Sunday , November 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / روہت کی خودکشی کے ذمہ داروں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ

روہت کی خودکشی کے ذمہ داروں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ

کریم نگر میں طلبہ کا زبردست احتجاج، آر ایس ایس سے ملحقہ تنظیموں کے خلاف کارروائی پر زور

کریم نگر۔/27جنوری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ریسرچ طالب علم روہت ویمولا کی خودکشی کے ذمہ داروں کے خلاف فوری سخت کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا جائے اور مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں سزاء دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار سوشیل جسٹس و بہوجن اسٹوڈنٹ فیڈریشن ( بی ایس ایف ) کی ہدایت پر کل ہند یونیورسٹی بند کے تحت کریم نگر میں شاتاواہانہ یونیورسٹی سے ملحقہ کالجوں میں بند کامیاب ہوا ہے۔ بہوجنا اسٹوڈنٹ فیڈریشن بی ایس ایف ریاستی صدر جوائنٹ ایکشن کمیٹی چیرمین جکا پلی گنیش کی صدارت میں تلنگانہ چوراہے سے موٹرسیکل ریالی نکالی گئی اور شاتاواہانہ یونیورسٹی کالج ڈگری پی جی کالجوں میں کلاسیس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے بند کو کامیاب کیا گیا۔ بعد ازاں شاتاواہانہ یونیورسٹی کے مین گیٹ کے روبرو مختلف طلباء کی انجمنوں کے ساتھ مرکزی حکومت کا پتلہ نذر آتش کیا گیا۔ تلنگانہ چوراہے میں راستہ روکو منظم کیا گیا۔ مرکزی وزراء سمرتی ایرانی، بنڈارو دتاتریہ، اے بی وی پی، آر ایس ایس، بی جے پی کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی جس کے باعث تقریباً دو گھنٹوں تک ٹریفک میں خلل پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے چاروں طرف گاڑیوں کی قطاریں بڑھتی گئیں۔ ون ٹاؤن اے ایس آئی مسٹر ساگر نے وہاں پہنچ کر بی ایس ایف قائدین کو حراست میں لے لیا اور بعد ازاں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ اس موقع پر بہوجن اسٹوڈنٹ فیڈریشن ( بی ایس ایف ) ریاستی صدر جوائنٹ ایکشن کمیٹی چیرمین جی گنیش نے کہا کہ فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والوں اور اے بی وی پی، آر ایس ایس اور بی جے پی  کی کارستانیوں کے سبب  ریسرچ اسکالر طالب علم روہت ویمولا دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرنے پر مجبور ہوگیا اور اس کی موت کا سبب بننے والے سبھی قصورواروں بنڈارودتاتریہ، سمرتی ایرانی، وی سی اپا راؤ، اے بی وی پی، آر ایس ایس سے متعلق تمام ذیلی تنظیموں سنگھموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ روہت کی موت کو قتل کہا جاسکتا ہے، ریاستی حکومت کا توجہ نہ دینا اور اس سلسلہ میں کسی بھی قسم کا ردعمل ظاہر نہ کرنا انتہائی تعجب خیز اور شرمناک ہے۔ روہت کی خودکشی کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیئے اس میں مزید تاخیر پر ہم اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا انتباہ دیا گیا۔ ماننگی دینیش، ایس پرننے ماننگی، دلیپ ، راجیش، سریندر، مہیش اور دوسرے موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT