Thursday , June 21 2018
Home / دنیا / روزہ رکھنے کے خلاف ایغور مسلمانوں کو حکومت چین کا انتباہ

روزہ رکھنے کے خلاف ایغور مسلمانوں کو حکومت چین کا انتباہ

بیجنگ ۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ رمضان المبارک کا آغاز ہونے والا ہے چین کے ژنجیانگ صوبہ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف حکومت کمربستہ ہوگئی ہے جہاں ان سے یہ حلف لیا جائے گا کہ وہ رمضان المبارک میں روزے نہیں رکھیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران اسلامی شورش پسندوں پر ہمیشہ حکومت چین نے یہ الزام لگایا کہ وہی مختلف ہلاکت انگیز حم

بیجنگ ۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ رمضان المبارک کا آغاز ہونے والا ہے چین کے ژنجیانگ صوبہ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف حکومت کمربستہ ہوگئی ہے جہاں ان سے یہ حلف لیا جائے گا کہ وہ رمضان المبارک میں روزے نہیں رکھیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران اسلامی شورش پسندوں پر ہمیشہ حکومت چین نے یہ الزام لگایا کہ وہی مختلف ہلاکت انگیز حملوں میں ملوث ہیں جس میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سرکاری میڈیا اور ویب سائیٹس مختلف سرکاری نوٹسیں اپ لوڈ کی ہیں جہاں پارٹی ارکان، سیول سرونٹس، طلباء اور ٹیچرس کو انتباہ دیا گیا ہیکہ وہ رمضان المبارک میں روزے رکھنے کا ہرگز اہتمام نہ کریں جبکہ مختلف ’’حلال‘‘ ریستورانوں کو بھی ہدایت کی گئی ہیکہ وہ ماہ رمضان المبارک کے دوران بھی ریستورانس کھلے رکھیں۔

’چین مصنوعی جزیروں کی تعمیر کا کام مکمل کرے گا‘
بیجنگ ۔ 16 جون (سیاست ڈا ٹ کام) چین کی وزراتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیروں کے منصوبوں کو جلد مکمل کر لیا جائیگا۔امریکہ اور دیگر ممالک جن کا اس علاقے پر دعویٰ ہے کا کہنا ہے کہ چین فوجی مقاصد کے لیے یہ مصنوعی جزیرے بنا رہا ہے۔جبکہ چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جزیرے دفاع کے ساتھ تلاش اور بچاؤ اور سمندری تحقیق کے کام بھی آئیں گے۔واضع رہے کہ چین کا جنوبی بحیرہ چین کے بیشتر حصے پر دعویٰ ہے۔گزشتہ سال چین نے بحیرہ جنوبی چین کے متنازعہ علاقوں میں زمین کی بحالی کا م تیز کر دیا تھا جس کے بعد امریکہ نے چین سے کام مستقل بنیادیوں پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔حالیہ ہفتوں میں بحیرہ جنوبی چین میں واقع سپارٹلی کے متنازع جزائر کے قریب امریکی افواج اور چین کی بحریہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔یاد رہے کہ چین سمندر کے سات علاقوں میں زمین کی بحالی کام کر رہا ہے لیکن منگل کو جاری کیے گئے بیان میں یہ واضع نہیں کیا گیا کہ ان میں سے کون سے علاقوں میں کام جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT