’روڈ ریج ‘ کیس میں سدھو کو جرمانہ ‘ جیل کی سزا سے نجات

سپریم کورٹ کا فیصلہ ۔ پنجاب کے وزیر و کانگریس لیڈر کو بڑی راحت

نئی دہلی۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج 1988ء روڈ ریج کیس میں پنجاب کے وزیر سیاحت نوجوت سنگھ سدھو کو ایک 65 سالہ شخص کو دانستہ طور پر گزند پہنچانے پر سزا دی لیکن انہیں جیل کی سزا سے بچایا۔ جسٹس جے چلمیشور اور جسٹس سنجے کشن کول پر مشتمل ایک بینچ نے کہا کہ سدھو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کے سیکشن 325 (دانستہ طور پر نقصان پہنچانے) کے قصوروار ہیں اور اس جرم کیلئے انہیں 1000 روپئے کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ اس بینچ نے کہا کہ ’’ملزم نمبر 1 (سدھو) آئی پی سی کے سیکشن 325 کے قصوروار ہیںت انہیں جیل کی کوئی سزا نہیں دی جاتی لیکن اس جرم کیلئے 1000 روپئے کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ ملزم 2 (روپیندر سنگھ سندھو) کو بری کیا جاتا ہے‘۔ 18 اپریل کو سپریم کورٹ نے اس کیس میں اپنا فیصلہ محفوظ کردیا تھا جس میں سدھو نے دعویٰ کیا تھا کہ گرنم سنگھ کی موت کی وجوہات کے بارے میں شواہد متضاد ہیں اور اس مسئلہ پر جاری رائے ’مبہم اور مشکوک‘ ہے۔ سدھو کے علاوہ جنہوں نے گزشتہ سال پنجاب اسمبلی انتخابات سے چند دن قبل بی جے پی کو چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ روپیندر سنگھ سندھو نے بھی ایک اپیل داخل کی تھی، کو بھی پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ کی جانب سے 2006ء میں تین سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق سدھو اور سندھو 27 ڈسمبر 1988ء کو پٹیالہ میں شیرنوالا گیٹ کراسنگ کے فریب سڑک کے بیچ میں مبینہ طور پر پارک کی گئی ایک جپسی میں تھے جب متوفی اور دیگر دو افراد پیسے نکالنے کیلئے بینک کو جارہے تھے اور جب وہ اس کراسنگ پہنچے تو ماروتی کار ڈرائیور کررہے گرنم سنگھ نے دیکھا کے سڑک کے بیچ میں جپسی ہے اور انہوں نے اس میں موجود سدھو اور سندھو سے اسے ہٹانے کہا جس پر ان میں گرماگرم بحث و تکرار ہوئی۔ پولیس کے ادعا کے مطابق سدھو نے گرنم سنگھ کو زدوکوب کیا تھا جسے دواخانہ لے جانے پر ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT