Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / روہت کو خود کشی پر مجبور کرنے کی وجہ بننے کا الزام مسترد

روہت کو خود کشی پر مجبور کرنے کی وجہ بننے کا الزام مسترد

معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ ۔ اے بی وی پی لیڈر نندانم سیشل کمار کا میڈیا کو بیان
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جنوری : ( پی ٹی آئی ) : اے بی وی پی قائد نندانم سشیل کمار نے آج مطالبہ کیا کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں جو کہ دلت ریسرچ اسکالر روہت ویمولا روہت کو خود کشی کیلئے اکسانے کا ذمہ دار ہے اور اس نے روہت اور دیگر ممبران امبیڈکر اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی جانب سے حیدرآباد یونیورسٹی میں عائد کئے جانے والے الزامات کو مسترد کردیا ۔ اس نے کہا کہ روہت کی خود کشی کی وجوہات کا پتہ لگایاجائے ۔ روہت نے کئی لوگوں جیسے مجھ کو مورد الزام ٹھہرایا اور آئندہ دو دنوں میں ہائی کورٹ کی سماعت تھی تو اس کو دباؤ میں آنے کی کیاضرورت تھی ؟ اس کے اطراف فیکلٹی یا طلبہ کیا کررہے تھے ؟ جب وہ دباو کا شکار ہوگیا تو انہوں نے اس کی شناخت نہیں کی ؟ وہ ہم کو لکچرس دیتے ہیں کہ کس طرح دباؤ کے شکار شخص کی شناخت کی جائے ۔ صحافتی نمائندوں کو اس نے یہ تفصیلات بتائیں ۔ اس نے کہا ان لوگوں نے روہت کو دوسرے شخص کے کمرے میں اسکے ساتھ بغیر کسی فرد کے کیوں بھیجا ؟ اس سلسلے میں کئی نکتے ہیں ۔ ان کی صاف و شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور جو کوئی بھی اس میں مجرم قرار پائے چاہے وہ میں ہوں یا پھر کوئی اور اس کو سزا دی جائے ۔ اس نے کہا کہ وہ اس بات کے ریکارڈس پیش کرسکتا ہے کہ وہ ہاسپٹل میں شریک ہوا اور زیر آپریشن رہا ۔ مجھے نہیں معلوم کہ حیدرآباد پولیس کیا کہہ رہی ہے مگر میں ہاسپٹل میں شریک ہوا تھا اور آپ میرے جسم پر زخم دیکھ سکتے ہیں اور آپ میرے آپریشن کے نشانات بھی دیکھ سکتے ہیں جو خارجی نہیں بلکہ اس کے سرٹیفیکٹس بتا سکتے ہیں کہ میں نے آپریشن کروایا ۔ یونیورسٹی نے اگست میں ایک بیان میں کہا تھا کہ اے ایس اے طلبہ اور اے بی وی پی کے سشیل کمار لڑائی میں شامل تھے جو آخر کار عدالت سے رجوع ہوئے ۔ روہت جسکی نعش ہاسٹل کے کمرے میں گذشتہ اتوار کو لٹکی ہوئی پائی گئی ان پانچ ریسرچ اسکالرس میں تھا جنہیں گذشتہ سال اگست میں یونیورسٹی کی جانب سے معطل کردیا گیا تھا اور اے بی وی پی قائد پر مبینہ حملہ کے معاملہ میں ملزم تھا ۔

TOPPOPULARRECENT