Friday , December 15 2017
Home / مضامین / روس ۔ امریکہ کی سرد جنگ دوم

روس ۔ امریکہ کی سرد جنگ دوم

عرفان جابری

یہ امر قابل توجہ ہے کہ اوباما اڈمنسٹریشن کو ہیکنگ آپریشن کا علم اوائل گرما میں ہوسکا جبکہ نو ماہ قبل ایف بی آئی نے پہلی بار اس دراندازی کی بابت ڈی این سی سے ربط قائم کیا تھا۔ مگر نظم ونسق نے کوئی سخت اقدام میں پس و پیش کا شکار ہوا ، شاید اس اندیشے پر کہ وہ بیجا اقدام کے موردِالزام ٹھہرائے جائیں گے۔ پنٹگان، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور انٹلیجنس ایجنسیوں کے حکام موسم گرما کے دوران میٹنگ منعقد کئے، لیکن اُن کی توجہ اس بات پر رہی کہ الیکشن کے روز ممکنہ ہیکنگ کے خلاف اسٹیٹ الیکشن کمیشنوں اور الیلکٹورل سسٹمس کی حفاظت کس طرح کی جائے۔
اس انتباہ نے ہلاری کے داخلی گوشے کو مشتعل کیا۔ ہلاری کے ایک سینئر مشیر نے کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں ان کے اختیارات محدود ہیں۔ لیکن اگر براک اوباما وائٹ ہاؤس کے اوول آفس یا ایسٹ روم کو جاتے اور قوم سے کہتے کہ امریکہ پر (سائبر) حملہ ہورہا ہے ۔ روسی حکومت اعلیٰ ترین سطحوں پر کوشش کررہی ہے کہ ہمارے سب سے قیمتی اثاثہ ، ہماری جمہوریت پر اثرانداز ہوجائے ، اور میں یہ ہونے نہیں دوں گا۔ امریکیوں کی بڑی اکثریت سر جوڑ کر اس بات کا نوٹ لیتی۔ اس پس منظر میں میرا کہنا ہے کہ امریکیوں کو اس الیکشن کے نتائج کیلئے کسی کو مورد الزام ٹھہرانے کا حق نہیں، لیکن یہ بات سٹپٹا دینے اور چکرانے والی ہے کہ کیوں وائٹ ہاؤس بھرپور شدت کے ساتھ اقدامات نہیں کئے۔ ویسے اوباما کا حلقہ جو ہلاری کی ٹیم پر وسکانسن، مشیگن، اور پنسلوینیا جیسی ٹھوس ریاستوں پر گرفت مضبوط رکھنے میں ناکامی پر تنقید کرتا ہے، اس کا دعویٰ ہے کہ وائٹ ہاؤس نے مناسب طور پر کارروائی کی ہے۔ بنجامن روڈز نے کہا کہ ای میلوں یا فرضی خبروں کو گشت میں آنے سے ہم نہیں روک سکتے تھے۔ ہم سب اسے بے نقاب کرسکتے تھے۔گزشتہ سپٹمبر میں G-20 سمٹ منعقدہ چین کے موقع پر اوباما نے پوتین سے بات چیت میں ہیکنگ کا مسئلہ اٹھایا، اور انھیں اس کے سدباب کیلئے کہتے ہوئے زور دیا کہ نومبر کی رائے دہی سے دور رہیں، نہیں تو سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ پوتین نے ہیکنگ کی سرگرمیوں کی تردید کی نا توتصدیق، لیکن جواب دیا کہ امریکہ کی طویل تاریخ ہے کہ روسی امور میں مداخلت کرنے والے ذرائع ابلاغ کے اداروں اور سیول سوسائٹی گروپوں کی فنڈ کے ذریعہ سرپرستی کرتا آیا ہے۔
اکٹوبر میں جب روسی مداخلت کا ثبوت پختہ ہونے لگا تب نیشنل سکیورٹی کے سینئر عہدیداروں نے جوابی لائحہ عمل طے کرنے کیلئے میٹنگ منعقد کی اور مختلف تجاویز پیش کئے جن میں روسی حکام کے تعلق سے مضرت رساں معلومات جاری کردینا جیسے اُن کے بینک کھاتوں کا مواد، یا ماسکو کے خلاف سائبر آپریشن چلانا شامل ہیں۔ وزیر خارجہ جان کیری نے تشویش ظاہر کی کہ اس طرح کے منصوبوں سے شام (سیریا) میں روس کو مغرب کے ساتھ تعاون کیلئے رضامند کرنے کی سفارتی کوششوں کو زک پہنچے گی  …  ویسے یہ مساعی آخرکار ناکام ہوگئی۔ بالآخر سکیورٹی عہدیدار متفق ہوئے کہ کچھ مختلف انداز اختیار کیا جائے: نظم و نسق نے 7 اکٹوبر کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ روسیوں نے D.N.C کو ہیک کرلیا ہے۔ نظم و نسق عجلت میں کچھ ایسا اقدام کرنا نہیں چاہتا جسے سیاسی مقصد براری سمجھا جائے اور ٹرمپ کے پیام کو تقویت ملے کہ الیکشن میں رگنگ ہورہی ہے۔
یہی احتیاط اقتدار کی منتقلی کے دوران جاری رہا، جب اوباما نے اقتدار کی باضابطگی سے منتقلی پر آمادگی کا مظاہرہ کیا۔ سکریٹری آف اسٹیٹ کیری نے الیکشن میں روسی مداخلت کی تحقیقات کیلئے آزاد گروپ تشکیل دینے کی تجویز رکھی۔ دو سینئر عہدیداروں کے مطابق اوباما نے کیری کی تجویز کا جائزہ لیا لیکن آخرکار اسے مسترد کردیا، جس کی جزوی وجہ یہ رہی کہ انھیں یقین تھا کہ کانگریس میں موجود ریپبلکنس اسے جانبدارانہ عمل قرار دیں گے۔ تاہم اس تجویز کے حامی ایک مددگار کا کہنا ہے، ’’ اس سے ایک مہم تو شروع ہوجاتی، جسے ٹرمپ کیلئے نظرانداز کرنا مشکل ہوتا۔ اب اسے ممکن بنانا زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔‘‘
حلف برداری کا دن 20 جنوری آنے تک وسیع پیمانے پر روسی آپریشن کے ثبوت ملنے پر جوائنٹ ٹاسک فورس تشکیل دی گئی جس میں سی آئی اے، ایف بی آئی، این ایس اے اور ٹریژری ڈپارٹمنٹ کی فینانشیل کرائمز یونٹ شامل ہیں۔ سینیٹ کی تین کمیٹیوں بشمول انٹلیجنس کمیٹی نے تحقیقات شروع کئے ہیں؛ مگر بعض ڈیموکریٹس کو تشویش ہے کہ ٹرمپ نظم و نسق ان تحقیقات کو دبا دینے کی کوشش کرے گا۔ اگرچہ انٹلیجنس کمیٹی کے سنیٹرز راز کی معلومات کا افشاء نہیں کرسکتے لیکن انھیں اپنی فکرمندی کا اشارہ دے سکتے ہیں۔ الیکشن کے تین ہفتے بعد ران ویڈن (اوریگان ڈیموکریٹ) اور چھ دیگر ارکان کمیٹی نے اوباما کو ایک کھلا مکتوب بھیج کر یہ بات عام کردی، ’’ہماری معلومات کے مطابق روسی حکومت اور امریکی الیکشن سے اضافی معلومات موجود ہے، جسے راز کے زمرہ سے نکال کر عوام کیلئے جاری کرنا چاہئے۔‘‘ جنوری میں ایک سماعت کے دوران ویڈن نے مزید زور دیا۔ ڈائریکٹر ایف بی آئی جیز کومی سے سوال کرتے ہوئے ویڈن نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیا کہ ٹرمپ کے بعض معاونین کے پوتین سے قریبی روسیوں سے روابط ہیں۔ ویڈن نے استفسار کیا کہ آیا کومی اس موضوع پر معلومات کا افشاء کرتے ہوئے اسے امریکی عوام کیلئے جاری کریں گے۔ کومی نے کہا: ’’میں اس تعلق سے لب کشائی نہیں کرسکتا۔‘‘ ویڈن کے سوالات نے اپنا کام کردیا تھا۔
نئے امریکی صدر کی حلف برداری سے دو ہفتے قبل انٹلیجنس آفیسروں نے اوباما اور ٹرمپ دونوں کو سابق برٹش انٹلیجنس آفیسر کرسٹوفر اسٹیل کے جمع کردہ غیرمصدقہ الزامات کی معلومات کے تعلق سے بریفنگ دی۔ پینتیس صفحات کا مواد جس میں ٹرمپ کے 2013ء میں سفر ماسکو کے دوران برتاؤ سے متعلق دعوے شامل ہیں، ٹرمپ کی امیدواری کے مخالف محققین کی جانب سے مختلف ذرائع ابلاغ کی مخبری پر مرکوز رہا۔ اس مواد نے اخذ کیا کہ روس کے پاس ٹرمپ کے بارے میں شخصی اور مالی امور کی جانکاری ہے جسے بلیک میل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ بیان کیا گیا کہ روسیوں کی طرف سے ٹرمپ کو برسوں سے تیار کیا جارہا تھا۔ بعض عہدیداروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے بارے میں اُن کے 2013ء کے سفر میں معلومات جمع کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ روسی امراء سے ملاقاتیں کررہے تھے جو رقم کو غیرقانونی طور پر بیرون ملک منتقل کرسکتے ہیں، جو پوتین کی نظروں میں غداری ہوتی ہے۔ٹرمپ نے اس معلوماتی مواد کو فرضی قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔ پوتین کے ترجمان نے اسے ’’گھٹیا افسانہ‘‘ کہا۔ مگر یہ مواد منظرعام پر آنے سے قبل سنیٹر جان مک کین نے اسے ایف بی آئی تک پہنچا دیا؛ بعد میں اُن کے بعض رفقاء نے کہا کہ یہ ٹرمپ کی تحقیقات کا حصہ ہونا چاہئے۔ نیشنل سکیورٹی کے کئی عہدیداروں کا یہی تجزیہ ہے کہ ای میل ہیکنگ زیادہ بڑے اور گہرے پریشان کن منظر کا حصہ ہے کہ پوتین کا منشاء امریکی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہوئے ان مغربی اتحادوں … سفارتی، اقتصادی، اور ملٹری… کو کھوکھلا کردینا ہے جو مابعد جنگ والی دنیا میں اُبھر آئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے قبل بنجامن روڈز نے کہا کہ اوباما نظم و نسق کو یقین ہے کہ پوتین نے کچھ ایسا جارحانہ موڈ اختیار کرلیا ہے کہ تصور کرنا محال ہے۔ وہ یورپی یونین کو ’’توڑنے‘‘ نیٹو کو غیرمستحکم کرنے اور امریکہ کو بے چین کردینے کے خواہشمند ہیں۔ روڈز نے کہا کہ جس نئے دور میں ہم پہنچ چکے ہیں وہاں روسیوں نے جارحانہ روش اختیار کرلی ہے جو بین الاقوامی نظم کو خطرہ میں ڈالتا ہے۔ سامنتا پاور نے بھی سفیر اقوام متحدہ کی حیثیت سے اپنا چہدہ چھوڑنے سے قبل اسی طرح کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ روس ایسے اقدامات کررہا ہے جو قوانین پر مبنی اسی سسٹم کو کمزور کررہے ہیں جس سے ہمیں سات دہائیوں سے فائدہ پہنچا ہے۔ لگ بھگ دو دہے امریکہ۔ روس تعلقات تلخ اور خراب کے درمیان ہی رہے۔ یوں تو دونوں ملکوں نے مختلف مسائل پر معاہدے کرلئے ہیں جن میں تجارت اور اسلحہ پر کنٹرول کے مسائل ہیں، لیکن عمومی صورتحال مایوس کن ہے۔ روسی اور امریکی پالیسی کے کئی ماہرین اب ایسی اصطلاحیں استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتے ’’سرد جنگ دوم ‘‘۔کشیدگی کی سطح نے دونوں طرف کے تجربہ کار شخصیتوں کو تک چوکنا کردیا ہے۔ نیٹو کے سابق ڈپٹی سپریم الائیڈ کمانڈر جنرل سر رچرڈ شیرف کی دانست میں ، ’’ہم ایسی صورتحال میں ہیں جہاں ایک نسبتاً کمزور مملکت کا طاقتور لیڈر نسبتاً طاقتور مملکتوں کے کمزور قائدین کی مخالفت میں عمل کررہا ہے۔ اور وہ طاقتور لیڈر پوتین ہے۔ فی الحال وہی پہل کررہے ہیں۔ ‘‘ رابرٹ گیٹس جو جارج ڈبلیو بش اور براک اوباما دونوں کے تحت وزیر دفاع رہے، اوباما اور پوتین کے درمیان تعلقات کو ’’مسموم‘‘ بتایا اور کچھ حد تک اوباما کو موردِ الزام ٹھہرایا؛ اور روس کو ’’علاقائی طاقت‘‘ قرار دیا۔ گیٹس نے کہا کہ نئے نظم و نسق کو امریکہ۔ روس رشتے میںانحطاط کو روکنے کے معاملے میں بڑا چیلنج درپیش ہے اور ساتھ ہی پوتین کی جارحیت اور عمومی ٹھگی کے خلاف اقدامات بھی کرنا ہے۔
ماسکو میں بھی بعض گوشے چوکنا ہوگئے ہیں۔ ایک معروف سیاسی و ملٹری تجزیہ نگار دیمتری ترینن نے کہا کہ ٹرمپ کی کامیابی سے قبل ، ’’ہم شام میں ’حرکی‘ ٹکراؤ کی راہ پر چل پڑے تھے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ کریملن نے اندازہ لگا رکھا تھا کہ اگر ہلاری جیت گئی تو وہ شام میں ملٹری کارروائی کریں گی، شاید ’نوفلائی زون‘ قائم کریں گی، باغیوں کو اُکسائیں گی کہ روسی طیارے کو مار گرائیں، اور روسیوں کو محسوس ہونے لگے گا کہ افغانستان کی کہانی دہرائی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT