Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / روہت ویمولہ کی آج برسی پرحیدرآبادیونیورسٹی میںپروگرام

روہت ویمولہ کی آج برسی پرحیدرآبادیونیورسٹی میںپروگرام

رادھیکا ویمولہ ‘ نجیب احمد کے ارکان خاندان ‘ محمد اخلاق کے بھائی اور ظلم کا شکار دلت شرکت کریں گے
حیدرآباد۔16جنوری (پی ٹی آئی) حیدرآباد یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر روہت ویمولہ کی موت کا ایک سال کل مکمل ہورہا ہے اور طلبہ نے پہلی برسی کو ’’ شہادت کا دن ‘‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس موقع پر حیدرآباد یونیورسٹی کے طلبہ یہاں جمع ہوں گے اور کئی پروگرامس منعقد کئے جائیں گے لیکن یونیورسٹی حکام نے آج کہا ہے کہ اس ضمن میں کوئی اجازت حاصل نہیںکی گئی ہے ۔ روہت ویمولہ نے گذشتہ سال 17جنوری کو یونیورسٹی کے ہاسٹل روم میں پھانسی لے لی تھی اور ایک سال پورے ہونے پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار سوشل جسٹس کے بینر تلے طلبہ کا ایک گروپ ’’ روہت یادگار ‘‘ کے پاس جمع ہوگا اور اُسے خراج پیش کرنے کے علاوہ ذات پات و فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد کا عزم کیا جائے گا ۔ پرووائس چانسلر حیدرآباد یونیورسٹی پروفیسر ویپن سریواستو نے کہا کہ اخبارات کے ذریعہ ہمیں ’’ شہادت دن ‘‘ پروگرام کے تعلق سے اطلاع ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جے اے سی نے یونیورسٹی عہدیداروں سے کوئی اجازت حاصل نہیں کی ۔ اگر وہ کسی طرح کے پروگرامس منعقد کریں تو یہ غیر سرکاری ہوں گے ‘ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اجازت حاصل کرنے کے بعد انہیں پروگرامس منعقد کرنے دیا جائے گا ‘ سریواستو نے کہا اس بارے میں غوروخوص کیا جاسکتا ہے اور یہ ایک اجتماعی فیصلہ ہوگا ۔ یونیورسٹی کیمپس میں کل منعقد ہونے والے اس پروگرام میں توقع ہے کہ روہت ویمولہ کی ماں رادھیکا ویمولہ ‘ جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کے ارکان خاندان ‘ محمد اخلاق کے بھائی جان محمد بھی شریک ہوں گے ۔ واضح رہے کہ محمد اخلاق کے گھروالوںکوستمبر 2015ء میں مبینہ طور پر اُن کے مکان میں بیف موجود ہونے کے شبہ پر حملہ کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ اس حملہ میں محمد اخلاق ہلاک ہوگئے ۔ اسکے علاوہ چند دلت بھی شریک ہوں گے جنہیں گذشتہ سال گجرات کے اونا میں نام نہاد گاؤ رکھشکوں نے بری طرح زدوکوب کا نشانہ بنایا تھا ۔ جے اے سی ا رکان نے ’’روہت ویمولہ کیلئے انصاف ‘‘ بینر تلے مختلف سلسلہ وار پروگرامس کا منصوبہ بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ہاسٹلس میں روہت کے پورٹریٹس پر پھول مالا چڑھائی جائے گی اور کل ایک یادگار ریالی بھی منظم کی جائے گی ۔ یونیورسٹی حکام نے گذشتہ سال ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کیمپس میں بیرونی افراد ‘ سیاسی جماعتوں ‘ میڈیا اور سماجی / اسٹوڈنٹس گروپس کے داخلے پر امتناع عائد کردیا تھا ۔ جے اے سی فار سوشل جسٹس نے گذشتہ سال روہت ویمولہ کی موت کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا تھا ۔ جے اے سی کے تحت طلبہ کے ایک گروپ نے اپاراؤ کو وائس چانسلر کے عہدہ سے برطرف کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT