Sunday , December 17 2017
Home / سیاسیات / رنگ بدلتی بھگوا پارٹی الیکشن کے پیش نظر بی جے پی کی دوغلی پالیسی

رنگ بدلتی بھگوا پارٹی الیکشن کے پیش نظر بی جے پی کی دوغلی پالیسی

 

شیلانگ۔ 21 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکز نے برسراقتدار این ڈی اے حکومت کی کئی پالیسیوں میں عدم یکسانیت پائی جاتی ہے، جس میں 2014ء میں مودی حکومت عنان اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی خصوصیت کے ساتھ بیف کے معاملے میں دوغلی پالیسی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کی تازہ مثال میگھالیہ ہے جہاں بی جے پی نے بیف پر پابندی عائد نہیں کی ہے حالانکہ ملک کی کئی دیگر ریاستوں میں جہاں بھگوا پارٹی کا اقتدار ہے، اس قسم کے گوشت کی خرید و فروخت پر نہ صرف امتناع عائد ہے بلکہ وہاں مسالخ بند کرادیئے گئے ہیں۔ شیلانگ میں گزشتہ روز بی جے پی نے کہا کہ میگھالیہ میں بیف پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی اور الزام عائد کیا کہ کانگریس آئندہ سال کے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی خاطر اس مسئلہ پر عوام کو ’’گمراہ‘‘ کررہی ہے۔ ریاستی صدر بی جے پی شیبون لنگڈوہ نے کہا کہ مرکز نے میگھالیہ میں ایسا کوئی امتناع لاگو نہیں کیا ہے نیز یہ کہ 23 مئی کا اعلامیہ محض اس معاملے میں باقاعدگی لانے کی خاطر جاری کیا گیا کہ کونسے مویشیوں کی خرید و فروخت کی اجازت رہے گی اور تجارت کیلئے لائے جانے والے جانوروں سے کس طرح کا برتاؤ روا رکھا جانا چاہئے۔ بی جے پی ترجمان جے اے لنگڈوہ نے ایک بیان میں کہا کہ پارٹی پہلے ہی وضاحت کرچکی ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں میں بیف پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ مویشیوں سے متعلق اُمور ریاستی موضوع ہے اور اس بارے میں فیصلہ کرنا ریاستوں کا اختیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گاؤ کشی کو روکنا نہ کوئی اچھا معاشی اقدام ہے اور نہ ہی اسے دستور تائید و حمایت حاصل ہے۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ برسراقتدار کانگریس کے پاس بی جے پی سے مقابلہ کیلئے اب حوصلہ نہیں رہا، پارٹی ترجمان نے کہا کہ چیف منسٹر مُکل سنگما عوام کو اس مسئلہ پر گمراہ کررہے ہیں۔ چیف منسٹر نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ مرکزی حکومت کے اعلامیہ سے دستبرداری کی جانی چاہئے کیونکہ اس سے ریاست کی معیشت متاثر ہوگی اور عوام کی غذائی عادات و اطوار پر اثر پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT