Wednesday , December 13 2017
Home / کھیل کی خبریں / روس کے 4 اولمپک گولڈ میڈلسٹ پر ڈوپنگ کا الزام

روس کے 4 اولمپک گولڈ میڈلسٹ پر ڈوپنگ کا الزام

لاس اینجلس ۔ 7 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ڈوپنگ کے انسدادی ادارہ سے وابستہ جہد کار ویٹالی اسٹیپانوف نے سی بی ایس ٹیلی ویژن کے ’’60 منٹس‘‘ پروگرام کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ 2014ء کے سوچی اولمپکس میں ان کے ملک (روس) کے کم سے کم 4 گولڈ میڈل یافتہ اتھیلیٹس نے ڈوپنگ کی تھی۔ روسی انسدادی ڈوپنگ ادارہ کے سابق عہدیدار اسٹیپانوف نے آج نشر کئے جانے والے اپنے انٹرویو میں کہا کہ روس میں ادویات کا معائنہ کرنے والی ایک لیباریٹری کے سابق سربراہ گریگوری راؤچنکوف نے ان سے کہا تھا کہ ایف ایس بی اسٹیٹ سکیورٹی سرویس کے عہدیداروں نے سوچی میں ڈوپنگ کے انسداد کے لئے اٹھائے جانے والے ہر قدم کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ سوچی سرمائی اولمپکس میں میزبان روس کو 13 گولڈ میڈلس حاصل ہوئے تھے۔ سی بی ایس کی طرف سے جاری انٹرویو کے خلاصہ میں ڈوپنگ کے مشتبہ دھوکہ بازوں میں سے کسی کے نام کا انکشاف نہیں کیا گیا لیکن یہ کہا کہ روسی اتھیلیٹس کو لپیٹ میں لینے والے ایک سنگین ڈوپنگ اسکینڈل کو مزید وسعت دے رہے ہیں، جبکہ اس ملک (روس) کے کئی ٹریک اور فیلڈ اسٹارس اگست میں ہونے والے 2016ء کے ریو اولمپکس میں داخلے سے امتناع کا سامنا کرتے ہیں۔ اسٹیپانوف اور ان کی بیوی پولیا اسٹیپانوف جو خود بھی ممنوعہ اتھیلیٹ ہیں، ایک جرمن ٹیلی ویژن پر دعویٰ کیا کہ 2014ء کے دوران روسی اتھیلیٹکس کی منظم و منصوبہ بند پیمانے پر ڈوپنگ کی گئی تھی۔ بعدازاں انسداد ڈوپنگ کے ایک عالمی آزاد و خوداختیار کمیشن کی تحقیقات سے بھی ان دونوں کے الزامات کی توثیق ہوئی تھی اور یہ ثبوت دستیاب ہوا تھا کہ (روس) حکومت کی سرپرستی میں بڑے پیمانے پر ڈوپنگ رشوت ستانی اور بدعنوانیاں کی گئی تھیں۔ اس دوران انسداد ڈوپنگ سے متعلق امریکیک ادارہ کے سربراہ ٹریویس نائیگارٹ نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ آئندہ ریو اولمپکس میں روسی اتھیلیٹس کے حصہ لینے کے حق میں نہیں ہے۔ ’’انہیں (روسیوں کو) صاف ستھرے اتھیلیٹس کے حقوق کی قیمت پر یہاں نہیں آنا چاہئے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT