Thursday , September 20 2018
Home / دنیا / روس ہزاروں افواج کو کریمیا بھیج رہا ہے ‘ یوکرین کا الزام

روس ہزاروں افواج کو کریمیا بھیج رہا ہے ‘ یوکرین کا الزام

سمفیروپول ( یوکرین ) ۔ یکم مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) یوکرین نے آج روس پر الزام عائد کیا کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں اضافی افواج کو کریمیا روانہ کر رہا ہے جبکہ کریملن ( روس ) نے علاقہ میں امن بحال کرنے میں تعاون کا عہد کیا ہے ۔ امریکہ نے اس تنازعہ کو روس کو دور ہی رہنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا کہ اگر وہ یوکرین کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتا ہے ت

سمفیروپول ( یوکرین ) ۔ یکم مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) یوکرین نے آج روس پر الزام عائد کیا کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں اضافی افواج کو کریمیا روانہ کر رہا ہے جبکہ کریملن ( روس ) نے علاقہ میں امن بحال کرنے میں تعاون کا عہد کیا ہے ۔ امریکہ نے اس تنازعہ کو روس کو دور ہی رہنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا کہ اگر وہ یوکرین کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتا ہے تو اسے اس کی قیمت چکانی پڑیگی ۔ یوکرین کے وزیر دفاع آئیگر تینوخ نے یوکرین حکومت کی پہلے کابینی اجلاس سے کہا کہ روس کی مسلح افواج نے 30 فوجی گاڑیاں اور چھ ہزار اضافی افواج کریمیا میں روانہ کردی ہیں تاکہ وہاں موافق کریملین ملیشیا کو کنٹرول حاصل کرنے میں مدد مل سکے ۔ انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ جمعہ سے ہی یوکرین کی اجازت کے بغیر اس علاقہ میں اپنی افواج روانہ کر رہا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ کریمیا کے دارالحکومت سیمفیروپول میں اہم مقامات پر موافق روس مسلح افراد مکمل جنگی لباس میں پٹرولنگ کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ اسی طرح کے بندوق برداروں نے علاقہ میں کل ائرپورٹس اور سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرلیا تھا ۔ جزیرہ نما کریمیا ‘ جہاں روس کا بحر اسود کا بیڑہ بھی ہے اور یہاں نسلی روسی آبادی کی اکثریت ہے ‘ اب عملا مابقی یوکرین سے کٹ کر رہ گیا ہے جبکہ ائرپورٹس کو بند کردیا گیا ہے

اور موافق کریملین ملیشیا نے وہاں یوکرین سے آنے والے اصل راستہ پر انتہائی سخت گیر پہرہ کا انتظام کردیا ہے اور چیک پوائنٹ قائم کیا گیا ہے ۔ کریمیا کا علقاہ ایک طرح سے روس اور مغربی دنیا کے مابین سرد جنگ کے دور کی طرح تنازعہ کا باعث بن گیا ہے اور خاص طور پر موافق یوروپی لیڈر کے انتخاب کے بعد یہاں حالات بگڑنے لگے ہیں۔ یہاں صدر روس ولادیمیر پوٹین کے حامی مسلح افواج جمع ہونے شروع ہوگئے تھے اور انہوں نے کئی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ موافق روس بندوق برداروں نے کریمیا میں سرکاری اور پارلیمنٹ کی عمارت پر سیمفیرو پول میں جمعرات کو ہی قبضہ کرلیا تھا ۔ اس سے قبل انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کو ایک نئے وزیر اعظم کے تقرر کا موقع دیا تھا اور علاقائی ریفرینڈم کروانے پر زور دیا تھا ۔ یہ ریفرینڈم ہوسکتا ہے کہ 30 مئی کو منعقد ہو ۔ اس استصواب عامہ کے ذریعہ امکان ہے کہ پہلے ہی سے خود مختاری رکھنے والے اس علاقہ کو وسیع تر آزادی بھی حاصل ہوسکتی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ درجنوں سپاہی روسی جنگی لباس میں کلاشنکوف تھامے ہوئے کریمیا کے ائرپورٹ کے باہر پہرہ دے رہے ہیں جس پر انہوں نے کل قبضہ کرلیا تھا ۔ انہوں نے یوکرین کے بلبیک فوجی ہوائی پٹی پر بھی قبضہ کرلیا تھا ۔ کریمیا کے نو منتخب

وزیر اعظم نے ہفتے کو روس کے صدر ولادیمیر پوٹین پر زور دیا کہ وہ یوکرین کی مغربی تائید والی حکومت کے ساتھ ان کے تنازعہ میں علاقہ میں امن اور نظم و ضبط کی بحالی میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی زندگی کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری کو محسوس کریت ہوئے وہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹین پر زور دیتے ہیں کہ وہ کریمیا علاقہ میں امن قائم کرنے میں مدد کریں۔ مسٹر سرگئی اکشیانوف نے روسی سرکاری ٹی وی پر نشر کئے گئے اپنے خطاب میں یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ کریمیا کی سکیوریٹی فورسیس ‘ روس کے احکام کی پابند رہیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے اس کی حمایت نہیں کرتے انہیں فوج سے علیحدہ ہوجانا چاہئے ۔ خبر رساں اداروں نے کہا ہیکہ درخواست کو نظر انداز نہیں کیا جائیگا ۔ اس دوران امریکہ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے ورنہ اسے قیمت چکانی پڑیگی ۔ کہا گیا ہے کہ اگر روس راست طور پر یوکرین کے معاملات میں ملوث ہوتا ہے تو صدر اوباما اور کچھ اہم یوروپی قائدین جون میں سوچی میں ہونے والی گروپ 8 ممالک کی چوٹی کانفرنس کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں۔ برطانیہ میں دفتر خارجہ سے کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ ولیم ہیگ اتوار کو کیو پہونچیں گے تاکہ نئی حکومت کے ساتھ بات چیت کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT