Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / رمضان کے سبب ’بنگا بھوشن ایوارڈ‘ لینے نہیں پہنچنے امام مولانا راشدی

رمضان کے سبب ’بنگا بھوشن ایوارڈ‘ لینے نہیں پہنچنے امام مولانا راشدی

کولکاتہ 21 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ’بنگا بھوشن ایوارڈ‘ لینے مولانا امام مولانا امداد اللہ راشدی رشیدی نہیں پہنچے۔ مولانا نے کہا کے رمضان کے مقدس مہہنے میں وہ کولکاتا کا سفر کرنے سے قاصر ہیں۔مولانا نے کہا کے رمضان عبادت کامہینہ ہے اور وہ اس میینے میں عبادت کے علاوہ دوسری کسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوسکتے۔ اس لئے وہ بنگال حکومت کی جانب سے ایوارڈ لینے نہیں جارہے ہیں ۔واضح رہے کہ آسنسول فساد میں مولانا امداد اللہ راشدی نے جواں سال بیٹے کو کھودیا تھا۔ تاہم انہوں عوام سے امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میرے بیٹے کی وجہ سے تشدد بھڑکا تو میں شہر چھوڑ کر چلاجاوں گا اور کبھی نہیں لوٹوں گا۔اس پورے معاملے کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ان کے عزم اور حوصلے کو سراہتے ہوئے مولانا کی امن اپیل سے متاثر ہو کر ا نہیں بنگا بھوشن ایوارڈ سے سرفراز کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم رمضان کی وجہ سے وہ اسے حاصل نہیں کرسکے۔ آج ممتا بنرجی نے آشابھونسلے کو ایوارڈ سے نوازا ہے۔ دراصل امام مولانا راشدی کے بیٹے صبغۃ اللہ راشدی نے فساد سے چند دنوں قبل دسویں بورڈ کا امتحان دیا تھا۔ وہ فساد کے دن لاپتہ ہوگیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ فسادیوں کی بھیڑ نے اسے اغواکیا تھا۔ایک دن بعد اس کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ یہ شناخت ہونے پر کہ یہ مسجد کے امام مولانا امداد اللہ کے بیٹے صبغۃ اللہ کی لاش ہے، اس کے بعد سے ہی آسنسول کے مسلم محلوں میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ یہ کشیدگی بڑے فساد میں تبدیل ہوسکتی تھی۔ لیکن موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے امام صاحب نے بروقت مداخلت کی اور آگے بڑھ کر عوام سے امن کی اپیل کرکے ان کے غصہ کو ٹھنڈا کیا اور ملک کیلئے ایک نئی مثال پیش کی۔

TOPPOPULARRECENT