Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / روہت کی موت ‘ دلت مسلم اتحاد کیلئے اٹھنے والی آواز کو خاموش کردیا گیا

روہت کی موت ‘ دلت مسلم اتحاد کیلئے اٹھنے والی آواز کو خاموش کردیا گیا

کشمیری نوجوان کی خود کشی اور یعقوب میمن کو پھانسی پر احتجاج ‘ مظفر نگر فساد کے خلاف ڈاکیومنٹری سے فرقہ پرست خوفزدہ تھے
حیدرآباد 18 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں کل شام ایک دلت طالب علم کی خود کشی ایک معمول کے مطابق پیش آنے والا واقعہ نہیں ہے ۔ اس واقعہ کے پس پردہ محرکات بھی کئی ہیں اور اس کے اثرات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جس دلت طالب علم نے خود کشی کی ہے وہ یونیورسٹی میں تعلیم پانے والے دوسرے طلبا سے قدرے مختلف تھا اور اس نے ہندوستان میں دلت ۔ مسلم اتحاد کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے دلت ۔ مسلمانوں کو ٹکراؤ پر مجبور کرنے والی طاقتوں کے خلاف تن تنہا جدوجہد شروع کر رکھی تھی ۔ اس نوجوان کی سنجیدہ مہم اور جدوجہد سے ایسا لگتا ہے کہ سرکاری حلقے اور خاص طور پر دلت ۔ مسلم اتحاد کی کوششوں سے بے چین طبقات خوفزدہ ہوگئے تھے ۔ یہ عناصر اپنے ناپاک عزائم و مقاصد کی تکمیل کیلئے ملک میں مختلف مقامات پر دلتوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف ٹکراؤ کیلئے اکسا رہے ہیں اور ایسا حالات پیدا کئے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں مظفرنگر جیسے فسادات پیش آ رہے ہیں۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں خود کشی کرنے والا طالب علم روہت ان حالات پر بے چین تھا ۔ وہ سماج میں مساوات کو یقینی بنانے اور دلتوں اور مسلمانوں سے ہونے والی نا انصافیوں کو ختم کرنے کیلئے خاموش جدوجہد میں مصروف تھا ۔ اس کی خاموش اور تن تنہا جدوجہد نے اقتدار کے ایوانوں تک کی توجہ حاصل کرلی تھی ۔ اس نوجوان روہت نے سب سے پہلے ایفلو ( انگلش اینڈ فارن لینگویجس یونیورسٹی ) میں ایک کشمیری نوجوان مدثر کامران کی امتیازی سلوک سے تنگ آکر کی گئی خود کشی کے خلاف بے چینی محسوس کی تھی ۔ کشمیری نوجوان کے حق میں اس نے احتجاج کی راہ بھی اختیار کی تھی ۔ اس کے علاوہ روہت ویمولا اور اس کے ساتھی دلت طلبا نے ممبئی بم دھماکوں کے مقدمہ میں یعقوب میمن کی پھانسی کے خلاف بھی احتجاج کیا تھا ۔ یعقوب میمن کو پھانسی کے خلاف مختلف گوشوں سے آوازیں اٹھی تھیں اور روہت اور اس کے ساتھیوں کی امبیڈکر اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن نے بھی یونیورسٹی کے احاطہ میں احتجاج کیاتھا ۔ اس کے علاوہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ آنجہانی روہت ویمولا مظفر نگر فسادات میں دلتوں اور مسلمانوں کو ٹکراؤ کیلئے مجبور کرنے کی کوششوں پر بھی بے چین تھا ۔ ان سب واقعات کے خلاف اس نے ایک دستاویزی فلم تیار کرنا شروع کردیا تھا ۔ اس میں دلتوں اور مسلمانوں کے اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے علاوہ انہیں ٹکراؤ پر مجبور کرنے والے عناصر کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ روہت دستاویزی فلم میں یہ اجاگر کرنا چاہتا تھا کہ بی جے پی کس طرح سے دلتوں اور مسلمانوں کو باہم ٹکراؤ پر مجبور کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اس پر کس طرح سے عمل کیا جا رہا ہے ۔ اس نے اندیشے ظاہر کئے تھے کہ مظفر نگر جیسے فسادات ملک کے مزید شہروں میں بھی ہوسکتے ہیں۔ جب اس نوجوان نے یعقوب میمن کی پھانسی کے خلاف احتجاج کیا تو مرکزی وزرا بھی اس کے خلاف سرگرم ہوگئے ۔ پہلے تو اے بی وی پی کے کارکنوں نے انہیں نشانہ بنانا شروع کیا ۔ سوشیل میڈیا پر ان کے خلاف ریمارکس کئے جانے لگے ۔ روہت اور اس کے ساتھیوں پر حملوں کا الزام عائد کرکے ہراساں کیا گیا ۔ تاہم یونیورسٹی کی تحقیقات میں ان طلبا کو حملوں کے الزام سے پہلے تو بری کیا گیا لیکن جب مرکزی وزرا کا دباؤ پڑا تو بورڈ نے اندرون چند یوم اپنا موقف بدلا اور روہت اور اس کے ساتھیوں پر بدسلوکی کا الزام عائد کیا ۔ علاوہ ازیں بورڈ نے روہت اور اس کے ساتھیوں کو معطل کردینے کا بھی فیصلہ کیا تھا ۔ طلبا کا الزام تھا کہ بورڈ نے بی جے پی کے قانون ساز کونسل رکن این رامچندر راؤ کے دباؤ میں آکر اپنا موقف بدلا تھا ۔ امبیڈکر اسٹوڈنٹس یونین کے احتجاج کے بعد یونیورسٹی کے اس وقت کے انچارچ وائس چانسلر آر پی شرما نے ایک اور تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی اور ان طلبا کی معطلی کو برخواست کردیا تھا ۔ نئی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی دلت طلبا ہی کو نشانہ بنایا اور ان کی معطلی کو برقرار رکھا ۔ کمیٹی کا استدلال تھا کہ بورڈ کے سابقہ فیصلہ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ایک دستوری ادارہ ہے ۔ اس موقع پر طلبا نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ سال 17 اگسٹ کو مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ نے مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل اسمرتی ایرانی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا تھا کہ حیدرآباد یونیورسٹی ذات پات کی سیاست ‘ تخریب کاری کی سیاست اور قوم مخالف سیاست کا مرکز بن گئی ہے اور انتظامیہ خاموش تماشائی ہے ۔ ذرائع کا ادعا ہے کہ دتاتریہ کے مکتوب کے بعد ہی یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے موقف میں مزید سختی پیدا کی اور اپنے اقدامات سے دلت طلبا کو ہراسانی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے بھی دتاتریہ کی تائید میں ایک مکتوب یونیورسٹی کو روانہ کیا تھا اور دتاتریہ اور اسمرتی ایرانی کے مکتوب ہی دلت طلبا کی معطلی کی وجہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT