Saturday , May 26 2018
Home / شہر کی خبریں / رمضان کے خصوصی سیل سنٹرس پر جی ایس ٹی، پولیس اور بلدیہ کی نظریں

رمضان کے خصوصی سیل سنٹرس پر جی ایس ٹی، پولیس اور بلدیہ کی نظریں

محکمہ کمرشیل ٹیکس، کسٹمس اور جی ایس ٹی کا فیصلہ، شادی خانے اصل نشانہ

حیدرآباد۔13مئی (سیا سست نیوز) ماہ رمضان المبارک کے دوران شادی خانوں میں لگاے جانے والے سیل پر جی ایس ٹی ‘ محکمہ پولیس اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی نظریں مرکوز ہو چکی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ ماہ رمضان المبارک کے دوران شادی خانوں میں لگائے جانے والے سیل کے دورا ہونے والی فروخت سے جی ایس ٹی کی وصولی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی اور سیل میں لگائے جانے والے تجارتی مراکز کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں تجارتی اداروں کی جانب سے انجام دیئے جانے والے کاروبار پر محکمہ کمرشیل ٹیکس‘ کسٹمس اور جی ایس ٹی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں جن شادی خانوں میں سیل لگائے جاتے ہیں ان میںکی جانے والی تجارت پر خصوصی نگاہ رکھی جائے کیونکہ محکمہ کمرشیل ٹیکس کے عہدیداروں کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ان تجارتی نمائش اور سیل کے دوران جو اشیاء فروخت کی جاتی ہیں ان اشیاء کے پکے بل جاری نہیں کئے جاتے جس کے سبب ٹیکس چوری ہورہی ہے۔ شہر حیدرآباد میں جی ایس ٹی امور کے نگران عہدیدار نے بتا یا کہ شادی خانوںمیں کسی بھی طرح کے سیل کیلئے الاٹ کی جانے والی اسٹالس سے وصول کی جانے والی رقومات پر بھی جی ایس ٹی عائد ہوتا ہے اور اس جی ایس ٹی کی وصولی کے سلسلہ میں بھی تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ بتایاجاتاہے کہ جی ایس ٹی حکام کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں سے بھی مشورہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے جی ایس ٹی حکام کو دی گئی رپورٹ کے مطابق شادی خانوں میں سیل یا نمائش کے انعقادکیلئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے کوئی خصوصی اجازت نہیں دی گئی ہے اور شادی خانو ںکو جو تجارتی لائسنس جاری کئے گئے ہیں ان تجارتی لائسنس کی بنیاد پر شادی خانوں میں اس طرح کی تجارتی سرگرمیاں بالخصوص نمائش و سیل کا انعقاد درست نہیں ہے اسی لئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے ان شادی خانوں کے خلاف کاروائی کا منصوبہ تیار کیا جائے گا جن شادی خانوں میں سیل لگائے جاتے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جی ایچ ایم سی حکام نے ایک ماہ کیلئے خصوصی اجازت کی مشروط فراہمی کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے جس میں شادی خانوں میں سیل اور نمائش کیلئے لازمی ہے کہ وہ خصوصی فیس ادا کرنے کے علاوہ نمائش اور سیل میں پہنچنے والوں کے لئے مفت پارکنگ کی فراہمی کے علاوہ سیل میں حصہ لینے والوں کی مکمل تفصیلات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کے مطابق اس طرح کے سیل کیلئے لازمی ہے کہ درخواست گذار محکمہ پولیس‘ محکمہ برقی‘ محکمہ فائر اور ٹریفک پولیس کا اجازت نامہ حاصل کرے اور ان اجازت ناموں کے ساتھ جی ایچ ایم سی سے رجوع ہوتے ہوئے ایک ماہ کے خصوصی سیل کی اجازت کیلئے درخواست داخل کرے ۔جی ایچ ایم سی کی جانب سے درخواستوں کی یکسوئی کے فوری بعد تمام تفصیلات جی ایس ٹی حکام کو حوالہ کردی جائیں گی اور ان تفصیلات کی بنیاد پر جی ایس ٹی حکام ان تجارتی نمائش و سیل سے ٹیکس کی وصولی پر توجہ مرکوز کریں گے۔شہر حیدرآباد میں گذشتہ برسوں کے دوران شادی خانوں میں رمضان المبارک کے دوران خصوصی سیل لگائے جانے کاسلسلہ چل پڑا ہے اور سیل لگانے والوں کی جانب سے ایک ماہ کے لئے شادی خانہ حاصل کرتے ہوئے اسٹالس فروخت کئے جاتے ہیں اور پارکنگ کا ٹھیکہ اپنے پاس رکھا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT