Wednesday , September 26 2018
Home / مذہبی صفحہ / روزے کے شرعی مسائل

روزے کے شرعی مسائل

روزہ نہ ٹوٹنے کی پانچ صورتیں : (۱) اگر روزہ یاد نہ ہو اور بھول کر کچھ کھا پی لے یا جماع کرے ۔ (۲) بے اختیار حلق میں غبار یا دھواں یا مکھی چلی جائے ۔ (۳) بے اختیار قئے ہوجائے اگرچہ منہ بھر ہو ۔ ( ۴) احتلام ہو جائے ۔ (۵) دانتوں سے خون نکل کر حلق میں پہنچ جائے مگر تھوک پر غالب نہ ہو تو ان تمام صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹتا ۔

روزہ نہ ٹوٹنے کی پانچ صورتیں : (۱) اگر روزہ یاد نہ ہو اور بھول کر کچھ کھا پی لے یا جماع کرے ۔ (۲) بے اختیار حلق میں غبار یا دھواں یا مکھی چلی جائے ۔ (۳) بے اختیار قئے ہوجائے اگرچہ منہ بھر ہو ۔ ( ۴) احتلام ہو جائے ۔ (۵) دانتوں سے خون نکل کر حلق میں پہنچ جائے مگر تھوک پر غالب نہ ہو تو ان تمام صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹتا ۔
روزہ کے نو مکروہات (۱) بلا ضرورت کوئی چیز چکھنا یاچبانا ۔ (۲) کلی کرنے یا ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا۔ (۳) استنجا میں مبالغہ کرنا ۔ (۴) منہ میں پانی دیر تک رکھنا۔ (۵) منہ میں تھوک جمع کر کے نگل جانا ۔ (۶) سحری کھانے میں اتنی دیر کرنا کے صبح ہونے کا اندیشہ ہوجائے۔ (۷) کوئلہ چبا کر دانت مانجنا۔ (۸) افطار بہت تاخیر سے کرنا ۔ (۹) روزہ میں غیبت کرنا ‘ جھوٹ بولنا ‘ گالی گلوج فحش‘ زبان سے نکالنا (وغیرہ) ۔
روزے کے گیارہ مباحات امور ذیل روزہ میں مباح ہیں یعنی ان سے روزہ مکروہ نہیں ہوتا (۱) سرمہ لگانا ۔ (۲) مسواک کرنا ( تر ہو یا خشک اگرچہ بعد زوال ہو) ۔ (۳) خوشبو لگانا یا سونگھنا۔ (۴) پچنے لگانا ۔ (۵) فصد لینا۔ (۶) سر یا بدن میں تیل لگانا ۔ (۷) کان میں پانی ٹپکانا ۔ (۸) آنکھ میں دوا ڈالنا ۔ (۹) اپنا تھوک نگل لینا ۔ (۱۰) کلی کے بعد منہ کی تری نگل جانا۔ (۱۱) دانتوں میں اٹکی ہوئی چیز کا (بغیر باہر نکالے ) نگل جانا بشرطیکہ چنے سے کم ہو (وغیرہ) ۔

روزہ نہ رکھنے کے سات عذرات : جن عذرات سے روزہ نہ رکھنا جائز ہے وہ حسب ذیل ہیں (۱) سفر خواہ جائز ہو یا ناجائز بے مشقت ہو ( جیسے ریل کا) یا با مشقت ( جیسے پیادہ یا گھوڑے وغیرہ پر ) لیکن بے مشقت سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے اگر روزہ کی نیت کرچکنے کے بعد سفر شروع کیا جائے تو اس دن روزہ پورا کرنا لازم ہے۔ اگر روزہ توڑ دے تو کفارہ لازم نہ ہوگا صرف قضاء واجب ہوگی ۔ اور اگر روزہ توڑ کر سفر شروع کرے تو کفارہ بھی لازم آئے گا۔ (۲) روزہ رکھنے سے مریض کو زیادتی مرض کا خوف ہو‘یا دیر میں صحت حاصل ہونے کا اندیشہ ہو جس کو مریض خود اپنے تجربہ سے محسوس کرے یاکسی علامت سے یا ایسے مسلمان طبیب حاذق کے آگاہ کرنے سے جو کھلا ہوا فاسق نہ ہو اگر تندرست کو یہ خوف ہو کہ روزہ رکھنے سے بیمار ہوجائے گا تو وہ بھی اسی حکم میں ہے ۔ (۳) حمل بشرطیکہ حاملہ کو روزہ رکھنے میں اپنی جان یا بچے کو نقصان پہونچنے کا خوف ہو۔ (۴) دودھ پلانا‘ اگر اپنی یا بچے کی مضرت کا گمان غالب ہو ( خواہ دودھ پلانے والی ماں ہو یادایہ )۔ (۵) بھوک پیاس کا غلبہ کہ روزہ کا تحمل نہ ہوسکے اور ہلاکت کا خوف ہو ۔ (۶) بڑھاپا جس میں روز بروز کمزوری بڑھتی جائے اور روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو ۔ (۷) اکراہ یعنی روزہ نہ رکھنے پر مجبور کیا جانا بشرطیکہ جان کا یا ضرر شدید کاخوف ہو ۔
( اقتباس : نصاب اہل خدمات شرعیہ حصہ پنجم )

TOPPOPULARRECENT