Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / روس میں صدارتی انتخابات ‘ پوٹن کی چوتھی میعاد پر نظریں

روس میں صدارتی انتخابات ‘ پوٹن کی چوتھی میعاد پر نظریں

ماسکو ۔ 18مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) روس میں آج صدارتی انتخابات کیلئے رائے دہی ہوئی ۔ ولادیمیرپوٹن چوتھی بار صدر روس بننے کیلئے تیار ہیں ۔ جب کہ ملک میں برطانیہ اوراس کے حلیف ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں جس کی وجہ روسی جاسوس کو مبینہ طور پر زہر دینے کا واقعہ ہے ۔ پوٹن کے اہم حریف الیکسی نوالنی کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے جس کی قانونی وجوہات ہے‘ جس کی وجہ سے انتخابات کا نتیجہ صاف ظاہر ہے ‘ لیکن رائے دہی زبردست پیمانہ پر ہونا حیران کن ہے ۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ 18سال کی قیادت کے بعد صدر اور وزیراعظم کی حیثیت سے پوٹن کارکرد رہے ہیں جس کی وجہ سے ملک گیر سطح پر بیزارگی پائی جاتی ہے اور امکان ہے کہ روسی عوام رائے دہی میں حصہ نہیں لیں گے لیکن عملی اعتبار سے دیکھا گیا تو زبردست پیمانہ پر رائے دہی ہوئی ‘ تاکہ پوٹن کو روس کا سب سے طویل مدت تک برقرار رہنے والا صدر منتخب کیا جاسکے ۔ قبل ازیں یہ ریکارڈ سویت یونین کے سابق صدر آنجہانی جوزف اسٹیلن کا تھا ۔ پوٹن نے چار سال قبل ایک معاہدہ پر دستخط کئے تھے جس کے تحت یوکرین کو روس میں شامل کرلیا گیا تھا ‘ اس اقدام کے نتیجہ میں صدر روس کے خلاف شورش پسندی کا آغاز ہوا ۔ سابق سویت یونین کے مشرقی علاقہ میں بغاوت میں کم از کم 10ہزار افراد ہلاک ہوگئے ۔ جوابی کارروائی کے طور پر کیف نے جاریہ ہفتہ کے اوائل میں کہا تھا کہ روسی جو یوکرین میں مقیم ہیں ماسکو کے سفارت خانہ جاکر رائے دہی میں حصہ نہیں لیں گے ۔ پوٹن سب سے پہلی بار بطور صدر 2000ء میں منتخب کئے گئے تھے ۔ انہوں نے روس کی اپوزیشن کو کچل دیا تھا اور بیرون ملک اپنی طاقت کا ثبوت دے دیا تھا ۔ تقریباً 70فیصد رائے دہی کے ذریعہ امکان ہے کہ پوٹن 2024ء تک روس کے صدر منتخب کرلئے جائیں گے ۔ حالانکہ انتخابی مہم عوام کیلئے پُرکشش نہیں تھی تاہم ٹیلی ویژن پر اس کے باوجود مباحث منعقد کئے گئے ۔ پوٹن چاہتے تھے کہ انتخابات کے نتیجہ میں روس کو ایک بڑی عالمی طاقت بنادیں ۔ حال ہی میں انہوں نے روس کے پاس ایسے نئے ہتھیار ہونے کا دعویٰ کیا تھا جن کے ذریعہ خونریز خانہ جنگی میں وہ شام کی مدد کرنے کے قابل ہوچکا ہے ۔ مغربی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات سابق ڈبل ایجنٹ سرجی اسکریپال کومبینہ طور پر برطانیہ میں زہر دینے کے نتیجہ میں کشیدہ ہوگئے تھے اور امریکہ نے روس کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرتے ہوئے اس پر تحدیدات عائد کردی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT