Thursday , August 16 2018
Home / دنیا / روس اور فلسطین بھی امریکی ویٹو کے مخالف

روس اور فلسطین بھی امریکی ویٹو کے مخالف

واشنگٹن ۔ 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلہ سے دستبرداری کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک مسودہ قرارداد کو امریکہ کی جانب سے ویٹو کئے جانے پرروس اور فلسطین نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ روس کے نمائندہ ولادیمیر سافرانکو نے کہا کہ موجودہ حالات میں یکطرفہ فیصلوں سے کشیدگی میں اضافہ کے خلاف لاحق ہوسکتے ہیں اور دو مملکتی حل کیلئے مذاکرات کے امکانات متاثر ہوسکتے ہیں اور روسی وفاقی آزاد و خودمختار فلسطین اور اسرائیل پر مشتمل دو مملکتی حل کی تائید کرتا ہے۔ مملکت فلسطین کے مبصر ریاض منصور نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی اور مستقبل کی کسی امن مساعی میں خود اپنے ہی ول کو پامال کرنا پسند کیا ہے۔ منصور نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام (اسرائیلی) قبضہ کو ایک مستقل حقیقت کے طور پر کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ تاہم اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے محض ایک حقیقت کا اعتراف ہی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی قائدین یروشلم میں یہودیوں کے وجود کو ناجائز بتانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اپنے اس عہد کا اظہار کیاکہ یروشلم سے یہودی عوام کا تعلق کبھی بھی منقطع نہیں ہوا ہے اور کبھی نہیں ہوگا۔

 

روہنگیاؤں کی بازآباد کاری کیلئے بنگلہ دیش اور میانمار کا ایک مشترکہ گروپ قائم
ڈھاکہ ۔ 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش اور میانمار نے آج ایک 30 رکنی مشترکہ کمیٹی قائم کی جو روہنگیا پناہ گزینوں کی اندرون دو ماہ باز آباد کاری کے انتظامات کی نگرانی کرے گی۔ اپنے ایک بیان میں وزارت خارجہ بنگلہ دیش کے دفتر نے کہا کہ یہ کارگذار گروپ شخصی طور پر پناہ گزینوں کی واپسی، جانچ پڑتال کے نظام، واپسی کے پروگرام، ان کے حمل و نقل کے انتظامات اور حفاظتی انتظامات کی نگرانی کرے گی۔ ان کے استقبال کے طریقوں اور مواصلات کے نظام پر بھی نظر رکھے گی۔ یہ کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اندرون دو ماہ بازآباد کاری کا عمل مکمل ہوجائے۔ مشترکہ کمیٹی اس سلسلہ میں یو این ایس سی آر اور اقوام متحدہ کی دیگر بااختیار کمیٹیوں کی مدد حاصل کرے گی۔ بازآباد کاری کے مختلف مرحلوں میں دلچسپی رکھنے والے بین الاقوامی شراکت داروں کو شامل کیا جائے گا۔ کمیٹی ہر طبقہ کے مساوی تعداد میں ارکان پر مشتمل ہوگی اور روہنگیا پناہ گزینوں کے اپنی مرضی سے محفوظ واپسی کو یقینی بنائے گی۔

TOPPOPULARRECENT