Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / رواداری سماج کو تنازعات سے پاک بنانے کا فارمولا

رواداری سماج کو تنازعات سے پاک بنانے کا فارمولا

بین مذہب مذاکرات سے غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد : نائب صدر حامد انصاری کا خطاب
ملاپورم12 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) عدم رواداری پر مباحث کے دوران نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے آج کہا کہ سماج کو تنازعہ سے پاک رکھنے کیلئے رواداری ہی ایک قابل عمل فارمولا ہے اور انہوں نے غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے بین مذاہب مذاکرات کی پرزور وکالت کی ہے ۔ جناب حامد انصاری نے یہاں ایک بین مذاہب کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کو سمجھنے اور قبول کرنے کے ستاھ رواداری بھی ایک جامع اور اجتماعی سماج بنانے کیلئے بہت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی سماج کو تنازعہ سے پاک بنانے اور مختلف مذاہب ‘ مختلف سیاسی نظریات ‘ قومی اور نسلی گروپس میں کسی تنازعہ کو روکنے کیلئے رواداری ہی ایک قابل عمل فارمولا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ روادیر کے نتیجہ ہی میں ہمیںتعصب سے زادی ملتی ہے ۔ یہ ایک سنہرے دور کا حصہ ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی ہمارے ساتھ بہتر اور معزز رویہ رکھیں تو پھر ہمیں بھی انہیں بہتر اور معزز انداز میں ہی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں قانون اور عوامی زندگی میں مذہبی رواداری کو فروغ دیا جاتا ہے اور اسے قبول کیا جاتا ہے ۔ اس کے باوجود صرف رواداری ہی ایک اجتماعی اور ہمہ جہتی سماج کی تعمیر کیلئے بنیاد بننے کی طاقت نہیں رکھتی ۔

اس کو سمجھنے اور قبول کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ جناب حامد انصاری نے کہا کہ حکومت کے اداروں سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ سکیولرازم کے اصولوں کو عوامی زندگی میں بھی من و عمل رائج کریں۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ ہندوستان میں دنیا کے تمام عظیم مذاہب کا وجود ہے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمارے سماج میں صدیوں سے ہی بے مثال سماجی اور دانشورانہ ماحول فراہم کیا گیا ہے جس میں مختلف مذاہب پرامن بقائے باہم کے ساتھ فروغ پا رہے ہیںاور اس سے دوسروں کو بھی فائدہ پہونچیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ سرکاری کام کاج بالکل سکیولرازم کے اصولوں پر ہونا چاہئے ۔ حکومتوں کو غیر جانبداری ‘ منصفانہ انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو چاہئے کہ ملک میں تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے ‘ مساوی احرام کیا جائے اور اسے ایک مذہب کو دوسرے پر اور ایک برادری کو دوسری پر فوقیت دینے سے گریز کرنا چاہئے ۔ انہوں نے سوامی ویویکانند کے حوالے سے کہا کہ ہمیں نہ صرف دوسرے مذاہب کو برداشت کرنے کی بلکہ مثبت انداز میں انہیںقبول کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تمام مذاہب کی بنیاد سچائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بین مذاہب مذاکرات سے غلط فہمیوں کو ختم کرکے سمجھ بوجھ کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT