Tuesday , December 12 2017
Home / جرائم و حادثات / روڈی شیٹر ایوب خان کیخلاف پی ڈی ایکٹ

روڈی شیٹر ایوب خان کیخلاف پی ڈی ایکٹ

جعلی پاسپورٹ پر کئی ممالک کا سفر، گرفتاری میں آئی ٹی سیل کا اہم رول: ڈی سی پی ساؤتھ زون
حیدرآباد ۔ 27 ڈسمبر ۔ (سیاست نیوز) شہر کے بدنام زمانہ روڈی شیٹر ایوب خان عرف ایوب پہلوان کو ممبئی ایرپورٹ سے حیدرآباد منتقلی کے بعد پولیس نے آج میڈیا کے روبرو پیش کیا ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر وی ستیہ نارائنا نے گرفتاری سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اُس کے خلاف کاماٹی پورہ پولیس اسٹیشن میں فرضی پاسپورٹ حاصل کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ کمشنر پولیس آف حیدرآباد مسٹر ایم مہندر ریڈی کی جانب سے روڈی و غنڈہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے پی ڈی ایکٹ نافذ کئے جانے کے خدشہ کے تحت سال 2014 ء میں ایوب خان خلیجی ملک فرار ہوگیا تھا ۔ سال 2010 ء میں علاقہ گولکنڈہ کے عارضی پتہ اور والد جہانگیر خان کا نام تبدیل کرتے ہوئے سعیدالدین خان اور تاریخ پیدائش میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے ایک پاسپورٹ حاصل کیا ۔ بعد ازاں اس پاسپورٹ پر دوبئی ، سعودی عرب ، ملائیشیا، سنگاپور اور انڈونیشیاء کا سفر کیا ۔ جبکہ وہ امریکہ فرار ہونا چاہتا تھا ۔ ڈی سی پی مسٹر ستیہ نارائن نے بتایا کہ روڈی شیٹر ایوب خان کے پاس جملہ تین پاسپورٹ ہے اور سابق میں حاصل کئے گئے دو پاسپورٹ کی تفصیلات کی بناء پر لُک آؤٹ نوٹس کے ذریعہ ملک کے تمام ایرپورٹس کو چوکس کیا جانا بھی فائدہ مند نہیں ہوا اور وہ پولیس کے چنگل سے بچا رہا ۔ وہ اکثر ہندوستان آیا جایا کرتا تھا ۔ حیدرآباد سٹی پولیس کے آئی ٹی سیل نے اپنی توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایوب کے تیسرے پاسپورٹ کا بھی پتہ لگایا اور اس پاسپورٹ نمبر پر تازہ لُک آؤٹ نوٹس جاری کی گئی ، جس کا علم ایوب خان کو نہیں تھا ۔ وہ حسب معمول ممبئی ایرپورٹ سے حیدرآباد آنے کی کوشش کررہا تھا کہ ایمگریشن عہدیداروں نے اُسے گرفتار کرکے حیدرآباد پولیس کے حوالے کردیا ۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ ایوب خان جملہ 72 سنگین وارداتوں بشمول قتل ، ڈکیتی ، آرمس ایکٹ اور دیگر مقدمات میں ملوث ہے جبکہ حسینی علم پولیس اسٹیشن حدود میں سال 2002 ء میں پیش آئے ایڈوکیٹ منان غوری قتل کیس میں اُسے عمرقید کی سزاء ہوئی تھی۔ لیکن اس سزاء کو حیدرآباد ہائیکورٹ نے کالعدم کرتے ہوئے اُسے بری کردیا تھا جس کے بعد وہ فرار ہوگیا۔ ایڈوکیٹ منان غوری قتل کیس میں ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ریاستی حکومت نے مارچ 2015 ء میں اپیل داخل کی ہے ۔ ایوب خان اور اُس کے حریف محمد قیصر گینگ کے درمیان سابق میں کئی گینگ وار پیش آئے تھے جس میں دونوں حریف گروپوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کے قتل کی واردتیں بھی پیش آئی تھیں۔مسٹر ستیہ نارائنا نے مزید بتایا کہ خطرناک راؤڈی شیٹر کے خلاف پی ڈی ایکٹ نافذ کیا جائے گا اور اُسے 10 دن کی پولیس تحویل میں لے کر فرضی پاسپورٹ کی تحقیقات کے علاوہ اُس کے مجرمانہ نیٹ ورک سے متعلق تمام معلومات حاصل کی جائیں گی ۔ اس وقت ایوب کے خلاف شاہ علی بنڈہ اور میلاردیوپلی پولیس اسٹیشن کے دو غیرضمانتی وارنٹ زیرالتواء ہیں اور لینڈ گرابنگ کے کئی مقدمات بھی زیرالتواء بتائے جاتے ہیں۔ ایوب کی بے نامی جائیدادوں اور جبراً طورپر ہڑپ لی گئی ملکیت کا پتہ لگایا جائے گا اور قانونی کارروائی کرتے ہوئے اُنھیں ضبط کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT