Friday , June 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / رمضان کی آمد ، نیکی کرنے میں غفلت نہ کریں

رمضان کی آمد ، نیکی کرنے میں غفلت نہ کریں

بیدر۔10؍جون۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) رمضان المبارک ہم پر جلد ہی سایہ فگن ہونے والا ہے۔ یقینا ہمارے دل میں اس ماہ کی بڑی قدر ہے لیکن کیا ہم اس کے لئے تیاری کرتے ہیں ؟کیا ہم اہلِ خانہ کو توجہ دلاتے ہیں کہ وہ بھی اس سلسلے میں تیاری کریں اور غفلت سے کام نہ لیں ۔ ان خیالات کا اظہار اقبال الدین انجینئر نے جلسہ ’’استقبال ِ رمضان‘‘ منعقدہ نورخاں

بیدر۔10؍جون۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) رمضان المبارک ہم پر جلد ہی سایہ فگن ہونے والا ہے۔ یقینا ہمارے دل میں اس ماہ کی بڑی قدر ہے لیکن کیا ہم اس کے لئے تیاری کرتے ہیں ؟کیا ہم اہلِ خانہ کو توجہ دلاتے ہیں کہ وہ بھی اس سلسلے میں تیاری کریں اور غفلت سے کام نہ لیں ۔ ان خیالات کا اظہار اقبال الدین انجینئر نے جلسہ ’’استقبال ِ رمضان‘‘ منعقدہ نورخاں تعلیم گراؤنڈ بید رمیں مردو خواتین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ موصوف نے مزید بتایاکہ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام ؓ کو شعبان میں ہی اکٹھا کرکے رمضان کی آمد کی خوشخبری سناتے اور خطبہ دیتے ۔ ایسے ہی ایک خطبہ میں آپ نے فرمایا۔ ’’اے لوگو!عنقریب تم پر ایک عظیم الشان ماہ مبارک سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اس ماہِ مبارک میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ میں روزے فرض کئے ہیں ۔ ا س کے قیام کو اپنی خوشنودی کا ذریعہ قرار دیا۔جس شخص نے اس ماہ میں ایک چھوٹا سا کارخیر انجام دیا اس نے دیگر ماہ کے فرائض کے برابر نیکی حاصل کرلی۔ یہ صبر اور ہمدردی کا مہینہ ہے۔ رزق میں کشادگی کا مہینہ ہے۔ روزہ دار کوکھانا کھلانے سے جہنم کی آگ سے بچ جاتے ہیں۔ اقبال الدین انجینئر نے مزید صلاح دی کہ رمضان میں توبہ واستغفار کے ساتھ دعا کااہتمام کریں ۔ اور سمجھ لیں کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اس لئے رمضان کی شروعات میں ہی نیک کام کرنے کی نیت کرلیں ۔ اور رمضان میں ایک بار پورے قرآن کے ترجمے کے ساتھ اس کا اعادہ کرلیں۔ اور سورۂ الزمر کے مطابق تہجد کا اہتمام کریں ۔ ارشاد ربانی ہے ’’وہ مطیع وفرماں بردار ہے رات کے پہر میں سجدہ اور قیام کی حالت میں ہوتاہے۔ اور اپنے رب سے رحمت کی امید لگاتاہے۔

نبی کریم نے فرمایا سحری کھاکر اور دوپہر کوقیلولہ کے ذریعہ رات کی نماز پر مد د حاصل کریں۔ مفتی نسیم بہاری مہمان خصوصی نے اپنی تقریر میں کہاکہ رمضان میں نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ بھی کرنا چاہئیے۔ کیونکہ آپ کے ذکرِ مبارک سے ایمان کو جلاملتی ہے۔ زندگی کو رہنمائی ملتی ہے۔ انسان کے سامنے ایک عملی نمونہ آتاہے۔ اور انسان عملی نمونہ سے ہی متاثر ہوتاہے۔ انسا ن کے کردار کی تعمیر دنیا کانازک ترین اور مشکل کام ہے۔ ناگزیر اور اہم ترین بھی ہے ۔ اس کے بغیر نہ صالح معاشرہ وجود میں آسکتاہے اور نہ دنیا میں امن وسکون قائم ہوسکتاہے۔ اللہ نے آپ کی زندگی کو نمونے کے طورپر پیش کیاہے۔ ’’یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسول ؐ کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے۔ ضرورت ہے کہ سیرتِ مبارکہ کو پڑھا اور لکھاجائے۔ کیونکہ اس سے دلوں کو تسخیر کرنے کی بڑی قوت ہے۔ اور حضرت عائشہ ؓ سے کسی نے حضور کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو آپ ؓ نے جواب دیا ’’کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ ‘‘ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں آپس کے انتشار ، کینہ کپٹ رکھنے والوں اور اپنے قہر سے مکمل محفوظ فرمائے۔ جلسہ کا آغاز حافظ مدثر کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ محمدریان الدین صاحب بابا کی نظامت اور زاہد ولد نصراللہ لیکچرر کے شکریہ پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

TOPPOPULARRECENT