Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / روہت کی خودکشی پر دونوں تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس کی خاموشی افسوسناک

روہت کی خودکشی پر دونوں تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس کی خاموشی افسوسناک

حیدرآباد /20 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس نے روہت خودکشی معاملہ پر دونوں تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس چندر شکھر راؤ اور چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے ردعمل ظاہر نہ کرنے کی سخت مذمت کی اور مقدمہ درج ہونے کے باوجود مرکزی وزیر دتا تریہ کو گرفتار کرنے کی بجائے ان کی سیکورٹی میں اضافہ پر تعجب کا اظہار کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان پردیش کانگریس شرون کمار نے کہا کہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر کی خودکشی پر سارے ملک میں احتجاج ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ راہول گاندھی، سیتارام یچوری، جگن موہن ریڈی کے علاوہ مختلف جماعتوں کے قائدین یونیورسٹی پہنچ کر احتجاجی طلبہ کے ساتھ اظہار یگانگت کر رہے ہیں، مگر چیف منسٹر تلنگانہ اور چیف منسٹر آندھرا پردیش نے اس واقعہ پر اب تک اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تلگودیشم اور بی جے پی کے درمیان تو اتحاد ہے، لیکن چیف منسٹر تلنگانہ کی خاموشی اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ وہ بھی بی جے پی کے ساتھ ساز باز کرچکے ہیں، جس کی وجہ سے خودکشی کے ذمہ دار بنڈارو دتاتریہ اور سمرتی ایرانی کے خلاف ریمارکس نہیں کئے جا رہے ہیں، جب کہ بنڈارو دتاتریہ کی سیکورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسز کویتا کے علاوہ ٹی آر ایس کے کسی بھی قائد یا اس علاقہ کے رکن پارلیمنٹ، یہاں تک کہ ٹی آر ایس بلدی انتخابی امور کے انچارج وزیر کے ٹی آر روزانہ وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن روہت کی خودکشی کے معاملے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ وزیر تعلیم اور گورنر کی خاموشی بھی معنی خیز ہے، جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مرکز کے علاوہ دونوں تلگو ریاستی حکومتیں بھی دلت مخالف ہیں، کیونکہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی بجائے انھیں بچایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ طلبہ کو انصاف دِلانے تک کانگریس پارٹی ان کے احتجاج کی مکمل تائید کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT