Monday , July 16 2018
Home / اداریہ / روپئے کی قدر میں مسلسل گراوٹ

روپئے کی قدر میں مسلسل گراوٹ

عالمی سطح پر ڈالر کی قیمتوں میں جاری استحکام کی وجہ سے ہندوستانی روپئے کی قدر میں مسلسل گراوٹ درج کی جا رہی ہے ۔ روپئے کی قدر میں گراوٹ کے ملک کی معیشت پر اثرات مرتب ہونے یقینی ہیں۔ روپیہ گذشتہ دنوں اب تک کی سب سے کم قیمت تک گر کر 69.10 روپئے فی ڈالر تک پہونچ گیا تھا ۔ یہ روپئے کی قدر میں اب تک کی سب سے زیادہ گراوٹ تھی ۔ اب بینکنگ شعبہ کا کہنا ہے کہ روپئے کی قدر میں آئی یہ گراوٹ اب مزید زیادہ ہوسکتی ہے اور ایک امریکی ڈالر 70 ہندوستانی روپئے سے بھی متجاوز ہوجائیگا ۔ یہ شرح ہندوستانی معیشت کیلئے اچھی خبر نہیں کہی جاسکتی اور اس کے نتیجہ میں ملک کی معیشت پر اثرات مرتب ہونے یقینی ہے ۔ یہ اثرات منفی ہی ہونگے اور اس سے عوام کی زندگیاں اور بجٹ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائیں گے ۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ چونکہ ڈالر کی قیمت میں مسلسل استحکام پیدا ہوتاجا رہا ہے اور تیل کی قیمت میں مزید اضافے کے اندیشے لاحق ہیں ایسے میں ہندوستانی روپئے کی قدر میں مزید گراوٹ درج کی جائیگی ۔ سب سے اہم پہلو یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملک میں گذشتہ کچھ عرصہ سے راست بیرونی سرمایہ کاری کی شرح میں بھی گراوٹ آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ روپئے کی قدر گھٹتی جا رہی ہے ۔ حکومت حالانکہ اس سلسلہ میں دعوی کرتی ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے لیکن اعداد و شمار اس سے مختلف منظر پیش کرتے ہیں ۔ اگر واقعی بیرونی سرمایہ کاری میںاضافہ ہوا ہوتا تو پھر روپئے کی قدر میں اس قدر گراوٹ درج نہیں کی جاتی ۔ اس کے علاو ہ تیل کی قیمتیں بھی ایک مسئلہ بن رہی ہیں جن کی وجہ سے روپئے کی قدر میں گراوٹ آ رہی ہے اور آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا جا رہا ہے ایسے میں روپئے کی قدر گر کر 70 روپئے فی ڈالر سے زیادہ ہوجانے کے خدشے بھی لاحق ہیں۔ اس صورتحال میں اگر حکومت کی جانب سے روپئے کی قدر میں استحکام پیدا کرنے کیلئے فوری طور پر موثر اقدامات نہیں کئے جاتے تو پھر ملک میں معیشت کیلئے بحران کی کیفیت پیدا ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا ۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں بھی مسلسل اضافہ درج کیا جا رہا ہے اور تیل کمپنیوں کی جانب سے تیل کی درآمدات کیلئے ڈالرس میںادائیگی کیلئے اصرار کیا جا رہا ہے ۔ یہ بھی وجہ ہے کہ ڈالر کی قدر میں استحکام پیدا ہورہا ہے اور روپئے کی قدر گھٹتی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ دوسری برآمدات کرنے والی کمپنیاں بھی ہندوستان سے ڈالرس میں ادائیگی کیلئے اصرار کر رہی ہیں۔ اس اصرار کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ بینکنگ شعبہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستانی روپئے کیلئے 69.30 روپئے فی ڈالر کی شرح ایک ایسی حد ہے جس کو پھر بھی سنبھالا جاسکتا ہے لیکن اگر روپئے کی قدر اس سے بھی گھٹ جاتی ہے تو پھر حالات اور بھی بگڑسکتے ہیں اور یہ قدر بہت تیزی سے گھٹتے ہوئے 70 روپئے فی ڈالر کی شرح کو بھی پار کر جائیگی ۔ اگر یہ حد پار ہوگئی تو حکومت کیلئے حالات کو قابو میں کرنا اور مزید بگڑنے سے بچانا زیادہ آسان نہیں رہ جائیگا ۔ عالمی سطح پر کچھ کمپنیوں کی جانب سے امریکی کرنسی کا ذخیرہ کئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں جن کی وجہ سے ڈالرس کی دستیابی آسان بھی نہیں رہ گئی ہے اور اس وجہ سے بھی ڈالر کی قدر میں استحکام پیدا ہو رہا ہے ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے یہ اقدامات کئے جاسکتے ہیں کہ روپئے کی قدر 69.30 روپئے فی ڈالر سے کم نہ ہونے پائے کیونکہ ایک طرح سے معاشی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ خط فاصل ہے اور اس سے نیچے روپئے کی قدر نہیں گرنی چاہئے ۔
امریکہ اور چین کے مابین جو تجارتی اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں ان کی وجہ سے بھی ایشیائی کرنسی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور سب سے زیادہ منفی اثرات ہندوستانی روپئے پر مرتب ہوئے ہیں۔ اندرون ملک معاشی سرگرمیاں پہلے ہی ٹھپ ہوتی جا رہی ہیں۔ نوٹ بندی نے سب سے پہلے منفی اثرات مرتب کئے تھے ۔ اس کے بعد جی ایس ٹی کے نفاذ سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے اندرون ملک عوام کے بجٹ پر اثرات ہوئے تھے اور اب یہ اندیشے لاحق ہوگئے ہیں کہ مابقی کسر روپئے کی گرتی ہوئی شرح پوری کردے گی ۔ مرکزی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا کو قبل از وقت حرکت میں آنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ روپئے کی قدر میں مزید گراوٹ نہ ہونے پائے اور اس گراوٹ کے ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب نہ ہونے پائیں۔

TOPPOPULARRECENT