Sunday , December 17 2017
Home / ہندوستان / روایتی اطباء کو طبی اسقاط حمل کی اجازت زیرغور

روایتی اطباء کو طبی اسقاط حمل کی اجازت زیرغور

غیر ایلوپتھک پریکٹشنرس کی جانب سے ایلوپتھی طریقہ کار کا استعمال پر انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کا اعتراض
نئی دہلی ۔ /22 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام)  وزارت صحت نے قانون طبی اسقاط حمل میں ایک ترمیم تجویز کرتے ہوئے روایتی دیسی طب کی ڈگری رکھنے والے پریکٹشنرس کو اس عمل میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ قانونی طور پر جائز اسقاط حمل کی خدمات کی دستیابی میں اضافہ کیا جاسکے ۔ مملکتی وزیر آیوش سری پدسیونائک نے اپنے ایک تحریری جواب میں راجیہ سبھا کو مطلع کیا کہ ’’ مرکزی وزارت صحت قانون ایم ٹی پی 1971 ء میں ترمیم کی تجویز رکھتی ہے تاکہ اسقاط حمل کی قانونی اور محفوظ خدمات کی دستیابی میں اضافہ کیا جائے ۔ اس مقصد کے لئے روایتی دیسی طب کی ڈگری کے حامل پریکٹشنرس کو شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے ‘‘ ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن ( آئی ایم اے) اور فیڈریشن آف آبسٹٹرک اینڈ گائناکلوجیکل سوسائیٹیز آف انڈیا ( ایف اور جی ایس آئی) نے نئے کیڈرس کی شمولیت پر اعتراض کیا ہے ۔ نائک نے کہا ہے کہ ان اداروں نے غیر ایلوپتک ڈاکٹروں کی جانب سے ایلوپتٹھک ادویات تجویز کرنے اور (اسقاط حمل کیلئے ) ایلوپتھک طریقہ کار اختیار کئے جانے کی مخالفت کی ہے ۔ چنانچہ ایسے دیہی علاقوں میں جہاں ایلوپتھک ڈاکٹرس دستیاب نہیں ہیں ۔ خواتین کو اسقاط حمل کی محفوظ خدمات کی فراہمی کے مسئلہ کا حل تلاش کرنے ان اداروں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا لیکن کوئی حل برآمد نہ ہوسکا ۔ انہوں نے کہا کہ روایتی ودیسی طب کے پریکٹشنرس کو اسقاط حمل کیلئے طبی طریقہ اختیار کرنے کی اجازت دینے وزارت صحت نے ایک تجویز پیش کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT