Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / روس کا طیارہ سمندر میں گرکر تباہ ، 92 افراد بشمول فوجی ہلاک

روس کا طیارہ سمندر میں گرکر تباہ ، 92 افراد بشمول فوجی ہلاک

مہلوکین جنگ زدہ ملک شام میں ساتھیوں کے ہمراہ نئے سال کا جشن منانے جارہے تھے ، نعشیں سمندر میں تیرتی ہوئی پائی گیئں ، دہشت گردی کا امکان مسترد

ماسکو ۔ /25 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) روس کا ایک طیارہ جس میں 92 افراد سوار تھے اور جو شام کے فضائی اڈے جارہا تھا ، سوچی شہرمیں پرواز کے اندرون چند منٹ بحر اسود میں گرکر تباہ ہوگیا ۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ اس حادثہ میں کسی کے بچنے کا امکان نہیں ہے اور طیارہ میں جو لوگ سوار تھے ان میں روس کی عالمی سطح پر مقبول فوج کے ارکان شامل تھے ۔ حادثہ کی وجوہات کا فوری طور پر پتہ نہیں چل سکا لیکن بعض ماہرین نے دہشت گرد حملے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے ۔ تاہم روسی عہدیداروں نے اسے یکسر مسترد کردیا ۔ صدر ولادیمیر پوٹین نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کل ملک بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ۔ اس طیارہ میں 92 مسافر سوار تھے جن میں روس ریڈ آرمی کے درجنوں ارکان بھی شامل ہیں ۔ یہ فوجی شام میں تعینات فوج کے ساتھ نئے سال کا جشن منانے جارہے تھے ۔ TU-154 طیارہ روس کے جنوبی شہر اڈلر سے اڑان بھرنے کے فور ی بعد بحیرہ اسود میں گرکر تباہ ہوگیا ۔اس شہر میں یہ طیارہ دوبارہ ایندھن لے رہا تھا ۔ ڈیفنس منسٹری کے ترجمان ایگور کونسٹکوف نے روسی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ طیارہ صبح 5.25 کو (ہندوستانی وقت 7.55 ) پر اڑان بھرنے کے صرف دو منٹ بعد راڈر سے غائب ہوگیا ۔ وزارت دفاع نے نیوز ایجنسیوں کو بتایا کہ طیارہ حادثہ مقام پر کسی کے بچ جانے کی کوئی علامت نظر نہیں آتی ۔ ساحل سمندر سے 10نعشیں نکالی گئی ہیں ۔ سوچی کے تفریحی شہر کے ساحل پر یہ نعشیں تیررہی تھیں ۔ حکام نے حادثہ کے مقام پر تیزی سے تلاش شروع کی ہے ۔ وزارت دفاع روس کے طیارہ TU-154 کا ملبہ بحیرہ اسود کی ساحل سے 1.5 کیلو میٹر پر دستیاب ہوا ۔ یہ ملبہ سمندر کی 50 تا 70 میٹر کی گہرائی سے برآمد ہوا ۔ 27 کشتیوں اور کئی ہیلی کاپٹرس کے ساتھ ساتھ غوطہ خوروں کے بشمول تقریباً 3 ہزار افراد ملبے اور نعشوں کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ صدر ولاڈیمیر پوٹین نے وزیراعظم ڈیمتری میڈلاوف کو حکم دیا ہے کہ وہ طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے لئے حکومت کے کمیشن کی قیادت کریں ۔

یہ طیارہ مغربی شام میں روس کی معمول کی پرواز میں شامل تھا ۔ حادثہ میں ہلاک ہونے والوں میں 9 صحافی بھی شامل ہیں ۔ یہ صحافی ریاستی حکومت کی جانب سے چلائے جارہے چیانلس سے تعلق رکھتے تھے ۔ طیارہ میں عملہ کے 8 ارکان بھی تھے ۔ وزارت دفاع نے مزید کہا کہ وزارت کی جانب سے مسافروں کی فہرست جاری کی گئی ہے ۔ کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ صدر پوٹین کو طیارہ حادثہ کی جانچ کی تفصیلات سے واقف کروایا جارہا ہے ۔ وزارت دفاع نے مسافروں کی فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق جہاز پر مشہور فوجی بینڈ الیگزینڈروف اینسامبل کے 64 ارکان ، نو صحافی ، آٹھ فوجی ، دو سیول افسر ، ایک این جی او کارکن اور عملے کے آٹھ ارکان سوار تھے ۔ ترجمان نے کہا کہ جہاز میں سوار مسافر شام میں تعینات روسی فوجیوں کے لئے منعقد کردہ نئے سال کی تقریب میں شرکت کرنے جارہے تھے ۔ یہ تقریب لاذقیہ شہر کے قریب واقع روسی فوجی اڈے حمیمیم میں منعقد ہونے والی تھیں ۔ جہاز پر ایلزویتا گلنکا بھی سوار تھیں جو ڈاکٹر لز کے نام سے مشہور ہیں ۔ وہ فیئر ایڈ نامی خیراتی ادارے کی ایگزیکٹیو ڈائرکٹر ہیں اور انہیں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے کے لئے روس کے سرکاری اعزاز سے نوازا گیا تھا ۔ مقامی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ موسمی حالات پرواز کے لئے موافق نہیں تھے ۔ اس دوران تحقیقات شروع کردی گئی ہیں کہ آیا کسی قسم کے حفاظتی قواعد کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی ۔ روس شامی حکومت کی حمایت میں باغی دستوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کررہا ہے ۔اپریل 2010 ء میں ایک ٹی یو 154 طیارہ مغربی روس کے علاقے سمولینسک میں گر کر تباہ ہوگیا تھا اور اس میں سوار تمام 96 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس کے علاوہ 2001 ء میں ایک اور ٹی یو 154 جہاز کو یو کرینی فوج نے بحیرہ اسود پر مار گرایا گیا تھا ۔ جس سے 78 لوگ ہلاک ہوگئے تھے ۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ جنگی مشق کے دوران غلطی سے پیش آیا تھا ۔

 

روس سے ہندوستان اور
پاکستان کا اظہار تعزیت
نئی دہلی ۔  25 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام)  وزیراعظم نریندر مودی نے روسی طیارے کے حادثہ اور اس میں سپاہیوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحہ میں انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور روس کے غم میں ہم برابر کے شریک ہیں ۔ اسی طرح پاکستان نے بھی اس حادثہ پر تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مہلوکین کے ارکان خاندان کو ہم تعزیت پیش کرتے ہیں ۔ غم اور پریشانی کی اس گھڑی میں پاکستان کی حکومت اور عوام ان کے ساتھ ہیں ۔ واضح رہے کہ روس کاطیارہ جو ملک شام جا رہا تھا ‘ پرواز کے چند منٹ بعد ہی حادثہ کا شکار ہوگیا اور بحر اسود میں گر پڑا ۔ اس میں سوار تمام 92 افراد بشمول  روسی فوجی ہلاک ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT