Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / رمضان گفٹ پیاکٹس کی تقسیم پر ہائیکورٹ کی شرائط

رمضان گفٹ پیاکٹس کی تقسیم پر ہائیکورٹ کی شرائط

محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کی مشکلات میں اضافہ
حیدرآباد۔/17جون، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے رمضان المبارک کے موقع پر 2 لاکھ غریبوں میں گفٹ پیاکٹس کی تقسیم کے سلسلہ میں ہائی کورٹ کی جانب سے بعض شرائط عائد کئے جانے سے محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کی مشکلات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے فنڈ سے دعوت افطار اور گفٹ پیاکٹس کی تقسیم کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے محکمہ اقلیتی بہبود کو ہدایت دی کہ رمضان پیاکیج کے تحت تقسیم کئے جانے والے گفٹ پیاکٹس کے استفادہ کنندگان کی تفصیلات اندرون تین ہفتے عدالت میں پیش کی جائیں۔ عدالت نے گفٹ پیاکٹس حاصل کرنے والے شخص سے آدھار کارڈ اور سفید راشن کارڈ کی کاپی حاصل کرنے کی ہدایت دی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ حقیقی معنوں میں غریب اور مستحق افراد تک گفٹ پیاکٹس پہنچ پائے ہیں۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی گئی کہ وہ سفید راشن کارڈ اور آدھار کارڈ کی نقل حاصل کرنے کیلئے مساجد کمیٹیوں کو مشورہ دیں۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں وقف بورڈ کی جانب سے مساجد کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تقسیم کے موقع پر آدھار کارڈ اور سفید راشن کارڈ کی کاپی حاصل کریں۔ عدالت نے ایسے وقت یہ شرط عائد کی جبکہ بیشتر علاقوں میں گفٹ پیاکٹس کی تقسیم عمل میں آچکی تھی۔ حیدرآباد اور اضلاع کے کئی مقامات پر مقررہ پروگرام کے تحت 16 جون کو گفٹ پیاکٹس مساجد کے پاس تقسیم کردیئے گئے۔ اب باقی مساجد میں تقسیم کے موقع پر سفید راشن کارڈ اور آدھار کارڈ کی نقل حاصل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مساجد کمیٹیاں اور عوامی نمائندے اس شرط پر اعتراض کررہے ہیں کیونکہ غریب افراد کیلئے بیک وقت دو دستاویزی ثبوت پیش کرنے کیلئے اصرار کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ حکومت نے تقسیم کے سلسلہ میں جو احکامات جاری کئے اس میں صرف غریب افراد کا تذکرہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ باقی مساجد میں گفٹ پیاکٹس کی تقسیم کے موقع پر آیا یہ تفصیلات حاصل کی جائیں گی؟۔ محکمہ اقلیتی بہبود تین ہفتے بعد گفٹ پیاکٹس سے استفادہ کنندگان کی تفصیلات عدالت میں کس طرح داخل کرے گا یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے جاریہ سال 2 لاکھ گفٹ پیاکٹس کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے جبکہ گزشتہ سال ایک لاکھ پیاکٹس کی تقسیم عمل میں آئی تھی۔ شہر اور اضلاع میں جملہ 800 مساجد کا انتخاب کیا گیا جن کی فہرست مقامی عوامی نمائندوں سے حاصل کی گئی۔ ہر مسجد میں 500 گفٹ پیاکٹس تقسیم کئے جائیں گے جبکہ 18 جون کو ان مساجد میں دعوت افطار اور 500 افراد کے لئے کھانے کا انتظام رہے گا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ ایم اے منان فاروقی نے کل ہائی کورٹ میں سماعت کے موقع پر بعض ریکارڈ پیش کئے جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال دعوت افطار اور طعام کے سلسلہ میں مساجد کو جو رقم جاری کی گئی تھی ان میں سے بعض مساجد نے بچ جانے والی رقم وقف بورڈ کو واپس کردی ہے۔

TOPPOPULARRECENT