Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / روس خبردار ! امریکی میزائلس کسی بھی وقت برس پڑیں گے

روس خبردار ! امریکی میزائلس کسی بھی وقت برس پڑیں گے

شام پر داغے جانے والے میزائل کو مار گرانے روس کے عہد کے بعد صدر امریکہ ٹرمپ کا انتباہ

روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ دور سے بدتر تعلقات

واشنگٹن۔ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) شام میں بے گناہ، نہتے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے کئے گئے حملوں کے خلاف انتباہ دیتے ہوئے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے روس کو خبردار کیا اور کہا کہ وہ تیار رہے کہ امریکی میزائلس بہت جلد شام پر برس پڑیں گے۔ کیمیائی حملہ کرنے والے بشارالاسد اور پوٹن کو ٹوئٹر پر دھمکی دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ جانور ہمارے میزائلس سے بچ نہیں پائیں گے۔ ماسکو کے نام ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ تمہیں کیمیائی گیاس کے ذریعہ قتل عام کرنے والے قاتلوں کا ساتھ نہیں دینا چاہئے۔ یہ قاتل اپنے ہی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ اپنے دوسرے ٹوئٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات، سرد جنگ کے دور سے زیادہ بدتر ہوچکے ہیں۔ کریملن کے ترجمان نے کہا کہ ہم ٹوئٹر ڈپلومیسی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے اور انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہمیں نقصان پہنچانے کا کوئی بھی قدم اٹھایا گیا تو صورتحال ابتر ہوجائے گی۔ صدر ٹرمپ کا یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب روس نے کہا کہ شام پر برسائے جانے والے میزائلس کو مار گرایا جائے گا۔ روسی فوج نے یہ اعلان کیا کہ ڈوما تک روسی فوج کو تعینات کیا جائے گا۔ روسی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف لیفٹننٹ جنرل وکٹر پوزنیکر نے کہا کہ جمعرات تک ہماری فوج وہاں پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 3,354 باغیوں اور ان کے خاندانوں کے 8,642 ارکان کے بشمول 41,213 افراد ان کی فوجی سرپرستی میں ڈوما سے روانہ ہوچکے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسلحہ کی اس دوڑ کو ختم کیا جانا چاہئے۔ اس کشیدگی کی وجوہات نظر نہیں آرہی ہیں۔ روس کو اپنی معیشت کو سدھارنے کیلئے ہماری مدد ضروری ہے۔ مل جل کر کام کرنا ہوگا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی میزائلس بہترین، نئے اور اسمارٹ ثابت ہوں گے۔ روس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کیمیائی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ روس، شام کے صدر بشارالاسد کی تائید کررہا ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کے مندوب وسلی نینزیا نے امریکہ کو خبردار کیا کہ شام میں کیمیائی حملے کے جواب میں کسی بھی فوجی کارروائی سے باز رہے۔ اگر امریکہ نے کسی بھی قسم کی غیرقانونی فوجی کارروائی کی تو اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ مغربی دنیا کے تمام قائدین نے کہا کہ وہ دوما پر کیمیائی حملے کا جواب دینے کیلئے مل کر کام کرنے سے اتفاق کرتے ہیں۔ صدر فرانس ایمانول نے کہا کہ حملوں میں شامی حکومت کی کیمیائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT