Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / روہت کی موت سے طلباء میں پیدا اتحاد سے انقلاب برپا ہوگا

روہت کی موت سے طلباء میں پیدا اتحاد سے انقلاب برپا ہوگا

خود کشی بڑی سازش کا نتیجہ ، غدر ، وامن مشرام ، ظہیر الدین علی خاں و عامر علی خاں کی طلباء سے ملاقات
حیدرآباد۔21جنوری(سیاست نیوز ) دلت مسلم قائدین کے ایک وفد نے آج حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی پہنچ کر روہت ویمولہ کی خودکشی کے خلاف پچھلے دو روز سے غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے حیدرآباد سنٹر ل یونیورسٹی طلبہ سے ملاقات کی اور اظہار یگانگت بھی کیا۔ انقلابی گلوکار غدر کی قیادت میںبامسیف کے قومی صدر ومن مشرام‘ منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب ظہیر الدین علی خان‘ نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان ‘مولانا حسین شہید‘عثمان بن محمد الہاجری صدر دکن وقف پروٹکشن سوسائٹی‘ سلیم باشاہ ‘ افتخار احمد ایڈوکیٹ اور دیگر حیدرآباد سنٹر ل یونیورسٹی پہنچ کر احتجاج کے ذریعہ روہت ویمولہ اوران کے چارمعطل ساتھیوںکے ساتھ انصاف کا مطالبہ کررہے طلبا سے اظہار یگانگت کیا۔ اور مزیدچار معطل یونیورسٹی طلبہ سے ملاقات کرتے ہوئے واقعہ کے حقائق سے آگاہی حاصل کی ۔بعدازاں یونیورسٹی طلبہ کی کثیرتعداد سے خطاب کرتے ہوئے انقلابی گلوکار غدر نے احتجاج کررہے طلبہ کی ہمت افزائی کرتے ہوئے بتایا کہ دشمن سے مقابلہ کرنے کا طریقہ دشمن ہی سکھا تا ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اب دشمن نے ایک قابل او رہونہار طالب علم روہت اور اس کے چار ساتھیوں کواس قدر پریشان کیاکہ انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے روہت ویمولہ نے اپنی جان دیدی مگر یونیورسٹی انتظامیہ روہت ویمولہ کی موت سے آنے والے انقلاب سے بے خبر ہے کیونکہ پچھلے دودنوں میں جو ہندوستان بھر کی یونیورسٹیوں میںطلبہ کے اندر اتحاد پیدا ہوا ہے وہ یقینی طور پر ایک انقلاب میں تبدیل ہوگا جو نہ صرف یونیورسٹی انتظامیہ بلکہ قومی او رریاستی سیاست دانوں کے لئے بھی ایک خطرہ کی گھنٹی سے کم نہیں ہے ۔ غدر نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے یوینورسٹی سے معطل کئے جانے والے پانچ پی ایچ ڈی اسکالرس میںسے ایک اسکالر گم ہوگیاہے اور یونیورسٹی ہمارے اس ہونہار اسکالرکو تلاش کرے ۔ قومی صدر بام سیف وامن مشرام نے اپنی تقریر کے دوران کہاکہ ایک ماہ قبل روہت ویمولہ نے وائس چانسلر کو ایک چٹھی لکھ کر کہاکہ تھا کہ دلت طلبہ کویاتو آپ زہر دیدیں کھانے کے لئے یا پھر ایک رسی دیں تاکہ وہ اپنے کلاس میںپھانسی لیکر اپنی جان دیدیں باوجود اسکے وائس چانسلر کی جانب سے کسی بھی قسم کا کوئی ردعمل پیش نہیں آیااور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ روہت ویمولہ کی خودکشی کے پیچھے ایک بڑی سازش کارفرما ہے جس کا مقصد ساوتھ انڈیا میںہندو مسلم منافرت پھیلانے میں ناکامی کے بعد اب بی سی او رایس سی کے درمیان میںنفرت پھیلاکر مذکورہ طبقات کو آپس میںدست و گریباں کرنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسی سلسلہ کی کڑی میں سمیرتی ایرانی کا وہ بیان بھی دیکھاجائے گا جس میںانہوں نے اے بی وی پی قائد سشیل‘ مرکزی وزیر دتاتریہ اور روہت ویمولہ کو بی سی قراردیتے ہوئے اپنے نظریہ کو عام کرنے کی کوشش کی ہے ۔ قبل ازیں تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی چیرمن پروفیسر کودنڈارام نے علیحدہ طور پر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی پہنچ کر طلبہ سے اظہاریگانگت کیا اور واقعہ کی سختی کے ساتھ مذمت کی ۔

TOPPOPULARRECENT