دور نکل جاتے کہ وہاں تک کسی دیکھنے والے کی نگاہ نہ پہنچتی … (ابو داؤد ‘ کتاب الطہارۃ) اور آپؐ اس وقت تک اپنا تہہ بند نہیں اٹھاتے تھے‘ جب تک آپؐ زمین پر بیٹھ نہ جاتے… یا اس کے قریب نہ ہوجاتے۔ اور اگر آپؐ کو کوئی ایسی بات کسی کو سمجھانا پڑتی تو آپؐ اشاروں کنایوں میں بات سمجھاتے ‘ گویا آپؐ نے اپنی گفتگو میںبھی کبھی ’’ فحش پن ‘‘ کو اختیار نہیں فرمایا (قاضی عیاض : الشفاء ‘ ص 52 ) … عموماً میت کو غسل دیتے وقت اس قسم کی بے احتیاطی ہوجاتی ہے‘ مگر آپؐ نے یہ دعا (گویا وصیت) فرمائی کہ اے اللہ ! اس کی آنکھیں پھوڑدے جو میرا ستر دیکھے ‘‘ (ابو داؤد : السنن) ‘ چنانچہ آپؐ کو کپڑوں سمیت غسل دیا گیا (ابو داؤد ‘ 2503:3 ‘ حدیث 3141 ‘ ابن ماجہ ‘ حدیث 1464 ) ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے کہ اسلام میں حیاء کی کیا اہمیت ہے۔لیکن افسوس ہے کہ آج مسلم معاشرہ میں بے حیائی‘ بے پردگی روز بروز پروان چڑھتی جارہی ہے‘ جواسلامی روح کے خلاف ہے۔خصوصیت سے ماہ رمضان تو عبادتوں کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں بے حیائی اور خلاف شرع بازاروں میں گھومنا اللہ کی رحمت سے محرومی کا باعث ہے۔

زکوٰۃ دیتے وقت بدتمیزی سے پیش آنا
سوال : آج کل بڑی بڑی تنظیمیں، مالدار حضرات اپنی زکوٰۃ کی رقم ، مدارس کے صدور ، مساجد کے ذمہ دار اشخاص یا کسی بھی رعب دار شخصیت کے حوالے کردیتے ہیں۔ یہ لوگ ضروری اشیاء جیسے چاول ، دال کپڑا وغیرہ کی شکل میں غرباء میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک دو دن پہلے باقاعدہ اعلان کردیتے ہیں کہ دو عدد فوٹوز ، راشن کارڈ کا زیراکس یا آئی ڈی کارڈ کا زیراکس لیکر فلاں مقام پر آجائیں ۔ بعض غریب لوگ فوٹوز کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے یا پھر فوٹو دینا گوارا نہیں کرتے، شرم محسوس کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کو امداد سے محروم کردیتے ہیں اور ایسا سخت رویہ اختیار کرتے ہیں کہ یہ لوگ بیچارے مایوس ہوکر خالی ہاتھ لوٹ جاتے ہیں ۔ کیا اس طرح زکوٰۃ ، صدقہ ، خیرات دینا درست ہے؟ برائے مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی میں زکوٰۃ دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے ۔ جزاک اللہ
صبیحہ بیگم، کنگ کوٹھی
جواب : غریب و مستحقِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ کی رقم یا رقم کی بجائے غذائی اجناس مثلاً چاول ، دال اور کپڑے وغیرہ دینا شرعاً درست ہے۔ تاہم سوال میں ذکر کردہ ذمہ دار حضرات کا سلوک ازروئے شرع سخت ناپسندیدہ و مذموم ہے اور قابل اصلاح ہے۔ ذمہ دار افراد کو چاہئے کہ پاس و لحاظ کے ساتھ زکوٰۃ کی رقم یا غذائی اجناس مستحقین کو ادا کریں۔ ریکارڈ کی خاطر یا دھوکہ سے بچنے کیلئے فوٹوز اور راشن کارڈزکا زیراکس طلب کرتے ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں، البتہ جو لوگ عار محسوس کرتے ہیں، ان کا بھی خیال رکھنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ و فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم۔ ان کے سوال میں سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے دونوں کا معلوم حق ہے۔

گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ
سوال : ایک شخص پر نماز و زکوٰۃ واجب ہے لیکن وہ نمازو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا کچھ عرصہ کے بعد وہ خدا کے حضور توبہ استغفار کرتا ہے اور آئندہ زکوٰۃ ادا کرنے کا اپنے خدا سے وعدہ کرتا ہے، پچھلی زکوٰۃ کے بارے میں اس پر کیا حکم ہے کیا وہ پچھلی زکوٰۃ بھی ادا کرے۔ مثلاً دس سال تک زکوٰۃ ادا نہیں کی جبکہ اس کے پاس ذاتی مکان بھی نہیں ہے اور تنخواہ بھی صرف گزارے کی ہو ایسے شخص کیلئے زکوٰۃ کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
محمد نثار احمد، نظام آباد
جواب : نماز ، زکوٰۃ، روزہ سب کا ایک ہی حکم ہے۔ اگر کوئی شخص غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے ان فرائض کو چھوڑتا رہا تو صرف توبہ استغفار سے یہ فرائض معاف نہیں ہوں گے بلکہ حساب کر کے جتنے سالوں کی نمازیں اس کے ذمہ ہیں کو تھوڑی تھوڑی کر کے اداکرناشروع کردے۔ مثلاً نماز کے ساتھ ایک نماز قضاء کرلیا کرے بلکہ نفلوں کی جگہ بھی قضا نمازیں پڑھا کریں۔ یہاں تک کہ گزشتہ سالوںکی ساری نمازیں پوری ہوجائیں ، اسی طرح زکوٰۃ کا حساب کر کے وقتاً فوقتاً ادا کرتارہے۔ یہاں تک کہ گزشتہ سالوںکی زکوٰۃ پوری ہوجائے۔ اسی طرح روز ے کا حکم سمجھ لیاجائے ۔ الغرض ان قضا شدہ فرائض کا ادا کرنا بھی ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ ادا فرائض کا۔

TOPPOPULARRECENT