Tuesday , September 25 2018
Home / مذہبی صفحہ / روح و مادہ وجود ممکنات کا مبداء نہیں ہوسکتے

روح و مادہ وجود ممکنات کا مبداء نہیں ہوسکتے

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات و صفات اور کمالات اُلوہیت پر اس قسم کی بے شمار دلیلیں قائم فرمائی ہیں جن کو سمجھنے کے بعد کوئی شخص ایک آن کیلئے بھی یہ تصور قبول نہیں کرسکتا کہ عالم ممکنات روح اور مادہ کی مخفی قوتوں اور خاصیتوں کا نتیجہ ہے اور حوادث کونیہ کے باعث اتفاقاً یہ نظام عالم قائم ہوگیا ہے بلکہ اس کی فطرت سلیمہ زبان حال سے پکارے گی کہ : وہ مادہ جس میں نہ حس ہے نہ حیات، نہ شعور ہے نہ ادراک اور وہ روح جس کا دامن احتیاج (مادہ پرستوں کے نزدیک) ہر محلہ پر بے شعور مادہ سے بندھا ہوا ہے دنیائے علم و عقل کا مبداء حیات موجودات کا سرچشمہ اور کائنات کے نظام محکم کا مرکز قرار پائے۔ علم و خرد کی روشنی میں جہالت اور حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔
مراتب توحید:  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ مراتب توحید چار ہیں۔
۱۔   صفت وجود کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص کرنا کہ اس کے سوا کوئی واجب الوجود نہیں۔
۲۔  ہر شے کا خالق اللہ تعالیٰ کو جاننا۔ ٭یہ دونوں مرتبے مشرکین عرب، یہود و نصاریٰ سب کے نزدیک مسلم ہیں۔
۳۔   ہر شے کا مدبر صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھے۔
۴۔ اس کے سوا کسی دوسرے کو مستحق عبادت نہ جانے۔
یہ دونوں مرتبے آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ اخیر کے دونوں مرتبوں میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے جن میں بڑے گروہ تین ہیں۔ اول نجومی، دوم مشرکین، سوم نصاریٰ۔ (حجۃ اللہ البالغہ ملخصاً)
حقیقت شرک: اقول ۔ حقیقت یہ ہے کہ مراتب اربعہ مذکورہ بلکہ جمیع صفات الوہیت و کمالات ربوبیت میں ایسا تلازم ہے کہ ایک کا دوسرے کے ساتھ پایا جانا عقلاً واجب ہے اور واجب عقلی کا انتفاء ممتنع لذاتہ ہے۔ لہذا جس نے ان میں سے کسی ایک کو دوسرے سے الگ جانا اس نے باب توحید میں امر ممتنع بالذات کو ممکن اعتقاد کیا اور یہی شرک ہے۔
قرآن مجید میں دلائل توحید اور ’’واحد‘‘ و ’’احد‘‘ کا استعمال:
قرآن مجید میں توحید باری تعالیٰ کا دعویٰ اور اس کے دلائل بکثرت پائے جاتے ہیں۔ بعض آیات میں لفظ واحد اور کہیں لفظ احد بھی وحدانیت الٰہیہ کے بیان میں وارد ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم (بقرہ) اور سورۂ اخلاص میں ہے قل ھو اﷲ احد اﷲ الصمد مطلقاً وصف کے لئے استعمال لفظ احد کا استعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔ غیر اللہ کے لئے مطلقاً اس کا استعمال نہیں۔ بعض لوگوں نے ’’احاد‘‘ کو احد کی جمع کہا ہے مگر محققین نے اس کا انکار کیا۔ (کمال فی تیسیر الباری)
TOPPOPULARRECENT